کانپور میں ایک ہندو گھر پر بلڈوزر چلایا گیا، گھر کو گِرا دیا گیا، لیکن اس سے بھیانک حادثہ یہ ہوا کہ گھر میں موجود ماں اور بیٹی جل کر مَر گئیں، یعنی گھر گِرا ہی ساتھ میں دو ہندو عورتوں کی جانیں بھی گئیں، اب لوگ نہ صرف یوپی میں بلکہ دہلی میں جنتر منتر پر بھی احتجاج کر رہے ہیں اور مظالم کو بیان کر کے آنسو بَہا رہے ہیں، ابھی 2022ء میں یوپی میں الیکشن ہوا، لوگوں نے نہ صرف یوگی حکومت کو پھر سے مکمل حمایت کی بلکہ الیکشن میں ان کے ذریعے بلڈوزر کی کاروائیوں کو صحیح ٹھہراتے رہے، جب مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا عے جا رہے تھے، تب یوگی مہاراج، پولیس، میڈیا، بلڈوزر کی کاروائی اور گھر توڑنے کو صحیح کہا جا رہا تھا، سیکڑوں ہزاروں گھر ٹوٹے تب خوش تھے، آج ان کا اپنا ایک گھر ٹوٹا تو رو پڑے، مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلاعے گئے، لیکن جان کسی کی نہیں گئی، کانپور میں بلڈوزر کی کاروائی سے دو عورتوں کی گھر میں دردناک اموات بھی ہوئی ہیں، جب پہلی بار ہی پہلے گھر کے سامنے گھر کو گِرانے کے لئے بلڈوزر کھڑا تھا، اسی وقت ایک گھر سے لے کر 100 ویں گھر تک کے لوگ پہلے گھر کو بچانے کے لئے بلڈوزر کی کاروائی کے خلاف کھڑے ہو جاتے تو آج یہ بھیانک دن دیکھنے کو نہیں ملتا، آج جب وہ گھر ٹوٹا جس میں رہنے والے یہ سمجھ رہے تھے کہ ہماری باری تھوڑی آعے گی، ہمارا گھر تو بہت دور ہے اور محفوظ جگہ پر ہے، لیکن آج جب ان کا بھی گھر ٹوٹا تو انھیں آج سب کچھ غلط دکھائی دے رہا ہے، کسی بھی شخص کے خلاف ظلم پر خوشیاں نہیں منانی چاہئیں، بلکہ ظلم کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہو جانا چاہئے، کیوں کہ..
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زَد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے












