
وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے بعد یونیفارم سول کوڈ پر ملک بھر میں بحث شروع ہو گئی ۔ وہ مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن کے پیش نظر’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘پروگرام میں بھاجپا کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دوہرے نظام یعنی ایک ہی خاندان کے ایک شخص کے لئے ایک اور دوسرے کے لئے دوسرا قانون سے ملک کیسے چلے گا ۔ بھارت ایک فلیٹ میں رہنے والا کیا ایک خاندان ہے یا 140 کروڑ لوگوں کا ملک ۔ جہاں ہر چند کلو میٹر پر بولی، زبان، کھان پان رہن سہن، رسم و رواج بدل جاتے ہیں۔ یہاں ہزاروں ذاتیں اور درجنوں مذہب ہیں ۔ ان میں ہر ایک کا عقیدہ اور عبادت کا طریقہ بھی دوسرے سے مختلف ہے ۔ اس عدم یکسانیت کا آئین اور قانون نے بھی احترام کیا ہے ۔ تبھی تو ہندو میرج ایکٹ ہر قانون کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ’’یا پھر جیسی روایت ہو‘‘۔ پھر کیوں چاہتی ہے مودی حکومت اور بی جت پی سب کے لئے ایک ہی قانون؟
پہلی مرتبہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور حکومت اکتوبر 1840 میں سب کے لئے ایک قانون بنانے کی بات ہوئی لیکن انگریزوں نے اسے لاگو نہیں کیا ۔ آزادی کے بعد آئین ساز کمیٹی بنی اس وقت امبیڈکر نہیں چاہتے تھے کہ سبھی مذاہب کے لئے الگ الگ الگ پرسنل لاء ہوں، آئین ساز کمیٹی میں اس پر طویل بحث ہوئی ۔ اسے ڈائرکٹیو پرنسپلس (رہنما اصولوں) میں ڈال دیا گیا لیکن قانون نہیں بن سکا ۔ جن سنگھ نے 1967 کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی مرتبہ یونیورسل سول کوڈ کو لاگو کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ 1980 میں جب بی جے پی بنی تب اس نے بھی اسے اپنا ایجنڈہ بنایا ۔ کئی مرتبہ بی جے پی حکومتیں بنیں لیکن اسے لاگو نہیں کیا جا سکا ۔ گزشتہ نو سال کے دوران بھی اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ 22 ویں لاء کمیشن کے بنتے ہی اس کا یونیفارم سول کوڈ پر مشورے مانگنا، وزیراعظم کا بیان اور پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں اس کی مانگ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو عین اس وقت جبکہ کئی ریاستوں اور پارلیمانی انتخابات سے پہلے یو سی سی کی یاد کیوں آئی؟
مہنگائی، روزگار، غربت، صنفی و سماجی انصاف، قانون انتظامیہ ہر فرنٹ پر حکومت کی ناکامی اور نفرتی ایجنڈے کے باوجود کرناٹک میں ہار کے بعد بی جے پی کو ایسے مدعوں کی ضرورت ہے جو اسے الیکشن جتا سکیں ۔ بھلے ہی ان سے کسی کو فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن بی جے پی کے لئے کسی طرح انتخابی فضا ہموار ہو جائے ۔ کانگریس نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں خاندان کو خون کے رشتے جوڑتے ہیں وہیں تکثیریت والے ملک کو آئین جوڑتا ہے ۔ اس لئے یو سی سی کو لاگو کرنا ایک بڑا چیلنج ہے اور اقلیتوں کے حقوق میں مداخلت ہے ۔ کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ بی جے پی مہنگائی، بے روزگاری، اور متشدد ردعمل (منی پور) جیسے معاملوں سے دھیان ہٹانے کے لئے یو سی سی کا مدعا اچھال رہی ہے ۔ کانگریس یہ بھی سوال کر رہی ہے کہ بی جے یہ مدعا ایسے وقت کیوں اٹھا رہی ہے جب کچھ اسمبلی کے اور اس کے بعد عام انتخابات ہونے والے ہیں ۔ سوال اس لئے بھی اٹھ رہا ہے کہ وہ رہنما اصولوں کی دفعہ 44 (یونیفارم سول کوڈ) پر تو بات کر رہی ہے لیکن اسی کی دفعہ 39 بی، 45(1)اے، بی اور 51 ایچ کو لاگو کرنے کے بارے میں بات کیوں نہیں کر رہی ۔ واضح رہے کہ آئین دفعہ 44 کے تحت لکھا گیا ہے کہ ’’اسٹیٹ بھارت مختلف علاقوں میں شہریوں کے لئے یونیفارم سول کوڈ لانے کی کوشش کرے گی‘‘۔ آئین ساز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کے بانی اسمعیل صاحب نے کہا تھا کہ کمیونٹیز میں پرسنل لاء کا ہونا اور ان پر عمل کرنا ان کی مذہبی آزادی کا مسئلہ ہے ۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اگر حکومت مذہب اور ثقافت سے جڑے مسئلوں پر قانون بناتی ہے تو یہ بنیادی حقوق میں مداخلت کرنے جیسا ہوگا۔ آئین میں مذہبی آزادی کو بنیادی حقوق کی دفعہ 25 – 30 کے بیچ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
بی جے پی جس آئین کا حلف اٹھا کر اقتدار میں آئی گزشتہ نو سالوں کے دوران اس کی تمہید میں دی گئی باتوں مساوات بہ اعتبار حیثیت اور مواقع ۔ سماجی، معاشی، سیاسی انصاف ۔ آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادات پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔ یہاں تک کہ اخوت کی ترقی جس سے فرد کی عظمت اور قوم کے اتحاد اور سالمیت کاتیقن ہوتا ہے اسے نہ صرف پامال کیا بلکہ جو چیزیں لاگو تھیں انہیں ختم کیا ہے ۔ اس لئے سماج میں بے اطمنانی پیدا ہوئی ہے ۔ اکالی دل نے بھی یو سی سی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اقلیتوں اور آدی واسی سماج کے خلاف بتایا ہے ۔ پارٹی نے لاء کمیشن اور پارلیمنٹ میں بھی اپنا احتجاج درج کرایا ہے ۔ اس وقت یو سی سی میں آبادی کنٹرول کرنے کے قانون کو شامل کرنے کی بھی بات ہو رہی ہے ۔ جبکہ ملک میں شرح پیدائش 2.05 فیصد ہے ۔ یعنی آبادی اب بڑھنے کے بجائے مستحکم ہو گئی ہے ۔ ملک کی 36 ریاستوں میں سے 31 میں شرح پیدائش 2.1 سے بھی کم ہے ۔ مسلم اکثریت والی ریاستوں میں بھی شرح پیدائش کم ہو کر 1.8 فیصد ہو گئی ہے ۔ این ایف ایچ ایس کے مطابق سبھی مذہبی طبقات میں شرح پیدائش میں گراوٹ آئی ہے ۔ 29 سالوں یعنی 1992 سے 2021 کے بیچ مسلم شرح آبادی میں سب سے زیادہ 46.5 فیصد کی کمی دیکھنے کو ملی ہے وہیں ہندوؤں میں 41.2 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ شرح پیدائش کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ تعلیم، سماجی، اقتصادی صورتحال اور صحت کی سہولت سے ہے۔ اسی طرح ایک سے زیادہ شادی کا چلن مسلمانوں کے مقابلہ ہندوؤں میں زیادہ ہے ۔ حالانکہ ہندوؤں کا ایک سے زیادہ شادی کرنا غیر قانونی ہے۔
یونیفارم سول کوڈ سے صرف اقلیتی طبقہ یا قبائل ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ہندوؤں پر بھی اس کا اثر پڑے گا ۔ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے تحت متحدہ ہندو خاندان کو ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے ۔ جو یو سی سی کے آنے کے بعد ختم ہو جائے گی ۔ دوسرے مذاہب میں شادی کرنے والوں کے لئے اسپیشل میرج ایکٹ 1954 ہے ۔ اس کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ قبائل ایک عورت کے کئی شوہر یا ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکیں گے۔ ملک میں اس وقت 705 قبائلی گروپ ہیں جنہیں ایس ٹی زمرے میں رکھا گیا ہے ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد 10.43 کروڑ کے قریب یعنی ملک کی آبادی کا 8 فیصد سے زیادہ ہے ۔ ہندو خاندانوں میں رشتہ داروں کے بیچ شقدیوں کے چلن پر بھی یونیفارم سول کوڈ سے اثر پڑے گا ۔ بہار میں 3.2 فیصد اپنے قریبی رشتہ داروں میں شادی کرتے ہیں جبکہ تمل ناڈو میں 26 فیصد لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ اس مختصر جائزہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یکساں سول کوڈ سے کسی کا کوئی بھلا ہونے وال نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے سماج کا تانا بانا بکھر جائے گا۔
حکومت اور اس کے کارندوں کی جانب سے ایسا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مانو اس کا اثر صرف مسلمانوں پر پڑے گا ۔ وہ ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر پائیں گے ۔ انہیں اوقاف سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔ دراصل چھوٹی تشہیر کے ذریعہ بی جے پی مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتی ہے ۔ تاکہ اسے ووٹوں کو پولرائز کرنے کا موقع مل جائے۔ مسلمان جتنی شدت سے اس کی مخالفت کریں گے بیجے پی کو اتنا ہی فائدہ ہوگا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سمجھداری سے کام لیں ۔ کسی تنظیم، سرکاری مولوی یا نام نہاد قومی رہنماؤں کے جھانسے میں نہ آئیں ۔ لاء کمیشن کو تجاویز، مشورے بھیج یئے گئے ہیں ۔ مشورے بھیجنے والوں میں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں غیر مسلم شامل ہیں ۔ کئی مقامات پر آدی واسیوں نے سول کوڈ کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے ۔ اس کا مسودہ آنے تک مسلمان اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں ۔ انہیں اکسانے کی کوشش ہو رہی یے ۔ اگر سمجھداری سے کام نہیں لیا گیا تو ہم آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے معاون بنیں گے ۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہندوتوا کو آگے بڑھائیں یا جمہوریت کو بچانے کی کوشش کریں ۔ایک ہی اس ماہ شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت کے اسے ایوان میں پیش کرنے کا امکان ہے ۔
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی












