نئی دہلی، دہلی کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ تعلیم القرآن تکیہ کالے خاں میردرد روڈ نئی دہلی میں مولانا محمد قاسم نوری مہتمم وبانی مدرسہ ہٰذا کی صدارت اور مولانا ارشد ندوی امام وخطیب مسجد مجیدیہ دہلی کی نظامت میں عظیم الشان اجلاس ودستار بندی کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی سرپرستی مولانا نثار الحسینی امام وخطیب انجمن والی مسجد پہاڑی بھوجلہ ، جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے دہلی کے ڈپٹی میئر آل محمد اقبال نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز مدرسہ ہٰذا کے استاذ قاری مطہرریاض کی تلاوت قرآن کریم اور سرزمین دیوبند سے آئے معروف نعت خواں مولانا احسن الزماں کی نعت پاک سے ہوا۔ ڈپٹی میئر آل محمد اقبال نے کہاکہ حافظ قرآن کے نزدیک میئر ، ڈپٹی ، وزیراعلیٰ، وزیراعظم حتیٰ کہ دنیا کا ہر عہدہ ومنصب کچھ نہیں ہے ، اصل خوش نصیب اور اعلیٰ منصب والے یہ حافظ قرآن ہیں جن کے سینوں میں دنیا کی سب سے افضل اور سب سے بڑی معتبر ومستند کتاب محفوظ ہے۔ اس پروگرام میں شرکت میرے لیے باعث فخر ہے ، کیونکہ یہ محفل ، یہ مجلس دنیا کی ساری پارٹیوں اورپروگرام سے بہتر اور نورانی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر تکیہ کالے خاں کے لوگوں پارک میں تعمیراتی کام کے علاوہ کئی اہم پروگراموںکا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبندکے استاذ اسجد عقابی قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا بہت بڑا کرم واحسان ہے کہ اس نے ہم انسانوںکےلئے قرآن کریم نازل فرمایا۔ انہوں نے کہاکہ قرآن کریم کوسینے میں محفوظ کرنے والے کے والدین کو اللہ تعالیٰ قیامت کے ایسا تاج پہنائے گا جو سورج کی روشنی سے زیادہ چکمدار ہوگا،یہ ہے قرآن کریم حفظ کرنے والوں کےلئے سعادت۔دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا سجاد حسین قاسمی نے پرمغز اور مدلل ومفصل خطاب کیا۔ مفتی نثار الحسینی نے کہاکہ بہت ہی خوشی ومسرت کی بات ہے کہ دو رو ز بعد شب برآت اور ہولی ہے، جسے ہمیں پرسکون ، بھائی چارگی اور اتحاد واتفاق کے ساتھ منانا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے تہوار کا خاص خیال رکھنا ہے۔ معروف مداح رسول قاری محمد دانش ابرارکشن گنجوی نے اپنی سریلی آواز سے نعت پاک اور نظمیں پیش کرکے خوب دادوتحسین حاصل کی۔ بعد ازیں مدرسہ سے قرآن پاک حفظ مکمل کرنے والے آٹھ حفاظ کرام صدیقین ابن شمس الحق، محمد عیان ابن نظام الدین، محمدیاسین ابن حافظ ابوالکلام، محمد راحل ابن داؤد، نظرالحق ابن محمد جمشید، محمد گلفراز ابن علیم الدین،محمد ارشد ابن اوصاف،محمد آزاد ابن معراج الدین کی علمائے کرام اور مہمانان عظام کے ہاتھوں دستاربندی اور گرانقدر انعامات سے نوازا گیا۔ بعدازیں سالانہ امتحان میں پوزیشن لانے والے طلبہ محمد ارشدابن اوصاف، محمد دانش ابن عبدالجبار، محمد استخار ابن محمد اشفاق، محمد گلفراز ابن علیم الدین، محمد راحل ابن داؤد، امام الدین ابن منظرعالم مرحوم، محمد یوسف ابن فیروز، فراست علی ابن اسرار، رفعت اللہ ابن عبدالرؤف، ابوطالب ابن شمس الحق، ہدایت اللہ ابن سہیل اور نواز ابن سرمان عل کو بھی شیلڈ اور گرانقدر انعامات سے نوازا گیا۔ اخیر میں جمعیت علماءنئی دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری مہتمم وبانی مدرسہ ہٰذا نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدرسہ کے عزائم اور منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ پروگرام میں مولانا قاری ضیاءاللہ قاسمی منیجر جمعیتہ بک ڈپو بلیماران، مولانا عظیم اللہ صدیقی میڈیا انچارج جمعیت علمائے ہند، حاجی مبشر جمعیت علماءہند،حافظ افضل جمعیت بک ڈپو بلیماران، مولانا نوشاد عادل قاسمی،مفتی ذاکر قاسمی آرگنائز جمعیت علمائے ہند، حاجی اسعدمیا ں سکریٹری جمعیت علماءصوبہ دہلی، راکیش کمار کونسلر دہلی گیٹ، حاجی سلیم رکا ب گنج ، حاجی ندیم رکاب گنج، بھائی طارق ،کانگریس کے نوجوان لیڈر عبدالشکور خان،مولانا رفیق، حافظ عمران سنگم وہار، مولانا ساجد، مولانا تسلیم ،قاری شمس تبریز، حافظ نوشاد، بھائی لڈو، مولانا ابوبکروغیرہ نے بطور خاص شرکت کی۔
پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں مدرسہ کے اساتذہ قاری جاوید رشیدی، قاری عبدالحلیم، قاری تہذیب، قاری سفیان، قاری مطہر ریاض، حافظ اختر وغیرہ کلیدی اور سرگرم رول ادا کیا۔












