تہران (ہ س)۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کسی بھی دشمنانہ اقدام کے جواب کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انگلی بندوق کے لبلبے’ٹریگر‘پر ہے اور کسی بھی دشمن کے جارحانہ اقدام کے جواب میں فیصلہ کن رد عمل دینے کے لیے تیار ہیں، ایسا رد عمل جو تصور سے بھی بڑھ کر ہو‘۔ یہ بات ایرانی مقامی میڈیا نے بتائی۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ’یہ جواب صرف خیالی حملہ آوروں کو شدید پشیمان نہیں کرے گا، بلکہ اس سے تزویراتی طاقت کا توازن حق کے محاذ کی طرف … اور صہیونی ایجنٹ کے خلاف بدل جائے گا‘۔اسی تناظر میں، ایرانی فوج کی جنرل اسٹاف کمیٹی نے بھی کل خبردار کیا کہ ملک کے خلاف کسی بھی "غلط اقدام” پر سختی اور قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کے روز زور دے کر کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔انھوں نے کہا کہ "اگر اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو ایران اس حملے کو قانونی طور پر امریکہ کی شراکت تصور کرے گا، اور اسے اس کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرائے گا”۔اسی دوران، پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے تصدیق کی کہ "اسرائیل کی کسی بھی حماقت کا تباہ کن جواب دیا جائے گا”۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب اس صورت میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جائیں۔ایک با خبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اب یہ سمجھتی ہے کہ کسی کامیاب حملے کے لیے موزوں موقع جلد ہی ختم ہو سکتا ہے، لہٰذا اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت ناکام ہو جائے تو فوری کارروائی ضروری ہو گی۔واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 12 اپریل سے مذاکرات جاری ہیں، جن پر اسرائیل کئی بار ناراضی کا اظہار کر چکا ہے اور زور دے چکا ہے کہ وہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔












