شعیب رضا فاطمی
،2024 کے انتخابات سے پہلے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں اس کو لے کر کافی چرچا ہے۔ دریں اثنا، اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بننے جا رہی ہے جہاں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس کا اعلان کیا ہے۔ اب اتراکھنڈ میں لاگو ہونے والے یونیفارم سول کوڈ کے حوالے سے کچھ باتیں سامنے آئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت کیا ہوگا اور خلاف ورزی پر کون سے حقوق چھین لیے جائیں گے۔

سامنے آئی معلومات کے مطابق آبادی کنٹرول کو یکساں سول کوڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے جو اتراکھنڈ میں لاگو ہونے جا رہا ہے۔ اسے کنکرنٹ لسٹ کے اندراج کو 20A کی بنیاد پر شامل کیا جا رہا ہے۔ آبادی پر قابو پانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی بھی اس میں شامل ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ذمہ دار والدین بل 2018 کی طرز پر یکساں سول کوڈ میں شامل کیا جائے گا۔
یہ حقوق چھین لیے جائیں گے۔
اس قانون کے تحت جو دفعات سامنے آئی ہیں وہ بہت سخت ہیں۔ اس بل کے تحت دو بچوں کے اصول کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری سہولیات کا حق بھی چھینا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اتراکھنڈ کی تیزی سے بدلتی آبادی کو دیکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔
کل ملا کر یکساں سول کوڈ کی تان بھی مسلمانوں پر ہی ٹوٹیگی اور انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ فیملی پلاننگ سمیت ان تمام قوانین کو من وعن قبول کریں جو شرعی حدود کو توڑتے ہیں ۔حالانکہ لا کمیشن نے ابھی صرف مشورے طلب کئے ہیں اور ایک ماہ کا وقت بھی دیا ہے لیکن اس کے پہلے ہی بی جے پی کے لیڈر سر گرم ہو چکے ہیں اور وہ اکسانے والے بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو مشتعل کر رہے ہیں ۔ووٹ کے حق سے محروم کرنا اور تمام سرکاری سہولتوں کو چھین لینے کی دھمکی کسے دی جا رہی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور اس طرح کی دھمکی دے کر بی جے پی کے لوگ اکثریتی طبقہ کے ووٹرس کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی آبادی کو اس لئے بھی کنٹرول کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ ہندو راشٹر بنانے میں مسلمان رخنہ نہ بنیں ۔یہ آر ایس ایس کا مسلمانوں کے حوالے سے سب سے بڑا اور مہلک پرو پیگنڈہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی آبادی کو آج جس پریشانی کا سامنا ہے وہ مسلمانوں کی اٹھارہ کروڑ آبادی کی وجہ سے ہے اور یہ اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ مستقبل میں ملک کی سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی ہو جائیگی اور ہندوؤں کا قتل عام شروع ہو جائے گا ۔در اصل بی جے پی ان دنوں ایک بڑے سیاسی بحران سے گذر رہی ہے ۔2019کے بعد اس کے تمام پروگرام فلاپ ہوئے ہیں اور زیادہ تر انتخاب میں اس کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔خبر ہے کہ کرناٹک میں کانگریس سے شکست کے بعد بی جے پی کے تین بڑے لیڈر اور سنگھ کے ایک لیڈر جو بی جے پی اور سنگھ کے درمیان کی کڑی ہیں لگاتار میٹنگیں کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی کمزور ہو رہی ہے وہاں وہاں ووٹ کی بھر پائی کے لئے دوسرے ذرائع اختیار کئے جائیں تاکہ 2024کے عام انتخاب میں ان کی سیٹیں کم نہ ہوں ۔اس سلسلے میں تمام وزرا اور ممبر پارلیامنٹ کا پروگریس رپورٹ بھی دیکھا جا رہا ہے ۔لیکن اس محاذ پر زیادہ تر لیڈر ناکام ثابت ہو رہے ہیں ۔ایسے میں بی جے پی بہت سارے ممبران پارلیا منٹ کا ٹلٹ بھی کاٹیگی اور ساتھ ہی ایک نیا ایجنڈا بھی لانچ کریگی جس سے اس کے ووٹ شئیر پر کوئی فرق نہ پڑے ۔کامن سول کوڈ وہی ایجنڈا ہے جس پر بی جے پی بہت تیزی سے کام کر رہی ہے ۔اور جیسے جیسے انتخاب نذدیک آتا جائے گا بی جے پی اور آر ایس ایس شدو مد کے ساتھ مسلم مخالف ماحول بنا کر غیر مسلم ووٹر کو اپنے پالے میں کر لیگی ۔بی جے پی نے فی الحال تمام محاذ پر کام شروع کر دیا ہے ۔بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ کانگریس کو جو پورے ملک سے ہمدردی ملی اور پھر کرناٹک میں اسے الکٹورل کامیابی بھی ملی اس سے بھی بی جے پی نے سبق سیکھا اور آر ایس ایس کی طرف سے اسے صاف پیغام بھی ملا کہ صرف مودی کے نام اور ہندوتو کے ایجنڈے کے بل پر 2024کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہوا جا سکتا ۔اس کو بھی بی جے پی نے سنجیدگی سے لیا ہے اور اب وہ این ڈی اے سے الگ ہو چکی پارٹیوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے اور کئی پارٹیوں سے اس کی بات چیت آخری مرحلے میں ہے ۔نتیش کمار کی مہم پر بھی اس کی گہری نظر ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ یہ محاذ کسی بھی طرح بن نہ پائے اور اگر بنے بھی تو کم از کم کانگریس اس محاذ سے الگ رہے ۔
کانگریس بی جے پی کے لئے کل بھی خطرہ تھی اور آج بھی ہے ۔اس لئے کانگریس پر اس کا حملہ شدید ہوتا جائے گا ۔راہل گاندھی کے انگلینڈ اور امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد نریندر مودی کا امریکہ اور مصر کا دورہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔نریندر مودی اور ان کی ٹیم کسی بھی سرکاری دورے کو ایوینٹ بنانے میں ماہر ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری ہے ۔لیکن یہ بات خلاف واقعہ یوں ہے کے نریندر مودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم ہیں جبکہ راہل گاندھی فی الوقت ایک ممبر پارلیامنٹ بھی نہیں ہیں۔امریکہ اگر نریندر مودی کی پذیرائی کر رہا ہے تو اس کو کرنا چاہئے کیونکہ اس کا سب سے بڑا دشمن چین بھارت کا پڑوسی ہے اور بھارت اور چین میں کشیدگی ہے ۔ایسے میں نریندر مودی کےامریکی دورے سے بھارت کے ووٹرس متاثر ہو جائیں اور نریندر مودی کو ایک بار اور پانچ برس کا موقعہ دے دیں ،یہ کیسی عقلمندی ہے جبکہ ملک میں بیروزگاری اور منہگائی ہی عروج پر نہیں ہے ریاستوں کی سالمیت بھی خطرے میں ہے ۔منی پور کا معاملہ معمولی نہیں جس پر ملک کے اندر نریندر مودی ایک لفظ نہیں بولتے لیکن غیر ملک میں جاکر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔












