
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہندوستان میں مغلیہ دورِ حکومت میں اسلام کا قانون ہی ملک کا قانون تھا ،یعنی سول قانون ہی نہیں بلکہ فوجداری قانون بھی اسلام ہی کا قانون تھااور اس کے مطابق ہی عدالتوں کا نظام چلتا تھا،البتہ غیر مسلموں کو بیاہ شادی،وراثت جائیدادوغیرہ کے سلسلہ میں ان کے اپنے مذہبی اور روایتی قانون پر چلنے کی پوری آزادی تھی، یعنی ان کے لئے اپنا پرسنل لا تھا اور مسلمانوں کے لئے اپنا پرسنل لا۔پھر1725ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے عدالتوں کی از سرِ نو تنظیم کی ،تو انگریز جج قانون دانوں کی مدد سے اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہے،بعد میں رفتہ رفتہ انگریزی قانون رائج ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ1822ء میں اسلام کے فوجداری قانون کو ختم کرکے ’’انڈین پینل کوڈ‘‘نافذ کردیا گیا، اور نکاح ،طلاق،وراثت اور ھبہ وغیرہ عائلی اور شخصی امور کی حد تک اسلامی قانون کو باقی رہنے دیا گیا،لیکن غیر اسلامی تہذیب کے زیر اثر مسلمانوں کی بعض برادریوں میں رواجی قانون نے اسلامی قانون کی جگہ لے لی تھی،مثلاً ہندو تہذیب کے زیر اثر عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتاتھا ،اسلئے مسلمان اور علمائے کرام کے مطالبے پر انگریزوں کے دور میں 1937ء میں ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کا نفاذ عمل میں آیا،اسی سے پتہ چلا کہ :
’’ مسلم پرسنل لا ‘‘ کی اصطلاح انگریزوں کے دور سے ہے اور انگریزی حکومت نے کبھی بھی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی بات نہیں کہی۔
مسلم پرسنل لا ؛اصولی طور پر صرف 4 سول معاملات پر لاگو ہوتا ہے جو یہ ہیں: ۱ نکاح۔ ۲ طلاق۔ ۳ وراثت ۔ ۴ وقف؛باقی چیزیں انہیں کی ذیل میں آتی ہیں۔
نیز یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ :
مسلم پرسنل لا ؛بین المذاہب نکاح پر لاگو نہیں ہوتا، یعنی اگر کوئی مسلم مرد یا عورت کسی غیر مسلم سے نکاح کرتا ہے، تو یہ ’’خصوصی میرج ایکٹ‘‘ کے تحت آتا ہے۔
مسلم پرسنل لا ؛مجرمانہ معاملات پر لاگو نہیں ہوتا، یعنی مجرمانہ قانون جو اوروں کے لئے ہیں، وہی مسلمانوں کے لیے ہیں۔
مسلم پرسنل لا ؛ ختم ہونے سے غیر مسلموں کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں،کیونکہ یہ مذکورہ چاروں چیزیں صرف مسلمانوں سے متعلق ہیں ۔
اس موقع پر ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ:
آئینِ ہند کی دفعہ:25تمام بھارتی شہریوں کو ضمیر کی آزادی،کوئی بھی مذہب قبول کرنے، اسکی پیروی کرنے اوراسکی تبلیغ کرنے کا مکمل مساوی حق دیتی ہے۔
آئین ہند؛ کی دفعہ :26ہر ایک مذہبی فرقے ،اس کے کسی بھی طبقے کو حق دیتی ہے کہ مذہبی اور خیراتی اغراض کے لئے ادارے قائم کئے جائیں اور چلائے جائیں نیزاپنے مذہبی امور کا انتظام خود کیا جائے ۔
آئین ہند؛ کی دفعہ :44 یونیفارم یکساں سول کوڈ کی بابت حکومت کو ہدایت دیتی ہے کہ پورے ملک میں بتدریج یکساں سول کوڈ لایا جائے۔اس دفعہ کا متن یہ ہے: ’’حکومت شہریوں کے لئے ایک ایسا مشترکہ سول کوڈ رائج کرنے کے لئے جد وجہد کرے جس کا نفاذ ہندوستان کے طول وعرض میں ہو‘‘۔ مگر یاد رہے کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دستور سازی کے وقت کہا تھا کہ ’’یونیفارم مطلوب تو ہے مگر فی الوقت اسے رضا کارانہ رہنا چاہئے ،یعنی یہ آئین اس وقت پورا ہوگا جب کہ قوم اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہو جائیگی ،اس کے بعد ہی UCCکو سماجی قبولیت دی جائیگی۔اسی بنیاد پر 2018ء میں لا کمیشن نے یکساں سول کوڈ کی تجویز کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت میں تنوُّع یعنی مختلف مذاہب کے وجود کا جشن منانا چاہئے اور اس کا احترام ہونا چاہئے ،کمیشن نے یہ بھی کہا تھاکہ’’ یونیفارم سول کوڈ‘‘ فی الوقت بھارت کے لئے غیر ضروری اور غیر مطلوب ہے۔یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ لا کمیشن کوئی آئینی ادارہ نہیں، اس کی حیثیت صرف مشاورتی ادارہ کی ہے، جسکے مشورے تسلیم کرنا حکومت کے لئے ضروری بھی نہیں۔یونیفارم سول کوڈ کا قانون لانے والوں کو یہ بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ:
آئین ہند؛کی دفعہ: 47 غذائیت اور زندگی کے معیار کو بلند کرنے ،صحت ِ عامہ اور شراب کی ممانعت کی ہدایت دیتی ہے، لیکن حکومت اس پر غور نہیں کرتی۔
آئین ہند؛کی دفعہ:38آمدنی کی عدم مساوات کو کم کرنے اور حیثیت ،سہولیات اور آمدنی کے مواقع میں عدم مساوات کو ختم کرنیکی ہدایت دیتی ہے،حالانکہ ملک میں دس فیصد افراد کل آمدنی کا 30فیصد حصہ حاصل کررہے ہیں، ملک کے امیر ترین ایک فیصد افراد کے پاس ملک کی کل دولت کا 58فیصد حصہ ہے اور سب سے اوپر دس فیصد افراد کے پاس 73فیصد دولت ہے۔یہ حکومت دفعہ:44کی تو بات کرتی ہے مگر47 اور 38 کی بات نہیں کرتی۔
مسلم پرسنل لا میں مداخلت
آجUCCکے نام پر مسلم پرسنل لا میں کوئی نئی مداخلت نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی مذموم کوششیں ہوتی رہی ہیں اور الحمد للہ مسلمانوں کی جد وجہد اور پیہم کو شش سے وہ ختم یا کالعدم ہوتی رہی ہیں۔چنانچہ 1972ء کو راجیہ سبھا میں ’’لے پالک‘‘ نامی بل لایا گیا، جس میں گود لئے بیٹے کو حقیقی بیٹا گردانا گیا تھا، جو اسلامی شریعت کے بالکل خلاف تھا ، اور اس موقع پر وزیر قانون ایچ آرگھوگرے نے یہ بھی کہا تھا’’ کہ یہ بل یکساں سول کوڈ کی جانب پہلا قدم ہے‘‘تب دار العلوم دیوبند میں13؍14مارچ 1972ء کو تمام مکاتب فکرکا ایک نمائندہ اجلاس بلایا گیااور پھر ایک بہت بڑا اجتماع 27؍28دسمبر1972ء کو عروس البلاد ممبئی میں منعقد کیا گیا ،اس میں یہ تجویز منظور کی گئی کہ ’’یہ اجلاس [متبنیّٰ بل1972ء]کو اپنی موجودہ شکل میں قانون شریعت میں مداخلت سمجھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے ‘‘۔
