علی گڑھ ،سماج نیوز سروس: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی دینیات فیکلٹی میں بی اے سال اول کے طلباء کیلئے اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر توقیرعالم فلاحی نے افتتاحی خطاب میں پروگرام کے مہمان خصوصی، شعبہ کمپیوٹر سائنس کے سابق صدر پروفیسرعاصم ظفر (اوایس ڈی، ڈیولپمنٹ) اورسال اول کے طلباء کا استقبال کرتے ہوئے اے ایم یو میں داخلہ ملنے پران کو مبارک باد پیش کی۔انھوں نے کہاکہ علم کی فضیلت اس دور میں عوام پر بھی واضح ہے۔دینی ودنیاوی علوم کی تفریق کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خداکی خوشنودی کیلئے حاصل کیے جانے والے تمام علوم دینی ہیں ۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو نہ کبھی احساس کمتری کاشکارہونے دیںاورنہ ہی احساس برتری میں مبتلاء ہوں۔ خود کو سرسید کے مشن پر پورااترنے کیلئے سائنسی اورفلسفیانہ علوم سے واقفیت کے ساتھ سرپرلاالہ الااللہ کے تاج کو سجانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر کام مرضی الہی کے مطابق کرنے والے بنیں ۔ نیز خیرامت ہونے کا واجبی حق یہ ہے کہ ہم انسانیت کیلئے مفید بنیں اوردنیاکا نظام بھی یہی ہے کہ یہاں لیڈرشپ اسی کو دی جاتی ہے جس کی شخصیت منفعت بخش ہو۔ پروگرام کا آغاز فیکلٹی کے ریسرچ اسکالر مہتاب عالم کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مہمان خصوصی پروفیسرعاصم ظفر نے جدید طلباء کو اے ایم یو میں داخلہ ملنے پر مبارکباد پیش کی ۔انھوں نے اس ادارہ کی امتیازی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے طلباء سے کہا کہ علیگ برادری تہذیب وثقافت میں سب سے نمایاں ہے، اس لیے آپ سب اپنے سینئرس اوراساتذہ سے ملنے جلنے کے آداب، سلام ومصافحہ کی حسن روایت ، ڈائننگ ہال اورسینئر وجونیئر کے ادب واحترام کو سیکھ کر یہاں کے تمام تہذیبی اورثقافتی اقدار کے پابند بنیں۔ انھوںنے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے کورس کی تعلیم کے علاوہ دوسری انفرادی صلاحیتوں میںکمال حاصل کرنے کیلئے ثقافتی تعلیم کے مرکز(سی ای سی) سے وابستہ ہوکر ڈیبیٹنگ کلب اور شاعری وغیرہ کوسیکھ سکتے ہیں ، اسی طرح یونیورسٹی کی طرف سے دی گئی تمام سہولیات جیسے کھیل ، رائڈنگ، اسکالرشپ،میڈیکل، کمپیوٹرلیب، انٹرنیٹ وائی فائی، اکیڈمک ای میل،یونیورسٹی ویب سائٹ، ہاسٹل سسٹم اورپراکٹوریل سسٹم سے طلبہ کو واقف کرایا۔شعبہ شیعہ دینیات کے صدرڈاکٹرسید محمد اصغر نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب اپنے سینئرس کی بات ضرورسنیں، اگر ان باتوں میں کوئی بری بات ہو تو اس پر عمل نہ کریں مگر سنیں ضرور، تاکہ میل ملاپ اوراحترام برقراررہے۔شعبہ سنی دینیات کے صدر پروفیسرمحمد حبیب اللہ نے یونیورسٹی کی امتیازی حیثیت کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی ایسی یونیورسٹی ہے جس میں کچھ ایسی خاص چیزیں سیکھنے کو ملے گی جو کسی اورجگہ سے نہیں مل سکتی ،کیونکہ یہ ادارہ قدیم وجدید اورسائنس وفلسفہ کے ساتھ مذہبی تعلیم کا بھی سنگم ہے۔ڈاکٹرمحبوب الرحمن نے طلبہ کو احادیث کی روشنی میں وقت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے انھیں وقت کی قدر کرنے کی نصیحت کی۔ ڈاکٹرندیم اشرف نے یونیورسٹی کی تہذیبی شناخت سے واقف کراتے ہوئے طلبہ سے کہا کہ اساتذہ اورسینئرس کے احترام کے ساتھ غیرتدریسی عملہ کا اکرام واحترام بھی لازمی ہے ،کیونکہ ہمارے اس علمی سفر میں ان کابھی غیرمعمولی تعاون رہتا ہے۔ ڈاکٹرمحمد عاصم خان نے یونیورسٹی کی تاریخی روایات اوراقدار پر روشنی ڈالتے ہوئے تہذیبی روایات کو فروغ دینے کی بات کہی۔ ڈاکٹر ریحان اختر نے کلمات تشکر پیش کیا جب کہ ڈاکٹر محمد ناصرنے نظامت کے فرائض انجام دیے۔اس پروگرام میں شعبہ سنی وشیعہ کے بی اے اورایم اے کے طلباء کے علاوہ تمام اساتذہ بھی شریک رہے۔












