کچھ روز قبل اسپین کی پارلیمنٹ میں حیض کی چھٹیوں کو حتمی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسپین حیض کی چھٹی پر قانون کو نافذ کرنے والا پہلا یورپہ ملک بن گیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں خواتین ملازمین کو پہلے ہی ماہواری کی چھٹی مل رہی ہے، لیکن ہندوستان میں، دو ریاستوں (بہار اور تامل ناڈو) اور نجی شعبے کی چند منتخب کمپنیوں کے علاوہ، حیض کی چھٹی کا یہ مسئلہ ابھی تک مرکزی دھارے کا مسئلہ نہیں بن سکا ہے۔ گزشتہ ہفتے، سپریم کورٹ نے اس سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے، اسے حکومت کے پالیسی دائرہ کار میں شامل ایک مسئلہ بتایا اور عرضی گزار کو خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزارت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک بار پھر ملک میں پیریڈ لیو کے معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ لیکن خود خواتین کی رائے بھی اس معاملے پر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہے۔کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والی پٹنہ کی ایک کاروباری خاتون آکانکشا جھا کہتی ہیں، ”میرا ماننا ہے کہ ”پیریڈ لیو“ کو ایک آپشن کے طور پر رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے، جسے منفی یا کمزوری کے طور پر لیا جائے۔ یہ قدرت کا عورت کو دیا ہوا تحفہ ہے جس کی بدولت وہ ماں بنتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں عورت ہونے پر فخر ہونا چاہیے نہ کہ شرمندہ ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ نہ سمجھیں کہ ہم کمزور ہیں کیونکہ ہمیں ’ان دنوں‘ کے مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہاں، اگر آپ کو خاص حالات میں ضرورت ہو تو چھٹی لے لیں۔ تاہم یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دفتری کام سے چھٹی لینے کے بعد معاشرہ خواتین کو گھر یا کچن کی ذمہ داریوں سے بھی چھٹی دے گا؟ کیونکہ گھر میں کام کرنے والی خواتین کو بھی ماہواری بھی آتی ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”میرے خیال میں کام کی جگہ پر بہتر اور صفائی ستھرائی والے ٹوائلٹس کو یقینی بنانا بہتر ہوگا، تاکہ خواتین ان کے استعمال کے دوران کسی اور قسم کے انفیکشن کا شکار نہ ہوں۔“ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر انہیں مفت پیڈ اور ہاٹ بیگ بھی دستیاب کرائے جا سکتے ہیں، تاکہ وہ کام کرنے میں آرام محسوس کریں اور وہ کام کی جگہ پر پیچھے نہ رہیں۔پنجاب نیشنل بینک، پٹنہ میں کام کرنے والی سنگم کماری کہتی ہیں کہ ”مجھے حیض کی چھٹی کی بات بے معنی معلوم ہوتی ہے۔ تقریباً تمام معروف کمپنیاں اپنے ملازمین کو بیماری کی چھٹی دیتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر خواتین اسے ایڈجسٹ کر سکتی ہیں۔ حالانکہ وہ بھی لازمی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر عورت کو ماہواری کے دوران ایک جیسامسئلہ ہو۔ چھٹی کی شق نافذ ہونے کے بعد یہ ریٹائرمنٹ تک جاری رہے گی، خواہ خواتین 45-50 سال کی عمر کے بعد حیض سے آزاد ہو جائیں، لیکن چونکہ یہ بھی فرد کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایسی صورت حال میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ جب عورت کی حیض آنے کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اس سہولت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی ایمانداری سے اپنے حیض ختم ہونے کی عمر بتائے تو الگ بات ہے جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔انویشا سرکار، جو ڈائمنڈ ہاربر وومن یونیورسٹی، کولکتہ میں کام کر رہی ہیں، پیریڈ چھٹی کے حق میں ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ”ہندوستانی خواتین کی مزدوری کا ایک بڑا حصہ غیر منظم شعبے میں کام کرتا ہے، فی الحال انہیں حیض سے چھٹی ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن معاشرے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سست رفتاری سے شروع ہوتی ہے۔“فی الحال، اسے صرف اوپری طبقے سے شروع ہونا چاہیے۔ دھیرے دھیرے نچلے طبقے کو بھی اس کے فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے۔“ دوسری طرف، انوشہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ خواتین کے تئیں حساس اور باعزت رویہ کو فروغ دینا ہندوستان کے پدرانہ معاشرے میں حیض کی چھٹی سے زیادہ اہم ہے، ورنہ اس طرح کے مسائل انہیں ہمت والی ثابت کرنے کے بجائے کمزور ثابت کریں گے۔
جھارکھنڈ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی، رانچی کی رکن آرتی ورما کا بھی ماننا ہے کہ قانون کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں -”پیریڈ لیو کی فراہمی خواتین کی پیشہ ورانہ مہارت کو متاثر کرے گی۔ آج عورت کو مردوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ کل کو اور بھی زیادہکمتر سمجھا جائے گا۔ اس وقت خواتین کے مفاد میں بہت سی قانونی دفعات موجود ہیں لیکن ان کا اس سے زیادہ غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ویسے آپ دھیان دیں تو کام کرنے والی خواتین کبھی ایسا مطالبہ نہیں کرتیں۔ جس طبقے کی طرف سے ایسے مطالبات اٹھائے جا رہے ہیں، وہاں اس کے غلط استعمال کا زیادہ امکان ہے۔“ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ٹیچر سندلی ٹھاکر کہتی ہیں کہ ”پیریڈ لیو کا معاملہ مکمل طور پر سیاہ اور سفید نہیں ہے، اس لیے اس پر عمل درآمد کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے اس کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے بات کرنا ضروری ہے۔“ حالانکہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ نوئے کی دہائی سے بہار حکومت کے دفاتر میں دو دن کی چھٹی کا انتظام لاگو ہے۔ پھر بھی جب ہم نے صنف کے تصور کو معمول بنا لیا ہے، تو پھر عورتوں کوصرف ایک جسم کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہے۔ اگرچہ میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ جسمانی ساخت کے لحاظ سے خواتین اور مردوں میں فرق ہے، لیکن اس کے باوجود ایسی دفعات کہیں نہ کہیں خواتین کو محض ایک حیاتیاتی عنصر کے طور پر نشان زد کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں نظر انداز ہو کر رہ جاتی ہیں۔ میری رائے میں حیض کے معاملے پر معاشرے میں مناسب آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے، اسے مذاق نہ بنایا جائے۔“
حیض کی چھٹی کیوں ضروری ہے؟دراصل ہر عورت کو 15 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ہر ماہ حیض سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس دوران اکثر خواتین کو کمر درد، پیٹ میں درد، بخار، متلی، قے اور بے چینی جیسے مسائل ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے لیے حیض ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ یو سی ایل انسٹی ٹیوٹ فار ویمن ہیلتھ، لندن کے پروفیسر جان گلی باؤڈ کی ایک مطالعاتی رپورٹ کے مطابق حیض کے دوران خواتین کو اتنا ہی درد محسوس ہوتا ہے جتنا ہارٹ اٹیک۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والی ایک مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی 32,000 خواتین میں سے تقریباً 81 فیصد کا خیال تھا کہ حیض کے دوران تکلیف کی وجہ سے ان کی صلاحیت میں تقریباً 23 دن تک کمی واقع ہوئی ہے۔14فیصد خواتین نے اعتراف کیا کہ انہیں ماہواری کے درد کی وجہ سے اپنی ملازمت سے چھٹی لینی پڑتی ہے۔ اسی طرح، آسٹریلیا کے میلبورن میں واقع سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنی وکٹورین ویمنز ٹرسٹ اور سرکل کے سروے کے مطابق، 70 فیصد خواتین اپنے مینیجر سے ماہواری کے بارے میں بات کرنے میں آسانی محسوس نہیں کرتی ہیں، جب کہ 83 فیصد کا خیال ہے کہ اس کا ان پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے باوجود کئی بار ان معاملات میں خواتین بھی اس صورت حال میں اپنا موقف نہیں لے پاتی ہیں۔
ہندوستان میں ابھی تک حیض کی چھٹی کی کوئی پالیسی نہیں ہے، لیکن ایسی بہت سی کمپنیاں ہیں جو اپنے ملازمین کو ماہواری کی چھٹی دیتی ہیں۔ اس مسئلہ کے حق میں جتنے دلائل ہیں، اتنے ہی اس کے خلاف بھی ہیں۔ کئی طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ حیض کے دوران چھٹی کیوں ضروری ہے؟ کیا خواتین اتنی کمزور ہیں کہ انہیں ہر ماہ’اضافی چھٹی‘ کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا وہ اس طرح کمپنی کی ذمہ داریاں نبھا سکے گی؟ کیا اس سے کمپنی کو نقصان نہیں پہنچے گا؟ اس سمت میں کیے گئے تمام مطالعات میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ خواتین ملازمین کو دو سے تین دن کی تنخواہ کی چھٹی دینے کا اضافی بوجھ کمپنیوں کے سر پر آئے گا، جس سے ان کی صلاحیت متاثر ہوگی اور مجموعی طور پر نقصان ہوگا۔ کام کی جگہ پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے دباؤ کی وجہ سے کئی بار خواتین خود بھی ماہواری کی چھٹی نہیں لینا چاہتیں۔ اسے لگتا ہے کہ اگر وہ یہ چھٹی لیتی ہے تو ساتھی ملازمین اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک کڑوا سچ ہے کہ شادی شدہ خواتین کو ملازمت کی پیشکش نسبتاً کم ملتی ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد صورت حال اور بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر ماہواری کے دوران چھٹی دینے کی بات کی جائے تو عین ممکن ہے کہ کمپنیاں خواتین کی تقرری کرتے وقت اپنے نفع و نقصان کا سوچیں، جسے موجودہ مارکیٹ کے حالات میں بھی غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی صورتحال میں خواتین ماہواری کے دوران بھی کام کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اس تناظر میں شیلیندر منی ترپاٹھی کا نقطہ نظر، جنہوں نے ہندوستان میں حیض کی چھٹی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، کافی حد تک درست سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ یہ چھٹی لازمی ہو لیکن اگر یہ سہولت ہو گی تو ضرورت مند خواتین اسے لے سکیں گی اور کمپنیوں کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم، حیض کی چھٹی نصف آبادی کے قانونی حقوق اور ان کی صحت سے متعلق ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ اسپین کی پارلیمنٹ میں پیریڈز کے دوران تعطیلات کا معاملہ بھی کافی عرصے سے زیر بحث رہا تھا جسے گزشتہ دنوں 185 ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد اب خواتین کو ماہواری کے دوران 3 سے 5 دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی۔ اب حفظان صحت سے متعلق مصنوعات جیسے سینیٹری پیڈ تمام تعلیمی مراکز، جیلوں اور سماجی مراکز میں مفت فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم یہ جاننا بھی دلچسپ ہے کہ یورپ میں جہاں 40 فیصد ممالک کی سربراہی خواتین سربراہ کے ہاتھ میں ہے، کیا اسپین کے علاوہ کسی اور ملک میں خواتین کو یہ سہولت ملے گی؟
رچنا پریہ درشنی
پٹنہ، بہار
رابطہ: 9350461877