اسی اجلاس میں با ضابطہ ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ لیا گیا اور آئندہ سال 7اپریل 1973ء کو حیدرآبادمیں اس کا قیام وجود میں آگیا، اس کے پہلے صدر جناب قاری محمد طیب صاحب علیہ الرحمہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند اور سکریٹری مولنا منت اللہ رحمانی منتخب ہوئے ،اور پھر جو بورڈ کی تحریک شروع ہوئی تو 1978ء میں جنتا حکومت کو یہ’’ لے پالک بل‘‘ واپس لینا پڑا۔1975ء میں اندرا گاندھی نے ایمر جنسی نافذ کردی اور سنجے گاندھی نے جبری طور پر نسبندی کی مہم چلائی اور مسلمان اس حکم کا خاص طور سے نشانہ تھے، مگر ہمارے اکابر نے اسی ماحول میں متفقہ فیصلہ لیا کہ ’’جبری نسبندی اسلام میں حرام ہے‘‘۔ 1978ء میں لکھنؤ ہائی کورٹ نے مساجد ومقابر کے سلسلہ میں یہ فیصلہ سنادیا، کہ مفاد عامہ کی خاطر حکومت ان پر قبضہ کرسکتی ہے اور پھر لکھنؤ کی دو مساجد ،ایک قبرستان اور راجستھان کی ایک مسجد کو حکومت نے ایکوائر کر بھی لیا، مگر مسلمانوں کی تحریک کی وجہ سے یوپی وراجستھان کی سرکار نے اس فیصلہ کو کالعدم قراردیدیا اور یہ مساجد وقبرستان واپس بھی مل گئے ۔1980ء میں کانگریس کی حکومت نے اس متبنی بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیا ,لیکن بروقت ہمارے اکابر کی کارروائی سے اس بل میں واضح الفاظ میں مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ۔1980ء میں اوقاف پر انکم ٹیکس لگانے کا قانون جاری کیا گیا، لیکن ہمارے اکابر نے اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی سے ملاقات وگفت وشنید کر اس کو رد کرادیا۔
1986ء میں شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے ایک فیصلہ سنایا گیا، جس میں مطلقہ کو نکاح ثانی کرنے تک پہلے شوہر پر نان نفقہ لازم قراردیا گیا تھاجو شریعت کے سراسرخلاف تھا ،اب مسلمانوں کی زبردست تحریک پر اس کا متبادل ’’مسلم مطلقہ قانون‘‘ کے نام سے دوسرابل حکومت نے پارلیمنٹ سے پاس کرایا ۔آج جبکہ حکومت کی نیت میں صاف کھوٹ دکھائی دے رہاہے آئے دن مسلمانوں کو ہراساں وپریشاں کیا جارہاہے، تو ہم لوگ سول کوڈ کو یکسر مسترد کرتے ہیں اورمسلمانوںکو حضرت مولانا علی میاں ندویؒ کا یہ قول یاد دلاتے ہیں کہ ’’اگر ہم یکساں سول کوڈ کو تسلیم کرلیں تو چالیس آیتیں اورسینکڑوں احادیث سے مسلمانوں کو دستبردار ہونا پڑے گا ‘‘۔
UCC یعنی یونیفارم سول کوڈ کے نقصانات
ابھی تک بھارتی حکومت نے یکساں سول کوڈ کے سلسلہ میں کوئی گائڈ لائن توجاری نہیں کی ہے، کہ یکساں سول کوڈ میں کیا کیا چیزیں ہو نگی ،کیا کیا نہیں ہونگی؟اس لئے یقین کے ساتھ ابھی متعین طریقہ پر نہیں کہا جا سکتا کہ یکساں سول کوڈ کی اسلامی شریعت کے کن کن اصولوں پر زد پڑے گی ؟تاہم یہ خدشہ ضرور ہے کہ اگر یہ قانون پاس ہوکر نافذ العمل ہو جاتا ہے،تو اس کا نقصان ویسے توملک کی تمام اقلیتوں کو ہوگا، لیکن زیادہ نقصان مسلمانوں کوہی اٹھانا پڑے گا ۔مثال کے طور پر :
نکاح وبلوغ کی عمر:اسلامی شریعت کی نظر میںلڑکا 12سال کے بعد اور لڑکی 9سال کے بعد یا تو بلوغ کی کسی علامت کو محسوس کرلیں یا پھر 15سال کے مکمل ہوجائیں، تو بالغ شمار ہوتے ہیں،لیکن اس قانون کی رُو سے جو عمر بھی حکومت کی طرف سے طے کی جائیگی، خواہ وہ 20سال ہو یا 22سال ،لڑکا ولڑکی تب ہی بالغ شمار ہونگے جب کہ وہ اس عمر کو پہنچ جائیں ،لہذا اس سے پہلے ہونے والا نکاح بھی قانوناً جرم ہو گا ۔
طلاق کا حق : شریعت نے طلاق کا حق صرف شوہر کو دیا ہے، جس میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں ،خلع کاحق البتہ عورت کو ضرور حاصل ہے ،لیکن اس قانون کے آجانے کے بعدیہ پورا اندیشہ ہے کہ طلاق کا حق عورت کو بھی دیدیا جائیگا اور اب عورت سے خلع کا حق ساقط کردیا جائیگا، اسکی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
وراثت میں مساوات:وراثت کے سلسلہ میں متعدد احادیث کے علاوہ قرآن کریم کا مکمل ایک رکوع( ؍۱۲ پارہ؍۴ سورۂ نساء) نازل ہوا ہے، جس کی رُو سے وُرثا میں اگر لڑکا ولڑکی دونوں ہوں تو لڑکی کو لڑکے کے مقابلے آدھا حصہ ملتا ہے، جو بالکل انصاف پر مبنی ہے، کیونکہ لڑکی باپ کے گھر اپنی زندگی کا تقریبا ًآدھا حصہ ہی گزارتی ہے ،باقی زندگی شوہر کے پاس گزارتی ہے اور وہاں پر وہ شوہر کی وراثت میں بھی حقدار ہوتی ہے ،اِدھر ماں باپ کی خدمت ودیکھ ریکھ کی ذمہ داری لڑکی کے چلے جانے کے بعد اب لڑکے پر عائد ہوتی ہے، تو اسلئے شریعت کا یہ اصول مبنی بر انصاف ہے ،لیکن جب یہUCC قانون نافذ ہوگا تو دونوں کو برابری کے ساتھ باپ کی وراثت میں حصہ دیا جائیگا۔
لے پالک بیٹا: شریعت اسلامیہ میں کسی بچہ کو گود لینا جائز ہے لیکن وہ حقیقی اور نسبی بیٹا نہیں ہوتا، بلکہ اجنبی ہی رہتا ہے ،لہذا وہ باپ کی میراث میں نسبی لڑکے کی طرح وارث بھی نہیں بنتا ،البتہ اس کے حق میں وصیت کا آپشن باقی رہتا ہے،لیکن اس یکساں سول کوڈ والے قانون کے نفاذ کے بعد یہ’’ لے پالک بیٹا‘‘ حقیقی اور نسبی بیٹا ہی شمار ہوگا ،جیسا کہ پہلے 1972 ء میں اس طرح کی کوششیں حکومت کی طرف سے ہو چکی ہیں۔
وقف املاک:شرعی نقطہ نظر سے وقف کردہ منقولہ یا غیر منقولہ جائداد، واقف کی ملکیت سے نکل کر ایک اللہ کی ملکیت میںمنتقل ہو جاتی ہے،اب اس میں تصرف کا اختیار صرف اسی کو ہوتا ہے جس کو واقف نے ’’متولی‘‘ مقرر کیا ہو،لیکن اس کو بھی اس کے بیچنے یا اپنے ذاتی تصرف میں لانے کا حق نہیں ہوتا، لیکن اگر یہ قانون آجاتا ہے تو اب یہ وقف کی تمام جائیدادحکومت کے کنٹرول میں چلی جائیگی اور وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے جیسے چاہے گی خرچ کرے گی جو امت ِمسلمہ کا بہت بڑا خسارہ ہوگا ۔
اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس قانون کی مخالفت میں لا کمیشن کو اپنی رائے دیں اور ضرور دیں! نیز اپنے خاندان ومتعلقین سے دلوائیں!۔ اللہ تعالی ملک وملت کی حفاظت فرمائے آمین۔
سراج الدین قاسمی












