واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کے ساتھ مل کر ایک طبی بحری جہاز گرین لینڈ بھیجنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس اقدام کی درخواست ڈنمارک یا گرین لینڈ کی جانب سے کی گئی تھی صدر ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن گورنرز کے اعزاز میں عشائیے سے قبل سوشل میڈیا پر کیا۔ عشائیے کے دوران وہ گورنر لینڈری کے ہمراہ بیٹھے اور اس معاملے پر گفتگو بھی کی۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ لوزیانا کے گورنر کے ساتھ مل کر ایک عظیم طبی بحری جہاز” گرین لینڈ روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان بیمار افراد کی دیکھ بھال کی جا سکے جنہیں مناسب سہولیات میسر نہیں۔ تاہم نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی گورنر لینڈری کے دفتر نے اس بارے میں مزید وضاحت کی کہ کن مریضوں کو امداد درکار ہے یا آیا اس اقدام کے لیے مقامی حکام سے باضابطہ درخواست موصول ہوئی تھی۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی فوری تبصرہ نہیں کیا۔یاد رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے اور صدر ٹرمپ ماضی میں اسے حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بادشاہ فریڈرک نے ایک سال کے دوران دوسری بار گرین لینڈ کا دورہ کیا، جسے ڈنمارک کی جانب سے اس علاقے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا گیا۔چند ماہ کی کشیدگی کے بعد نیٹو کے دفاعی اتحاد کے دائرے میں گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان اس معاملے پر بات چیت بھی ہوئی تھی۔دریں اثنا ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ نے بتایا کہ اس نے اپنے ایک اہلکار کو طبی ایمرجنسی کے باعث ایک امریکی آبدوز کے ذریعے منتقل کیا، جو گرین لینڈ کے دارالحکومت نیوک کے قریب موجود تھی۔












