یوروپی ملک ترکی اور مشرق وسطیٰ کے ملک شام ،لبنان ان دنوں ایک بڑی قدرتی آفت سے نبرد آزما ہیں۔گزشتہ پیر کی صبح دونوں ممالک کو ایک ہولناک زلزلے نے آگھیرا ۔لوگ ابھی کچھ سمجھ پاتے اور اپنے گھروں سے بھاگ کر باہر نکل پاتے ،قیامت خیز زلزلے نے ان کے مکانوں کو زمیں بوس کردےا اوربے شمار لوگ اپنے مکانوں میں دب گئے۔اب تک دونوں ممالک سے تقریباً پانچ ہزار لوگوں کے مرنے کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں ،حالانکہ مہلوکین کی تعداد سرکاری طور پر کہیں زےادہ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق دس ہزار لوگ مرے ہیں اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں۔بے شمار لوگ اب بھی ان عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں جو پلک جھپکتے تاش کے پتوں کی طرح ڈھہ گئیں۔شام و ترکی میں آئے اس زلزلے کی شدت 7.8تھی جو ماہرین کے مطابق کسی بھی علاقے میں تباہی کے لئے کافی ہوتی ہے۔ جنوبی ترکی اور شام کے شمالی علاقہ اس زلزلے سے سب سے زےادہ متاثرہوئے ہیں ۔خاص بات یہ ہے کہ اسی کے ساتھ لبنان میں دوپہر میں شدت کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس نے لوگوں میں دہشت مزید بڑھادی۔اس زلزلے کے بعد ترکی اور شام میں جو حالات ہیں وہ بےحد لرزہ خیز ہیں ۔وہاں کے لوگوں کے لئے اس وقت ان کو بےان کرنا کافی مشکل ہے۔ جس طرح سے لوگوںنے اپنی کہانی سنائی اور تجربات شیئر کئے وہ کافی دردناک ہیں۔ بے شمار لوگ اب بھی ملبہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں،جن کی زندگی کو بچانا ایک چیلنج بن رہاہے ۔کیونکہ اس وقت ترکی اور آس پاس کے ممالک میں سخت سردی پڑ رہی ہے،تازہ برف باری کی وجہ سے پارہ مزید گر گےا ہے جس نے راحت و بچاؤ کے کام کو بے حد مشکل بنا دےا ہے ۔کئی مقامات پر گیس کی پائپ لائن کے پھٹنے سے آگ لگ گئی جس نے لوگوں کی دشوارےوںکو اور زےادہ بڑھا دےا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے یورپی دفترکی جانب سے کہا گےا ہے کہ آفٹرشاکس کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں ان کو بھی اپنے لوگوں کی موت کا غم ہے تو وہیں دوسری طرف رہائش اور کھانے پینے کی اشےاءاور دیگر علاج ومعالجہ کی دشوارےاں آزمائش بن کر کھڑی ہوئی ہیں۔ بہر حال ترکی اور شام کے حالات دگر گوں ہیں اور دونوں ممالک کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے ۔شام پہلے ہی روسی بمباری اورخانہ جنگی کی وجہ سے کسمپرسی کے حالات کا شکار ہے۔وہاں پہلے ہی بھکمری ،غربت اور عرب اور روسی کاروائی سے شہرےوں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں اور اب زلزلے سے حالات کہیںزےادہ ہنگامی ہوگئے ہیں ایسے میںسےاسی مجبورےوں کو طاق پر رکھ کر ترکی کے ساتھ شام کی بھی انسانی بنےادوں پر مدد کی جانی چاہئے۔ یہ حالات کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں کیونکہ قدرت پر کسی کا اختےار نہیں ۔بلا شبہ ترکی سب سے زےادہ آنے والے زلزلوںکی پٹی پر بسا ہوا ہے جہاں نہاےت شدت کے زلزلوں کی تاریخ رہی ہے۔سال 1999میں آئے زلزلے میں بیس ہزار لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔اس کے بعد بھی کئی کم شدت کے زلزلے آئے اور ان میں بھی سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔اس وقت ترکی میں بچاؤ ٹیموں کے سامنے لوگوں کو ملبے سے باہر نکالنا چیلنج ہے ۔ان کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر زےادہ سے زیادہ لوگوں کو کیسے باہر نکا لا جائے۔ اس کے لئے اگلے 24 گھنٹے نہاےت اہم ہونگے کیونکہ 48گھنٹے کے بعد لوگوں کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔اس لئے کوشش کی جارہی ہے کہ انہیں کسی بھی صورت میں باہر نکالا جائے۔اس میں جہاں اسباب کی کمی ہے تو وہیں موسم کی شدت بھی آڑے آرہی ہے ۔اس لئے اگر ہنگامی اور جنگی پیمانے پر یہ کام شروع کر دےا جائے تو کئی زندگےوں کو بچاےا جاسکتا ہے ۔کیونکہ متاثرین میں بوڑھے ،بچے ،عورتیں اور مرد سبھی شامل ہیں ،ان میں بیمار بھی ہیں اور معذور بھی جو لوگوں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔پورے ملک میں قےامت کا منظرہے اور حالات رلا دینے والے ہیں۔یہ گھڑی ان مجبوراورستم زدہ لوگوںکی مدد کرنے کے ساتھ روتے بلکتے لوگوں کو دلاسہ دینے اور ان کے زخم بھرنے کی ہے۔ضرورت ان کا درد بانٹنے اور ان کے احساس کو سمجھنے کی ہے۔اس لئے تمام سےاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر سوچا جانا چاہئے۔ ابھی جانی اور مالی نقصان کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس زلزلے سے ترکی اور شام و لبنان کو شدید نقصان پہنچا ہے ، انہیں ہلا کر رکھ دیاہے ۔لہذا بچاؤ کے کاموں میں رضاکار اداروں ،تنظیموں اورخود اقوام متحدہ کو انسانی مدد کےلئے ہاتھ بڑھانا چاہئے۔اس میںبغیر کسی فرق مسلک و مذہب آگے آےا جائے اوررفاہی کام میں بلا جھجک حصہ لیا جائے ۔بھارت سمیت کئی ہمسایہ ممالک نے ترکی میں زلزلے سے ہوئے نقصانات کو دور کرنے میں مدد کی جو پیش کش کی ہے ،قابل ستائش ہے اور یہ ترکی اور شام کے متاثرین کے زخموں کو مندمل کرنے کے ساتھ جینے کا حوصلہ بخشیںگی۔اللہ ہم سبھی کو ایسی آزمائش اور آفت سے محفوظ رکھے۔آمین












