اسرائیل کی ہٹ دھرمی اورسفاکی کی پشت پر امریکہ اورمغربی طاقتیں ہیں۔ یہ بات دنیا کو اب سمجھ میں آنے لگی ہے کہ آخر امریکہ ،جرمنی اوربرطانیہ وغیرہ صہیونیوں پر گزشتہ پچھتر برسوں سے کیوں اتنے مہربان ہیں؟متحدہ اقوام نے جتنی بھی پابندیاں سفاک اسرائیل پر لگائی ہیں ،امریکہ نے اپنے خصوصی ویٹوپاور کا استعمال کرکے اس کو مسترد کرادیاآخر اس کاراز کیاہے؟ جب دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اسرائیل میں وجودمیں آرہاتھا تو کوئی بھی مغربی ملک انہیں اپنے یہاں جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھاکیونکہ ہٹلرکے عہد میں انہوں نے وہاں پر جوکارستانیاں انجام دی تھیں اس سے ساری دنیا واقف تھی اورہٹلر نے ان کے خلاف جوکارروائی کی اس کے اسباب بھی جگ ظاہر ہوچکے تھے۔ اس لئے اس پور ی قوم کو کبھی افریقہ کے کسی ملک جیسے زمبابوے بسابے کی پوری تیار ہوچکی تھی لیکن اچانک اشکنازی یہودیوں کی تنظیم نے ایک فرضی کہانی گڑھ کر اپنا وطن فلسطین کو ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اوراتحادیوں نے اس گند کو لاکر فلسطین کی سرزمین پر ڈال دیا۔ فلسطین کی جنگ میں تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ اس کے ختم ہونے کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع ہونے سے کوئی روک نہیں سکتاہے۔ ایک طرف اند رہی اندر جہاں جنگ بندی کے لئے مصر ،قطر ،حماس اور اسرائیل ایک معاہدے پر پہنچ چکے تھے اورامید ہوچلی تھی کہ دوایک روز میں جنگ بندی کا اعلان ہوجائے گا۔ فریقین کچھ شرائط پر گفتگو کررہے تھے اس کا ایک بلیو پرنٹ بھی تیار ہوگیاتھاجس میں چار شرطیں تسلیم کرلینے کے بعد مستقل جنگ بندی کا اعلان ہونے والاتھا لیکن دوفروری کو امریکہ کی ایک احمقانہ چال نے پانسہ پلٹ دیا۔ اُس نے گزشتہ ہفتہ سیریا میں قائم اپنے فوجی اڈے پر تین سیاہ فام امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور27جوانوں کے زخمی کئے جانے کا بدلہ تین عراقی مزاحمتی گروپ کے اڈوں پر حملہ کرکے مذکورہ معاہدے کو پس پشت ڈالدیا اورببانگ دہل اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلی کہ ان اڈوں کو میں نے تباہ کیاہے اورایران کو بھی ہم سبق سکھادیں گے۔ دراصل امریکہ عرصہ سے اس جنگ میں ایران کو گھسیٹنا چاہتاتھا لیکن اسے کامیابی نہیں مل رہی تھی چونکہ ایران نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایاتھا جس سے کہ فلسطین جنگ میں اس کو مورد الزام قرار دیاجاسکے۔ اس موقع پر ایران نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کی تردید کردی کہ شام میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اورعراق میں واقع موجودہ جہادی تنظیم کے اڈوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ آزاد تنظیمیں ہیں اوراپنی مرضی مطابق جہاں چاہیں آتی جاتی ہیں ۔ اس کے باوجود بھی امریکہ نے جنوبی دمشق میں ایک ایرانی مرکز کو بھی نشانہ بناکر اسے تباہ کردیاجہاں ایرانی کمانڈوز کے مشیر اورکمانڈر سید علی دعدئی شہید ہوگئے۔ یہ ایک قسم سے ایران پر براہ راست حملہ سمجھاجارہاہے کیونکہ امریکہ نے اسے باقاعدہ اشتعال دلاکر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ نیز امریکہ نے یہ پروپیگنڈہ بھی شروع کردیاہے کہ جنوبی شام میں ایران نے اپنا ایک بہت بڑا جنگی مرکز قائم کررکھاہے اوراب اس حملے کے بعد ایران گھبراگیاہے اوراس نے اپنے خفیہ محکمہ کے کمانڈوز کو روپوش کردیاہے حالانکہ ایران نے اس کی فوری طور پر تردید کرتے ہوئے یہ بیان جاری کیا کہ ہمارا کوئی بھی جنگی مرکز دمشق میں نہیں ہے۔ نیز ہم اپنے ملک سے ہی اس خطے پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں اورجہاں تک سوال کمانڈوز کا روپوش ہونے کاہے تویہ سراسر شیطان بزرگ کی ایک بڑی سازش ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے امریکہ کی اس حرکت کا منھ توڑ جواب دینے کا اعلان کیاہے ،ساتھ ہی بین اقوامی برادری کو باور بھی کرادیاگیاہے کہ عراق میں کئی جہادی گروپ سرگرم ہیں وہ آج بھی امریکہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اس کی تصدیق عراق نے کرتے ہوئے سخت احتجاج کیاہے اورجہادی گروپوں نے اس کے جواب میں عراق میں واقع تین امریکی اڈوں کو نشانہ بناکر زبردست نقصان پہنچایاہے ان میں امریکہ کے دوہوائی اڈے بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی عراقی مجاہدین نے امریکہ کو متنبہ کیاہے کہ وہ اب عراق کو اسی طرح خالی کرکے رخت سفر باندھ لیں جس طرح وہ افغانستان سے بھاگاتھا ورنہ اب ہمارے حملوں کیلئے تیار ہوجائے۔ امریکہ کے تازہ حملے کے بعد حزب اللہ بھی سخت برہم ہواہے اوراس نے ایک بار پھر جنوبی لبنان کے سرحد پر صہیونی فوجی ٹھکانوں پر حملے شروع کردئے ہیں جن میں الحریر الطنس ہوائی اڈے بھی شامل ہیںانہیں بری طرح نقصان پہنچایاہے اورجنوبی لبنان کے کئی یہودی آبادکاروں کی بستیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔ امریکہ کو جس بات کا خطرہ تھا اب اس نے خود اپنی غلطی سے سوئے ہوئے شیر حزب اللہ کو جگاکر نئی مصیبت میں خود کو پھنسالیاہے جس طرح وہ اسرائیل کو اب تک یہ منع کرتاآیاتھا کہ وہ حزب اللہ سے دور رہے ورنہ سخت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے گا وہی غلطی وہ خود کربیٹھاہے۔ اس طرح مغربی ایشیاء میں جنگ ایک خطرناک صورت اختیار کرنے جارہی ہے ۔اسی اثنا ایران نے صہیونیوںکے کئی ممالک میں پھیلے موساد کے خفیہ اڈوں کا پتہ لگاکر اپنے دوست ممالک کو آگاہ کردیاہے۔ اس کی اطلاع پر ہی گزشتہ دنوں ترکی نے اپنے یہاں موساد کے کئی اڈوں کو پکڑ کر صہیونی ایجنٹوں کو گرفتار کرلیاتھا۔ ایران کے اس اقدام نے ثابت کردیاہے کہ امریکہ کی سی آئی اے اورموساد سے دوقدم آگے بڑھ کر صہیونی جال کو کاٹنے میں اس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ایران کی اس حکمت عملی سے دنیا بھر کے تمام مسلم ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں اورسب مستعد ہوگئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ خفیہ معلومات حاصل کرنے میں ایران نے کتنی ترقی کرلی ہے اورچین کی مدد سے اس نے وہ تمام طاقتور خفیہ آلات حاصل کرلئے ہیں جو صرف اب تک سی آئی اے کے اورموساد کے پاس تھے۔
عالمی عدالت میں اپنی ناکامی کے بعد اندر ہی اندر صہیونی کتنا خطرناک منصوبہ تیار کررہے تھے جس کے تحت تین امریکی غلام نام نہاد مسلم ممالک حوثیوں کی ناکہ بندی کے خلاف اسرائیل کی مدد کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ دسمبر ماہ میں ہی اس خفیہ اورخطرناک منصوبہ کا پتہ چل گیاتھا کہ اسرائیل کی متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور اُردن نے مددکی تھی لیکن بغیر تصدیق کے اتنے خطرناک منصوبے کا ذکر کرنے سے ذرائع ابلاغ کترارہاتھا ،لیکن جم موساد کی اس سازش کا پتہ اسرائیل نے ہی لگالیا تواس کے مصدقہ ویڈیو گزشتہ ہفتہ وائر ل ہوگئے۔ ایک طرف فلسطینی بچے ،عورتیں اور بے قصور شہریوں پر صہیونی آگ اور بارود کی بارش کرکے انہیں بھوکا پیاسا مرنے پر مجبور کررہے تھے تواسرائیل میں بھی حوثی ناکہ بندی کے بعد جواشیائے ضروری کی قلت پیدا ہوگئی اس میںمذکورہ نام نہاد مسلم ممالک نے خفیہ طریقہ پر مدد کی اور اشیائے ضروری ایندھن ،پانی اورغذائیں زمینی راستے سے دبئی ،سعودی عرب اوراُردن سے تل ابیب بھیجی گئیں۔ یہ مال بذریعہ سڑک ٹرکوں اوربڑے بڑے کنٹینروں میں بھرکر دبئی سے سعودی عرب میں داخل کئے گئے جہاں سے وہ اردن گئے جس کی سرحد اسرائیل سے ملتی ہے اوریہ گاڑیاں تل ابیب پہنچ گئیں۔ اس کا سلسلہ عرصہ سے جاری ہے لیکن اس راز سے جب ایران نے پردہ اٹھادیا تو سب حیرت زدہ رہ گئے لیکن تینوں ممالک خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں ۔حوثیوںنے اپنے تازہ ترین حملے میں ایک اورامریکہ طیارہ بردار بحری جہاز کو بحر احمر میں ڈبودینے کا کارنامہ انجام دیاہے ،حالانکہ امریکہ کے نئے اتحاد نے کوئی سرگرمی تو نہیں دکھائی لیکن خود امریکہ نے حوثی ٹھکانوں پر حملہ کرکے اسے زبردست نقصان پہنچایاہے اس کے باوجود بھی حوثی انصار اللہ کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اوروہ نئے جوش وخروش کے ساتھ میدان میں ڈٹاہواہے اور کسی طرح بھی کسی بحری جہاز کو جس کا رخ اسرائیل کی طرف ہو گزرنے نہیں دے رہاہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہماری جنگ کسی دوسرے ملک سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہے جو انسانیت سوز کارروائیاں ہمارے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کررہاہے جب تک اس کے مظالم ختم نہیں ہوجاتے ہماری کارروائی جاری رہے گی۔ امریکہ کو بحراحمر میں کوئی کامیابی ملتی نظرنہیں آرہی ہے اسی اثنا فرانس کی سب سے بڑی انشورنس ایجنسی سی ایم اے (C.M.A) نے اسرائیل کی جانب جانے والے جہاز ہی نہیں بلکہ بحراحمرمیں جانے والے کسی بھی بحری جہاز کا بیمہ کرنے سے انکارکردیاہے۔ جس سے فرانس سمیت کئی ممالک نے بحراحمر کا استعمال کرنا بند کردیاہے۔ حماس کی سرگرمیاں پہلے کی طرح جاری ہیں اس کے سنائپر گھات لگاکر اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کررہے ہیں تو اسرائیل بھی بڑی بے دردی کے ساتھ فلسیطنیوں کے علاوہ متحدہ اقوام کے طبی ادارے ریڈ کراس کے عملہ اور مراکز کو نشانہ بنانابند نہیں کیاہے دوفروری کے اپنے تازہ حملے میں اس نے ریڈکراس اورہلال احمر کے طبی عملے اورعارضی اسپتالوںکو راکٹ مارکر تباہ کردیاہے اوراس کی خاتون ڈائریکٹر ہدایہ احمد کو بھی شہید کرکے پورے علاقے کو قبرستان میں تبدیل کردیا۔ جنوبی غزہ اورمصر کی سرحد پر اشیائے ضروری اور طبی ساز وسامان ودواؤں سے بھرے ٹرک اورکنٹینر کھڑے ہیں انہیں صہیونی افواج غزہ میں داخل نہیں ہونے دے رہی ہے۔











