موتیہاری: خانقاہ رفیق ملت جھڑواں دریا پور سنگرام پور کے زیر اہتمام پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضرت الحاج بابا سید محمد رفیق شاہ نقشبندی علیہ الرحمۃ والرضوان کا سالانہ عرس رفیقی نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ خانقاہ رفیق ملت کے سجادہ نشیں شہزادۂ رفیق ملت بابا حضرت سید ابدال اکرم نقشبندی کی سرپرستی میں چادر پوشی و گل پیشی کی گئی اور لنگر عام کا انتظام کیا گیا۔ عرس مبارک و کانفرنس کی تمام تقریبات سجادہ نشیں اور مولانا اعظم رضا فریدی کی نگرانی میں منعقد ہوئیں۔ کانفرنس کی صدارت حافظ حمید الرحمان نے فرمائی۔ جبکہ نظامت کے فرائض جناب رستم اقبال نظامی، نے انجام دیے۔ اس موقع سے خطاب کرتے خطیب اہل سنت غازی ملت حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی صدر ادارۂ شرعیہ پٹنہ و چیئرمین اقلیتی کمیشن بہار نے کہا کہ بھارت کی تہذیب و تمدن کی تحفظ و بقا میں صوفیاء نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ملک کی ترقی و خوشحالی میں ان کا اہم کردار ہے۔ پکا مکان بنوانے سے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ کریں اور رزق حلال کھانے کمانے کی ہرممکن کوشش کریں تاکہ کونین کی سعادتیں حاصل ہوسکیں۔ بلا تفریق مذہب و ملت اس ملک کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں ان کی عفت و عصمت کی تحفظ و بقا ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ہم نکاح کو آسان بنائیں تاک و سماج سے برائیوں کا خاتمہ ہوسکے۔ مذہب اسلام نے نظام عدل و انصاف دیا۔ اخوت و مساوات بھائی چارگی قومی یکجہتی کی خوش گوار فضا قائم کر پوری دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ آج دنیا کا سب سے بڑےمجرم امریکہ و اسرائیل اپنی انا کے سامنے انسانیت کو کچلنے کی کوشش میں ہیں لیکن وہ ہر موڑ پر خائب و خاسر ہوں گے۔ کسی بھی دور میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ کائنات کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ مولانا شکیل اختر نظامی شیخ الادب دارالعلوم اشرفیہ یوپی نے کہا کہ اولیائے کرام نے اپنی زندگی خدمت خلق کے لیے وقف کردی اور دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ کر دین و سنیت کی تبلیغ و ترویج کا کام انجام دیا۔ مصطفیٰ جان رحمت سے بے پناہ عشق و محبت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آپ کے اصولوں کی پاسداری کے بغیر ہم کسی گام پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ماہر وید و پران مولانا اعظم رضا فریدی چترویدی نے کہا کہ ایک خدا کی عبادت و بندگی کرنے کا حکم سبھی مذاہب کی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات میں ساری دنیا کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ حضرت صوفی سید رفیق احمد شاہ نقشبندی علیہ الرحمۃ والرضوان نے جو خدمات انجام دیے اس کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ خدمت خلق کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کا آستانہ مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ خانقاہ رفیقیہ کے سجادہ نشیں حضرت صوفی سید ابدال اکرم نقشبندی نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات پر عمل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان لوگوں نے ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھ کر انسانیت کو ایک مضبوط بندھن میں باندھ کر آپسی محبت و عقیدت کی ایسی فضا قائم کی کہ سبھوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ مولانا سرفراز عالم علیمی نے کہا کہ اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر خدمت خلق اور خدمت انسانیت ایک بہترین ذریعہ ہے۔ شاعر انقلاب مولانا توقیر رضا نے کہا کہ حضرت رفیق ملت نے خدمت انسانیت کے لیے اپنی ساری زندگی گذاری۔ انسان کو انسان بن کر زندگی گذارنے کی تعلیم دی۔اس موقع سے شاعر انقلاب حضرت توقیر رضا الہ آبادی، حضرت زم زم ویشالوی، حضرت اقبال فیضی پڈرونہ، قاری اختر ضیاء مظفرپوری، معین الدین بشن پوری، مولانا جمشید عالم نظامی نے نعت و منقبت کے گلدستے پیش کیے۔ اس موقع سے مولانا کمال خان، مولانا اختر علی ناز قادری، حافظ احسان عالم، مولانا سعید اللہ عرف شیخ صاحب، مولانا شاہد نعمانی مصباحی، مولانا غلام مرتضیٰ، شعیب رضا چمپارنی، مولانا آفتاب عالم شمسی، سید اعجاز اکرم، سید امتیاز اکرم، سید فیاض اکرم، سید فریاد شاہ بابا بیر گنج، جناب محمد ہاشم، حافظ فرحان ساجد کلیان پوری سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔












