جب کسی ملک میں اقتدار پر قابض ہونا ہی اہم ہو جائے اور اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا چلن عام ہو جائے تب اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو کبھی کشمیر میں نظر آتا ہے تو کبھی پنجاب میں۔
24 فروری کو پنجاب میں جو کچھ ہوا وہ صرف ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تعلق ماضی سے بھی ہے حال سے بھی اور مستقبل سے بھی۔ہمیں پنجاب اور کشمیر کو ملک کی دوسری ریاستوں کی فہرست سے باہر نکال کر دیکھنا ہوگا کیونکہ ان دونوں ریاستوں کا ماضی خونی احتجاج کا سمبل رہا ہے اور ہمارے ملک اور ملک کے شہریوں کو یہاں امن کے قیام کے لئے بڑی قربانیاں دینی پڑی ہیں۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پنجاب بار بار شدت پسندی کی فصل اگانے لگتا ہے ؟یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ پنجاب نہ صرف کشمیر سے جڑا ہوا ہے بلکہ ان دونوں ریاستوں کی سرحد پاکستان سے ملتی ہیں۔ایسے میں ان سرحدی ریاستوں پر وزارت داخلہ کی ایجنسیوں کی خاص نظر رہتی ہیں۔اور وقت وقت پر وزارت داخلہ وہاں کے قانون اور انتظامیہ کو چاق وچوبند کرنے کے لئے کوشاں بھی رہتا ہے۔سرحدی ریاست ہونے کی وجہ سے پنجاب میں ہونے والے کسی بھی ریڈیکل ایکسرسائز پر بھی نیشنل سیکورٹی ایجنسیوں کی خاص نظر ہوتی ہے اور وہ اس کی رپورٹ بھی وزارت داخلہ اور پی ایم او آفس کو دیتے رہتے ہیں۔لیکن پھر ایسا کیوں ہوا کہ ایک شخص جو ایک طویل عرصہ سے دبئی میں اپنا کاروبار کر رہا تھا یکایک سوشل میڈیا کے ذریعہ اس وقت سامنے آتا ہے جب دہلی کے بارڈر پر کسانوں کے احتجاج کے دوران ایک ریلی نکلتی ہے اور اس ریلی کی آڑ میں دیپ سندھو نام کا ایک شخص اپنے چند حواریوں کے ساتھ سیدھے لال قلعہ پہنچ کر اس کی فصیل پر سکھ مذہب کا نشان نصب کر دیتا ہے۔اور دبئی میں بیٹھ کر امرت پال سنگھ نام کا وہ نوجوان بظاہر سوشل میڈیا کے ذریعہ دیپ سندھو کو سکھ مذہب کا ہیرو قرار دیتا ہے۔اس واقعے کے بعد فوری طور پر ایک سیاسی نیریشن فلیش ہوتا ہے اور بھارت کی میڈیا دیپ سندھو کے اس اقدام کو کسانوں کے احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جلد ہی اس نیریشن کی ہوا اس وقت نکل جاتی ہے جب کسان آندولن کی لیڈر شپ دیپ سندھو اور اس کے ساتھیوں سے اپنی برا ت کا اعلان کر دیتی ہے اور اس سلسلے میں ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی ،بات اس وقت بھی ختم نہیں ہوتی جب دیپ سندھو ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو جاتاہے۔کیونکہ دبئی میں بیٹھا امرت پال سنگھ واپس پنجاب آجاتا ہے اور مسلسل اپنے مشن کو آگے بڑھاتا ہوا باضابطہ خالصتان تحریک کو ایک بار پھر سے پنجاب میں زندہ کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔لو پریت سنگھ طوفان جس کی رہائی کے لئے 24 فروری کو پنجاب کے اجنالہ میں ایک تھانے کو ایک بڑے ہجوم کے ساتھ گھیر کر امرت پال سنگھ بالآخر آزاد کرا لیتا ہے وہ اس کا داہنا ہاتھ ہے اور وہ بھی خالصتانی تحریک کو از سرنو زندہ کرنے میں امرت پال سنگھ کا معاون ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک خونی خالصتانی تحریک اتنی ہی غیر اہم ہے کہ اس کی راکھ سے چنگاریاں پھوٹتی ہوئی دیکھنے کے باوجود ہماری سیکورٹی ایجنسیاں ایکشن میں میں نہیں آتیں ؟کیا سچ مچ مر کزی اور ریاستی سرکار آپریشن بلیو اسٹار اور اس کے بعد ملک کی وزیر اعظم کے قتل کو بھول چکی ہیں ؟ آج پنجاب کے ہر شخص کا یہ کہنا ہے کہ دبئی سے آنے کے بعد امرت پال سنگھ خود کو بھنڈروالے کے طور پر قائم کر رہا ہے اور ایک ریڈیکل موومنٹ دھڑلے سے چلا رہا ہے۔سرکار کو دیکھنا چاہئے کہ جس طرح بھنڈروالے نے خود کو سورن مندر میں محصور کر کے پنجاب میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا تھا آج امرت پال سنگھ گرو گرنتھ صاحب کو اپنی ڈھال بنا کر کھلے عام مظاہرے کر رہا ہے اور پولیس اس پر اس لئے ایکشن نہیں لیتی کہ کہیں گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی نہ ہوجائے۔یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ اس سے قبل کبھی بھی گرو گرنتھ صاحب کا استعمال ڈھال کے طورپر خود خالصتان تحریک کے لوگوں نے بھی نہیں کیا۔اور کیا سکھ مذہب کے باشعور لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کس طرح یہ مٹھی بھر شدت پسند لوگ گرو گرنتھ صاحب جسے سکھ قوم جاندار سمجھتی ہے۔اور ان کی آستھا اس سے جڑی ہوئی ہے کا بیجا استعمال کررہا ہے۔
پنجاب کی سرکار جس کے سربراہ بھی ایک سکھ ہیں اور جن کا تعلق پنجاب کی زمینی حقائق سے ہے کو اس سلسلے میں سنجیدگی سے سیاست کرنی چاہئے کیونکہ ان کی پارٹی پر پہلے سے ہی خالصتان حمایتی ہونے کا الزام عائد ہو چکا ہے۔مرکزی حکومت کو بھی سیاست سے اوپر اٹھ کر پنجاب معاملے کو دیکھنا ہوگا۔یہ وقت سیاسی انتقام کا نہیں ہے کیونکہ علیحدگی پسندی کی جو چنگاری اجنالہ میں پھوٹی ہے اگر اس کے شرارے پورے پنجاب میں پھیل گئے تو ملک کی سالمیت کے لئے ایک زبردست چیلنج کھڑا ہو سکتا ہے۔کسی بھی مذہبی تنازعہ سے خود کو الگ رکھ کر سیاست کرنے والے اروند کجریوال کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ابھی تک ان کا سابقہ ایسے معاملات سے نہیں پڑا ہے لیکن پنجاب میں انہیں قدم قدم پر اس کا سامنا ہوگا۔ایسے میں اگر انہوں نے اس سلسلے میں کامیابی حاصل کر لی تو انہیں پورے ملک کی ہمدردی حاصل ہوگی۔












