ممبئی ، پریس ریلیز ،ہمارا سماج:صو بہ مہا راشٹر میں تنظیمی سرگرمیوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے 7 فروری 2026 کو شہر مالیگائوںمیں منعقد ہونے والے صوبائی اجلاس (مجلسِ عاملہ و منتظمہ) کے حوالے سے صدرِ محترم حافظ ندیم صدیقی صاحب سے اہم مشاورتی ملاقات منعقد ہوئی۔ملاقات کے دوران صوبائی اجلاس کے اغراض و مقاصد، ایجنڈا، انتظامی امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ صدرِ محترم نے اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ذمہ داران باہمی تعاون اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اس موقع پر تنظیمی استحکام، باہمی ربط اور آئندہ لائحۂ عمل سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، جن پر عمل درآمد کے لیے اتفاقِ رائے پایا گیا۔ صدرِ محترم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی اجلاس تنظیمی رہنمائی اور فکری ہم آہنگی کے حوالے سے ایک مؤثر سنگِ میل ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ مورخہ 6 جنوری 2026 بروز منگل دوپہر بارہ بجے مولانا آصف شعبان صاحب کی قیادت میں جمعیۃعلماء سلیمانی چوک کا ایک وفد 7 فروری 2026 صوبائی اجلاس، مجلسِ عاملہ و منتظمہ کے متعلق صدرِ محترم حافظ ندیم صدیقی صاحب سے ملاقات کرنے کی غرض سے اورنگ آباد روانہ ہوا، ساڑھے تین بجے اورنگ آباد پہنچ کر صدر صاحب سے ملاقات ہوئی، تقریباً دو گھنٹہ اجلاس کی تیاریوں کے متعلق آپس میں صلاح مشورہ ہوا ، چوں کہ اجلاس کی تاریخ قریب ہے، اور اس میں پورے مہاراشٹر سے ارکانِ عاملہ و منتظمہ شریک ہوں گے جن کی تعداد تقریباً بارہ سو سے زائد ہوگی اور یہ سرزمینِ مالیگاؤں پر اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد اجلاس ہے، اس لیے اس کی تیاری، تجاویز، مکمّل شیڈول اور دیگر کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ مولانا ندیم صدیقی صاحب نے جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کی تیاری، طریقۂ فعالیت تیزی اور تندہی دیکھ کر بلند الفاظ میں سراہنا کی اور مولانا آصف شعبان صاحب سے فرمایا کہ مولانا آپ! جمعیتِ علماء مہاراشٹر اُتر کے سیکرٹری ہے،اس لیے ضلع نندوربار اور ضلع دھولیہ کو مضبوط و مستحکم کریں، یعنی صدرِ محترم نے ان دونوں ضلعوں کو فعال و متحرک کرنے کی خصوصی ہدایت دی اور فرمایا کہ آپ لوگوں نے اتنے منظم انداز میں شیڈول بنایا کہ مجھے اجلاس سے قبل آنے کی ضرورت نہیں، علاوہ ازیں ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کی ایکٹیویٹی پر اطمینان کا اظہار کیا اور خوب دعائیں دی،اس وفد میں مولانا آصف شعبان صاحب، قاری اخلاق احمد جمالی، مولانا نیاز احمد ملی، مفتی محمد اسلم جامعی، حافظ محسن کریم محمدی، ظہیر قیصر موجود تھے۔












