نئی دہلی ، کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے، تمام پارٹیاں اور ان کے امیدوار اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔دریں اثناء کرناٹک میں بی جے پی ایم ایل اے اور امیدوار بسوانا گوڑا پاٹل یتنال نے ایسی بات کہی ہے جس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہندوؤں کے خلاف بات کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔ان کا کیمرے پر دیا گیا یہ بیان وائرل ہو رہا ہے اور ریاست کی سیاست میں سرگرم اپوزیشن پارٹیاں ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ درحقیقت، وجئے پورہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاٹل نے کہا، اگر آپ ہندوستان میں ہمارے عقیدے کے خلاف، یا ہندوستان کے خلاف، یا ہندوؤں کے خلاف بات کرتے ہیں تو آپ کو گولی مار دی جائے گی۔بسوانا گوڑا پاٹل نے یہ بیان یوپی میں عتیق قتل عام کی مثال دیتے ہوئے دیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ مبینہ گینگسٹر اور سیاست دان عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کو تین حملہ آوروں نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ پولیس کی حراست میں میڈیکل چیک اپ کے لیے جا رہے تھے۔یتنل نے کہا کہ اگر کرناٹک کے لوگ بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے ووٹ دیتے ہیں، تو وہ دوبارہ اقتدار میں آنے پر کرناٹک میں یوگی آدتیہ ناتھ کے انداز کو نافذ کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بی جے پی کے خلاف بولے گا تو ہم اس کے ساتھ ویسا ہی کریں گے جو یوپی میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی بھارت کے خلاف بات کرے گا اس کا سامنا کیا جائے گا۔ ہم انہیں جیل نہیں لے کر جائیں گے، بلکہ سارا فیصلہ سڑک پر ہی ہوگا۔ کرناٹک میں جیسے جیسے ووٹنگ کے دن قریب آ رہے ہیں، بی جے پی لیڈروں کے بیانات جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس سے پہلے بی جے پی کے سینئر لیڈر کے ایس ایشورپا نے اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔
بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی وجہ سے لوگ خاص طور پر امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ پریشان ہوجاتے ہیں۔سیاسی مبصرین اسے بی جے کی بوکھلاہٹ قرار دے رہے ہیں ۔ان دنوں بی جے پی کے نشانے پر یا تو راہل گاندھی ہیں یا پھر بی جے پی کے سابق وزیر اعلی اور دوسرے نمبر کے لنگایت سماج کے لیڈر جگدیش شٹار جو بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور دھاڑ واڑ سے انتخابی میدان میں ہیں ۔
اس آخری مرحلے میں بی جے پی کے سینئر لیڈر ان کا نام لے لے کر انہیں کوس رہے ہیں ۔حالانکہ اپنی ایک انتخابی ریلی میں امت شاہ نے کہا کہ شٹار کے کانگریس میں جانے سے بی جے پی کا کچھ نہیں بگڑیگا کیونکہ ہمارے ووٹ ہمارے ساتھ ہیں ۔لیکن اس کے باوجود گذشتہ روز مرکزی لیڈر اسمرتی ایرانی نے ان کا براہ راست نام لے کر کہا کہ جگدیش شٹار نے کانگریس جوائن کر کے بی جے پی کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ۔سابق وزیر اعلی اور کرناٹک انتخاب کے سب سے بڑے ہیرو ایس یدی یو رپا جنہیں لنگایت سماج کا سب سے بڑا لیڈر سمجھا جاتا ہے اب اب وہ بھی جگدیش شٹار پر براہ راست حملے کر رہے ہیں ۔حال ہی میں انہوں نے لنگایت سماج کے لوگوں کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی اور لنگایت سماج سے گذارش بھی کی کہ کسی بھی قیمت پر جگدیش شٹار کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے ۔دوسری طرف جگدیش شٹار جن کی کرناٹک میں ایک صاف ستھری شبیہ ہے انہوں نے بی جے کے ذریعہ کئے جانے حملوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے کی لیڈر شپ یہ جواب دیگی کہ آخر میرا ٹکٹ کیوں کاٹا گیا جبکہ نہ تو مجھ پر کسی بدعنوانی کا الصام ہے اور نہ ہی کمیشن خوری کا ۔انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ساتھیوں نے مل کر کرناٹک میں بی جے پی کو مضبوط کیا اور ایسے ایسے علاقوں تک بی جے پی کو پہنچا دیا جہاں بی جے پی کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا ۔ کرناٹک انتخاب کے نتائج جو بھی ہوں فی الحال کرناٹک کے سیاسی سمندر میں طوفان آیا ہوا ہے اور یہ اس وقت تھمے گا جب 13مئی کو نتائج آئینگے ۔












