نئی دہلی، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کو مزید پلوں اور اس کے بعد بجلی کے پاور پلانٹس کی تباہی کی دھمکی دیتے ہوئے تہران سے کہا ہے کہ وہ "تیزی” سے وہ کام کرے جو "کیا جانا چاہیے”۔اگرچہ انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کا "تیزی سے وہ کام کریں جو کیا جانا چاہیے” سے کیا مراد ہے، لیکن ان کا اشارہ ایران کو کسی معاہدے پر مجبور کرنے کی طرف تھا۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا، "اگلا نمبر پلوں کا ہے، پھر الیکٹرک پاور پلانٹس! نئی حکومت کی قیادت جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے، اور وہ کام تیزی سے ہونا چاہیے۔” ٹرمپ کی یہ وارننگ ایک وسیع مہم کا حصہ ہے جس کے تحت اہداف کو ایرانی فوجی تنصیبات سے شہری انفراسٹرکچر کی طرف منتقل کیا گیا ہے، جس میں اسٹیل پلانٹس، پاور سب اسٹیشنز اور ادویات سازی کے مراکز پر حملے شامل ہیں۔امریکی فوج کو "دنیا کی سب سے طاقتور” فوج قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی ایران میں بچی کھچی چیزوں کو تباہ کرنا شروع بھی نہیں کیا ہے۔ٹرمپ نے جمعرات کی رات ایران کے "سب سے بڑے پل” کی تباہی کا اعلان کیا اور تہران سے مطالبہ کیا کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، وہ معاہدہ کر لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے اس سے پہلے کہ وہاں کچھ بھی نہ بچے جو ابھی بھی ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ٹرمپ نے کہا، ایران کا سب سے بڑا پل گر کر تباہ ہو گیا، جو اب دوبارہ کبھی استعمال نہیں ہو سکے گا – ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے! یہ ایران کے لیے معاہدہ کرنے کا وقت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے جو اب بھی ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔”اگرچہ ٹرمپ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن اور فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پل پر ہونے والے حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوئے ہیں۔تہران سے تقریباً 40 کلومیٹر مغرب میں واقع شہر کرج میں یہ پل (بی 1 برج)، جسے تہران-کرج پل بھی کہا جاتا ہے، جمعرات کو امریکی اور اسرائیلی فضائیہ کے حملے کا نشانہ بنا۔ ایرانی میڈیا اور حکام نے اسے "مشرق وسطیٰ کا بلند ترین پل” قرار دیا ہے۔ کرج ناردرن بائی پاس کا حصہ یہ پل ایک اہم ٹرانسپورٹ لنک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ تہران اور کرج کے درمیان سفر کے وقت کو ایک گھنٹے سے کم کر کے تقریباً 10 منٹ کر دیا جائے۔ یہ پل انفراسٹرکچر کا ایک تاریخی منصوبہ تھا جو تکمیل کے قریب تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔












