دبئی ، عرب دنیا کے لئے یہ خبر کس قدر خوش کن اور تاریخی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے خلائی سیاح نہ صرف خلا میں پہنچے بلکہ طیارے سے نکل کر چہل قدمی بھی کی ۔سلطان النیادی کو خلا میں تاریخی متاثر کن کارنامہ انجام دینے پر یو اے ای کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم نے خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے امیراتی ،پہلے عرب اور پہلے مسلم خلاباز کی حیثیت سے خوب تعریف کی۔یو اے ای مسلم ممالک میں پہلا اور ایسا اکیلا ملک ہے جس نے یہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس واقعے کی وجہ سے عرب دنیا میں سائنسی تحقیق اور تعلیم کا ماحول قائم ہوگا ۔اس تاریخ ساز خبر کا پوری عرب دنیا مارچ سے ہی انتظار کر رہی تھی ۔ سلطان النیادی، دو ماہ کے لیے خلائی مرکز میں تھے اور انھوں نے وہاں سے خلائی چہل قدمی کی۔ اگر یہ عربی خلا باز چہل قدمی کئے بغیر واپس آ جاتے تو شاید دنیا میں ان کی اس قدر پذیرائی نہ ہوتی لیکن اب انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔خلا میں چہل قدمی نہایت مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔اس کام کے لئے ان کے جسم پر جو لباس ہوتا ہے زمین پر اس کا وزن 145 کلوگرام ہوتا ہے۔
گزشتہ ہفتے سے ہی نیادی نہایت پرجوش تھے اور انہوں نے ٹویٹ کرکے اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا تھا اور عالمی برادری سے دعاؤں کی درخوست بھی کی تھی ۔ اس خلائی چہل قدمی کا سب سے اہم مقصد ایک نہایت اہم موصلاتی پرزے کو اپ گریڈ کرنا اور ایک پرزے کو دوبارہ فعال بنانا تھا۔ اس خلائی چہل قدمی میں نیادی کے ساتھ ناسا کے خلاباز اسٹیفن بوون بھی تھے ۔ کسی خلائی مسافر کے لیے خلائی چہل قدمی سب سے زیادہ پرخطر کام سمجھا جاتا ہے لیکن انتہائی ہنر مند خلا باز بوون آٹھ مرتبہ یہ چہل قدمی کر چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ خلائی چہل قدمی کرنے والے نیادی کی ہمت اور سائنسی قابلیت تعریف کی مستحق ہے۔ نوادی خلاء میں صرف چہل قدمی کے لیے نہیں گئے ہیں، بلکہ وہ تحقیق میں مصروف ہیں اور دنیا کے معروف خلائی ادارے ناسا کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے پہلے خلاباز اور اس مشن پرالنیادی کے ساتھ حمزہ المنصوری، کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے نیادی کی خلائی چہل قدمی میں ان کا بھر پور تعاون کیا۔یقیناً عرب دنیا کے لوگوں کی اکثریت اس حوصلہ افزا خبر پر حیران ہوگی۔ عرب کے لوگوں کے خیالات یورپیوں یا امریکیوں سے بہت مختلف ہیں۔
عرب دنیا میں شاید ایک سنہری دور گزرا ہو لیکن آج پوری عرب دنیا خونریزی اور لڑائی جھگڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ عرب دنیا کے حکمرانوں نے سائنسی ترقی کے معاملے میں کوئی قابل تحسین کام نہیں کیا ہے ۔ایسے میں متحدہ عرب امارات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو تیل سے حاصل ہونے والی رقم کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ اس ملک کے خلائی مشن نے ناسا کی مدد سے کافی ترقی کی ہے۔ ان کی یہ کامیابی ہندوستان کے لیے بھی قابل توجہ ہے اور یہ بہت سارے ہندوستانی خلائی سائنسدانوں کو بھی متاثر کرے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک انسانیت کی فلاح کے لئے کام کریں اور یہ پیغام ایک بار پھر عرب سے نشر ہو رہا ہے ۔












