اشفاق گلزار
سرینگر،سماج نیوز سروس:نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے آج حلقہ انتخاب بڈگام سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی ڈی سی آفس بڈگام میں داخل کئے۔ اُن کے ہمراہ پارٹی کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی، سینئر لیڈر آغا سید محمود، ٹریجرر شمی اوبرائے، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، ضلع صدر بڈگام غلام نبی بٹ اور اقلیتی سیل کے کنوینیر جگدیش سنگھ آزاد اور ترجمان سارا حیات شاہ بھی تھے۔تفصیلات کے مطابق پارٹی سینئر لیڈر و اُمیدوار برائے حلقہ انتخاب بیروہ ڈاکٹر محمد شفیع وانی نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہمراہ ایس ڈی ایم بیروہ کے دفتر میں کاغذات جمع کئے۔ اُن کے ہمراہ رکن پارلیمان آغا سید روح مہدی، سینئر لیڈران پرفیسر عبدالمجید متو، محمد ابراہیم میر، محمد اشرف متو اور دیگر عہدیداران بھی تھے۔ اس دوران پارٹی اُمیدواروں کو جگہ جگہ پر پُرتپاک اور گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وہاں موجودہ مقامی پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جموںوکشمیر کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، یہاںکے عوام سے تمام بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق چھین لئے گئے، تعمیر و ترقی کی تمام راہیں بند کی گئیں، گذشتہ 10برس سے جموں وکشمیر کے عوام کو خوف و ہراس، دھونس و دبائو اور تنگ طلبی کے زیر عتاب رکھا گیا ہے۔ ہمارے وسائل باہری لوگوں کو دیکر ان کی لوٹ جاری ہے۔ بی جے پی کے تمام تعمیر و ترقی اور امن کے دعوے فریب اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ غیر مقامی افسران کی بھرمار سے یہاں کی انتظامیہ مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لوگوںکا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ مہنگائی عروج پر ہے، اقتصادی بدحالی نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، بے روزگاری کے تمام ریکارڈ مات ہوگئے ہیں اور درپردہ طو رپر یہاں کی نوکریاں باہر کے اُمیدواروں کو دی جارہی ہیں۔ یہ لوگ ہمیں غلام سمجھتے ہیں لیکن انہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ یہاں کے عوام کسی کے غلام نہیں ہیں، یہاں کے عوام ہی جموںوکشمیر کے اصل مالک ہیں اور یہاں کی ہر ایک شے پر اُنہی کا حق ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو بھر پور حمایت دیکر اپنی اس آبائی جماعت کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کریں ۔ ادھر عمر عبداللہ نے کاغذات داخل کرنے کے بعد بڈگام میں پارٹی کارکنوں سے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے سامنے وہ لڑائی ہے جس کے ذریعے ہمیں اپنی کھوئی ہوئی عزت اور چھینا ہوا وقار واپس لانا ہے اور ہمیں یہ سب کچھ دلی سے لڑ جھگڑ کر واپس لانا ہوگا، لیکن اس کیلئے یہاں ایک مضبوط آواز ہونی چاہئے اور نئی دلی کی طرف سے ہماری آواز کو کمزور کرنے کیلئے تمام کوششیں کی جارہی ہیں، ایسے ایسے لوگوں کا استعمال کیا جارہاہے، جن کو 35سال بعد اب جاکر جمہوریت یاد آئی ہے۔ ان حربوں کے ذریعے بھاجپا کی مکمل یہی کوشش ہے کہ ہم بٹ جائیں، ہم بکھر جائیں، ہمارے ووٹ تقسیم ہوجائیں لیکن ہمیں اپنی طرف سے اس بات کا عہد کرنا ہے کہ اس الیکشن میں ہم تقسیم نہیں ہونگے اور نہ ہی ہم بکھریں گے۔ ہم اپنی پوری قوت، پوری محنت اور پورا زور نیشنل کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے لگائیں گے تاکہ جتنا بھی ہم سے چھینا گیا ہے ، اُس کی بحالی کیلئے ایک مضبوطی منڈیٹ ہو۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اچھی طرح سے اس بات سے واقف ہوں کہ یہ وہ اسمبلی نہیں جس کی تمنا ہم کرتے ہیں ،یہ وہ اسمبلی نہیں جس کے ذریعے ہم اپنے حقوق کی بحالی کیلئے لڑ سکتے ہیں لیکن یہ وہ اسمبلی ضرور ہے جس کے ذریعے ہم اُس اسمبلی کو حاصل کرنا شروع کریں گے جس کی ہم تمنا رکھتے ہیں۔












