ملک کی پارلیمنٹ میں پچھلے کئی دنوں سے ایک بڑے سرمایہ داراور وزیر اعظم مودی کی ’دوستی‘و’ تعلقات‘ کی بحث ابھی پوری طرح سرد بھی نہیں پڑی تھی کہ ایک دن پہلے بی بی سی کے دفاتر میںانکم ٹیکس کے چھاپے اور تلاشی کی خبروں نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جس میں مودی حکومت ہی ایک بار پھر ہدف تنقید بنی ہوئی ہے اور اس سے سوال پوچھے جارہے ہیں ۔پارلیمنٹ میں ہنڈن برگ کی رپورٹ پر اپوزیشن کے سوالوں سے عاجز حکومت سے اب سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ آخر انکم ٹیکس محکمہ کو بی بی سی کے دفاتر میں کیا تلاش کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے اوراس کا مقصد کیا ہے ؟ ۔اس لئے بحث کی سوئی اسی موضوع کی طرف آکر رک جاتی ہے جس پر پورے ملک کی توجہ پچھلے پندرہ دن قبل مرکوز ہو کر رہ گئی تھی ۔یہ الگ بات ہے کہ پٹھان فلم کے تنازع کے پردے میں یہ خبر سرد پڑ گئی تھی اور حکومت نے اس ڈاکومنٹری پر پابندی لگا دی تھی ۔
مرکزی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ دستاویزی فلم یک طرفہ نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے ۔لیکن بی بی سی کی ڈاکومنٹری پر پابندی لگادینے کے باوجود جے این یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں کے کچھ طلباء بہ بانگ دہل اس دستاویزی فلم کی اسکریننگ پر ڈٹے ہوئے تھے ،جس کی پاداش میں انہیں پولس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔وہیں دوسری طرف اپوزیشن حکومت سے سوال پوچھ رہا تھا اور ناقدین کا بڑا طبقہ و صحافی تنظیمیں ، وزیر اعظم کے پابندی لگانے کے قدم کی کھل کر مذمت کرررہی تھیں ۔یہ بات الگ ہے کہ اپوزیشن جماعت اور ان کے بعض لیڈروں کے سوال اب تک تشنہ ہی رہے !۔ان کا حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل سکا۔ایسے میں یہ قیاس لگایا جانا کہ کیا یہ کارروائی کہیں کوئی انتقامی جذبے سے تو انجام نہیں دی گئی غلط نہیں کہا جاسکتا !۔واضح رہے کہ ایک دن پہلے منگل کو وزیر اعظم مودی کے گجرات دور حکومت میں گودھرا فسادات پر تیار کردہ دستاویزی فلم کوملک کی کئی زبانوں میں نشر کرنے والے ادارہ بی بی سی کے دہلی اور ممبئی میں دفاتر پر چھاپے مارے گئے ہیںاور ان کی تلاشی لی گئی ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیم کی یہ تلاشی مہم دن بھر چلی اور اس دوران ملازمین کے فون بھی دفتر میں جمع کرالئے گئے اور دفاتر میں کسی کے بھی آنے جانے پر روک لگا دی گئی ۔ایک رپورٹ سے بعد میں معلوم ہوا کہ بعد میں ملازمین کو گھر بھیج دیا گیا۔الغرض کافی دیر بعد عقدہ یہ کھلا کہ یہ معاملہ بین الاقوامی ٹیکس چوری سے متعلق ہے ۔لیکن چو طرفہ گھرنے کے بعد بی جے پی کا کہنا ہے کہ جب کوئی تنظیم غیر قانونی کام کریگی تو اس کے خلاف تحقیقات ہونی ضروری ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ’ میڈیا ‘سارادن اس کارروائی کو بی بی سی کے بارے میں ایک ’سروے ‘بتانے میں لگا رہا !۔لیکن اس کا یہ جواب کسی کے گلے سے نہیں اتر سکا ۔بہر کیف اس کارروائی کو مبصرین ، سیاسی حلقے اور و دانشور وں و صحافیوں کا بڑا طبقہ بی بی سی کی دستاویز ی فلم سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان میں بی بی سی کے خلاف یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نشریاتی ادارے نے کچھ عرصہ قبل ٹیلی ویڑن پر دو حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ‘انڈیا’’ دی مودی کوئسچن‘‘ کو شائع کر کے ہنگامہ بپا کر دیاتھا ۔جس پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا ۔ حکومت نے آنا فانا سوشل میڈیا پر اس کی نشریات پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے ہندوستان کیخلاف جارحانہ پروپیگنڈہ قرار دے دیا تھالیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت سے سوال پوچھنے شروع کردئے تھے اور پورا معاملہ پارلیمنٹری سیشن میں بھی گرمایا رہا ۔اب بی بی سی کے دفاتر میں کارروائی پر ناقدین اور اپوزیشن اسے استعماری ذہنیت کی شرارت قرار دے رہے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے ٹویٹ کیا ہے کہ’’بی بی سی کے دفاتر پر انکم ٹیکس کا چھاپہ مایوسی کا نتیجہ لگتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ مودی حکومت تنقید سے خوفزدہ ہے‘‘۔’’ ہم دھمکی کے ان ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ مزید نہیں چل سکتا‘‘۔پارٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے بھی حکومت کے اس قدم پر تنقید کی ہے۔ٹی ایم سی رکن پارلیمنت مہوا موئترا نے کہا ’’بی بی سی کے دہلی دفتر میں انکم ٹیکس کے چھاپے کی خبر ہے۔ بہت خوب۔ غیر متوقع!‘‘سرکردہ صحافتی تنظیمیں بھی اس کارروائی پر اپنا شدید ردعمل دے رہی ہیں۔ایڈیٹرز گلڈ نے کہا ہے کہ’’ یہ سرکاری اداروں کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت پر تنقید کرنے والی میڈیا تنظیموں کے خلاف دھمکیانے اور ہراساں کرنے کے رجحان کا حصہ ہے۔‘‘ان کے برخلافبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس تنقید سے آگ بگولہ ہے ۔ پارٹی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ’’ ہندوستان میں کام کرنے والی کسی بھی میڈیا تنظیم کو ملک کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے‘‘ تاہم محکمہ انکم ٹیکس نے اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔بہر حال ،یہ معاملہ اب پھر گرم ہے ۔اپوزیشن کی طرف سے پہلے کہا جارہا تھا کہ حکومت کا پابندی لگانا کا قدم نا مناسب ہے ۔ وہیں اب محکمہ کی کارروائی پر کہا جارہا ہے کہ یہ حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے !۔جبکہ دیکھا جائے تو یہ کارروائی انکم ٹیکس کی طرف سے تھی!۔ ظاہر سی بات ہے کہ اپوزیشن اس کی کڑیاں ڈاکیومنٹری سے ملا رہا ہے اوراس کی زبان کو کیسے روکا جاسکتا ہے! ،لہذاا س سے حکومت کی مزید کرکری ہوگئی ہے ۔












