پام بیچ، فلوریڈا ، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پچانوے فی صد تک یوکرین روس امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اتوار کو فلوریڈا کے پام بیچ پر رہائش گاہ مار اے لاگو میں یوکرین کے ہم منصب ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس امن معاہدے کے لیے ہم اب تک کے سب سے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے والی ملاقات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا صدر زیلنسکی سے ملاقات بہت شاندار رہی، یوکرین اور روس امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی ایک یا دو انتہائی کانٹے دار مسائل باقی ہیں جو جلد حل کر لیے جائیں گے۔ صدر زیلنسکی نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جنگ بندی کی تجاویز پر مفید بات چیت ہوئی، 20 نکاتی امن منصوبے پر 90 فی صد تک اتفاق کیا جا چکا ہے، یوکرین امن کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ اس بار امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی کی میزبانی اپنے فلوریڈا کے ریزورٹ میں کی۔ ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات پیچیدہ ہیں اور اب بھی ناکام ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ مزید برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس ملاقات سے قبل ٹرمپ کے بقول ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ڈھائی گھنٹے طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ انھیں یقین ہے پیوٹن اب بھی امن چاہتے ہیں، اور روس چاہتا ہے کہ یوکرین کامیاب ہو۔ واضح رہے کہ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار اپنے ہم منصب زیلنسکی کو بہادر بھی قرار دیا۔ ٹرمپ اور زیلینسکی دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کئی پیچیدہ مسائل اب بھی حل طلب ہیں، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا روس اُن یوکرینی علاقوں کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے جن پر اس کا کنٹرول ہے، نیز یوکرین کے لیے ایسے سیکیورٹی ضمانتوں کا معاملہ بھی شامل ہے تاکہ مستقبل میں اس پر دوبارہ حملہ نہ ہو۔












