اقوامِ متحدہ کے سرکردہ عہدیداروں نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً ایک سال سے جاری جنگ میں "خوفناک انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے” کا مطالبہ کیا۔عالمی رہنما نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے لیے جمع تھے تو اس موقع پر انہوں نے اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کے سربراہوں کے دستخط کردہ ایک بیان میں کہا، "یہ مظالم ختم ہو جانے چاہئیں۔” ایجنسیوں میں یونیسیف اور عالمی غذائی پروگرام کے ساتھ دیگر امدادی گروپ شامل تھے۔بیان میں کہا گیا، "انسانی امدادی کارکنان کو ضرورت مندوں تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی ہونی چاہیے۔ ہم انتہائی ضرورت اور جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے کام نہیں کر سکتے۔”اقوامِ متحدہ نے طویل عرصے سے جنگ کے دوران غزہ تک امداد کی ترسیل اور محصور فلسطینی انکلیو میں "مکمل لاقانونیت” کے باعث اس کی تقسیم میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے۔ تقریباً 300 انسانی امدادی کارکنان ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے دو تہائی سے زیادہ اقوامِ متحدہ کے عملے کے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا، "قحط کا خطرہ برقرار ہے تمام دو اعشاریہ ایک ملین باشندوں کو بدستور غذائی اور ذریعۂ معاش کی امداد کی فوری ضرورت ہے کیونکہ انسانی امداد کی رسائی محدود ہے۔ شعبۂ صحت تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ میں صحت کی سہولیات پر 500 سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔آسٹریلیا، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، سیرا لیون، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر عملے کے تحفظ کے لیے ایک اعلامیہ تیار کرنے کی غرض سے ٹیم بنائیں گے اور تمام ممالک کو دستخط کرنے کی دعوت دیں گے۔آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا، 2024 امدادی کارکنان کے لیے ریکارڈ پر مہلک ترین سال ثابت ہو رہا ہے۔”












