واشنگٹن۔ ایم این این۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپسے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ سربراہی ملاقات میں زیر حراست ایغور دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر اٹھائیں۔ایغور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات صرف تجارت اور سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں پر جاری سختیوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق چین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد ایغور دانشوروں، اساتذہ، ادیبوں اور کاروباری شخصیات کو حراست میں لیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان میں سے کئی افراد کو بغیر شفاف عدالتی کارروائی کے طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔عالمی سطح پر ایغور برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اس معاملے کو براہ راست شی جن پنگ کے سامنے اٹھاتے ہیں تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو امید ملے گی بلکہ چین پر بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھے گا۔ماہرین کے مطابق ایسے افراد کی رہائی کا مطالبہ امریکہ کے انسانی حقوق کے مؤقف کو مضبوط کرے گا اور یہ واضح پیغام دے گا کہ واشنگٹن اقتصادی اور تزویراتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی آزادیوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات عالمی سیاست، تجارت اور انسانی حقوق کے کئی اہم معاملات پر اثرانداز ہو سکتی ہے، اور ایغور قیدیوں کا مسئلہ اس ملاقات کا ایک نمایاں موضوع بن سکتا ہے۔
