شعیب رضا فاطمی
ہمارا ملک ایک بار پھر چاند پر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نیا مشن چندریان تھری رواں ماہ کے وسط میں لانچ ہونے والا ہے۔چاند پر انڈیا کا یہ تیسرا مشن ہے۔ یہ چندریان ٹو کا ہی تسلسل ہے۔اس مشن کے ذریعے اسرو چاند پر ’سافٹ لینڈنگ‘ کی کوشش کر رہا ہے۔ اب تک صرف روس، امریکہ اور چین ہی چاند پر سافٹ لینڈنگ کر سکے ہیں۔انڈیا کے خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ چندریان تھری کے لانچ کے لیے تقریباً سب تیاری مکمل ہے۔
اس مشن پر جانے والے خلائی جہاز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کے ٹیسٹ اور جانچ بھی آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’12 سے 19 جولائی کے درمیان کا وقت اس تجربے کے لیے موزوں ہے۔ دیگر تمام ٹیسٹوں کو مکمل کرنے کے بعد، ہم صحیح تاریخ کا اعلان کریں گے کہ تجربہ کب کیا جائے گا۔‘اس کا مطلب ہے کہ اسرو چند دنوں میں لانچ کی تاریخ کا اعلان کر سکتا ہے۔ تاہم کچھ میڈیا اداروں نے اس حوالے سے خبریں شائع کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرو حکام نے بتایا کہ لانچ 13 جولائی کو دوپہر 2.30 بجے کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ خلائی جہاز 23 اگست کو چاند پر اترے گا۔یہ خلائی جہاز آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے جا رہا ہے۔ اس کے لیے ایل وی ایم تھری راکٹ استعمال کیا جائے گا۔ یہ راکٹ پہلے جی ایس ایل وی مارک تھری کے نام سے جانا جاتا تھا۔
کسی بھی ملک اور اس کے شہریوں کے لئے ایسی خبریں نہایت خوش کن ہوتی ہیں ۔ہمیں فخر ہونا چاہیئے کہ ہمارے قابل سائنسداں رات دن کی جدوجہد کر کے ایسے خلائی تجربات کرتے رہتے ہیں جس سے ہمارا جدید ٹکنالوجی کا نظام بلا کسی دقت کے آگے اور آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔اور ہم دنیا کے سامنے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے نظر آتے ہیں ۔
ہمارا سر تو شرم سے صرف اس وقت جھکتا ہے جب ہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سگریٹ پیتے ہوئے ایک شخص پرویش شکلا کو ایک قبائلی غریب شخص پر پیشاب کر تے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
مدھیہ پردیش کے کبری کا رہنے والا یہ شخص پرویش شکلا مدھیہ پردیش اور مرکز میں بر سر اقتدار دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بی جے پی کا مقامی لیڈر بھی ہے ۔سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی جب عام عوام اور بطور خاص نچلے طبقہ کے لوگوں کا غم و غصہ عروج پر پہنچا تو فورا ہی شکلا کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور چند ماہ بعد مدھیہ پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے پیش نظر وزیر اعلی نے اس قبائلی شخص کو بلا کر کیمرے کے سامنے اس کا پیر دھو کر اس کی عزت افزائی کا ڈرامہ بھی کیا لیکن متاثرہ شخص کی اہلیہ نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرا شوہر ایک ریڑھی چلاتا ہے، وہ روزانہ رات کو کام کے بعد گھر لوٹتے ہیں مگر کل شام جب وہ گھر نہیں آئے تو ہم پریشان تھے کہ وہ کہاں چلے گئے۔ پولیس کو اس لیے اطلاع نہیں دی کیونکہ ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔‘
جب اے این آئی کے رپورٹر نے نوجوان کی بیوی سے پوچھا کہ وہ اس واقعے کے بعد کیا چاہتی ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ اگر کسی نے غلط کیا ہے تو اسے سزا ملے۔ ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور میرا مطالبہ ہے کہ ملزم کو سزا ملنی چاہیے۔
بات بات پر ملک کے وقار کی دہائی دینا ایک بات ہے ،لیکن اس وقار کے لئے کچھ کرنا بالکل دوسری بات ۔اور یہ سیاستدانوں کے لئے اور بھی مشکل ہے کیونکہ ملک کو بانٹنے کی سیاست ہی کے سہارے ان کا سارا کاروبار چل رہا ہے ۔
امرت کال کے نام پر پورے ملک کے لوگوں کو بے وقوف بنانے والے سیاستدانوں سے کون پوچھے کہ آج جو ساری دنیا میں مدھیہ پردیش کے اس پیشاب کانڈ کی دھوم ہے اس سے عالمی پیمانے پر بھارت کی شبیہ کو کچھ نقصان پہنچ رہا ہے یا نہیں ؟جمہوری اقدار شرمندگی کے کس مرحلے میں ہے ؟سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس والا نعرہ جملہ بن کر کیوں رہ گیا ہے ؟












