واشنگٹن،(ہ س)۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے دوران، ‘Planet Labs’ کمپنی کی جانب سے لی گئی سیٹلائٹ کی حالیہ تصاویر میں ایران کے ان دو جوہری مقامات پر سرگرمی دیکھی جا رہی ہے جنھیں گذشتہ برس اسرائیل اور امریکہ نے نشانہ بنایا تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران وہاں موجود باقی ماندہ مواد کو بچانے کی اپنی کوششوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ان تصاویر میں اصفہان اور نطنز کے صوبوں میں واقع دو متاثرہ عمارتوں پر چھتوں کی تعمیر دکھائی گئی ہے۔ ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی آج ہفتے کے روز رپورٹ کے مطابق، جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد سے ایران کے متاثرہ جوہری مقامات پر سیٹلائٹ کے ذریعے دیکھی جانے والی یہ پہلی بڑی سرگرمی ہے۔ان چھتوں نے سیٹلائٹ کے لیے زمین پر ہونے والے کام کو دیکھنا نا ممکن بنا دیا ہے، لیکن ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کی رسائی روکنے کے بعد، ان مقامات کی نگرانی کے لیے ایجنسی کے پاس فی الحال یہی واحد راستہ بچا ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی چھتیں شدید متاثرہ تنصیبات میں دوبارہ تعمیر شروع ہونے کی علامت معلوم نہیں ہوتیں۔ واشنگٹن میں مقیم ‘فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ کی محقق اینڈریا اسٹرائیکر کے مطابق، غالباً یہ ایرانی حکام کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان کے اہم اثاثے … جیسے اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کے محدود ذخائر … حملوں سے محفوظ رہے ہیں یا نہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس خیال کا اظہار کیا کہ ایران ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس فوجی مداخلت سے بچ سکے جس کی امریکی صدر دھمکی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ انہوں نے تہران کو ایک خاص مہلت دی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "اسے صرف وہی (ایران) جانتا ہے”۔ امریکی صدر نے اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی۔ تاہم فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اگر ایسا نہیں ہوتا، تو ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے”۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ ان کا ملک واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے "اگر وہ عادلانہ اور منصفانہ ہوں” اور برابری کی بنیاد پر” کیے جائیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں مذاکرات کا موضوع نہیں ہوں گی”۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتوں میں امریکی صدر ایران پر حملے کی دھمکیوں میں تیزی لائے ہیں جب کہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھاتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز ‘ابراہم لنکن’ کو خطے میں بھیج دیا ہے۔ دوسری طرف تہران نے بھی اپنی تنبیہات کا لہجہ سخت کر دیا ہے اور کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں فوری اور طاقت ور جواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔












