واشنگٹن (یو این آئی) ٹرمپ نے قومی توانائی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کو بھرنے اور امریکی توانائی کو پوری دنیا میں برآمد کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے امریکی تیل اور گیس کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے ایک وسیع منصوبہ پیش کیا، جس میں قومی توانائی کی ہنگامی صورتحال کا اعلان، اضافی ضوابط کو ختم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے سے امریکا کو واپس لینا شامل ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ان احکامات سے صارفین کے لیے قیمتوں کو کم کرنے اور امریکی قومی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے الاسکا میں تیل اور گیس کی ترقی کو فروغ دینے کے احکام پر بھی دستخط کیے، جس سے آرکٹک کی وسیع زمینوں اور پانیوں کو ڈرلنگ سے بچانے کے لیے بائیڈن کی کوششوں کو ختم دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ کے مطابق امریکا پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی دستبردار ہو جائے گا اور ونڈ فارمز کو لیز پر دینا بند کر دے گا، اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کے مینڈیٹ کو منسوخ کر دیں گے۔
یہ اقدام واشنگٹن کی توانائی پالیسی میں ڈرامائی یو ٹرن کا اشارہ ہے، کیونکہ بائیڈن نے معدنی ایندھن سے دور منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنے اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے میں امریکا کو ’رہنما‘ کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی تھی۔












