راجیہ سبھا میں یکساں سول کوڈ پرائیویٹ ممبر بل پیش ہونے کے ساتھ اس مدے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اسے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ کروڑی مل مینا نے پیش کیا۔ جو حکومت کی حمایت کے سبب ایوان بالا میں متعارف ہوا۔ بل کی حمایت میں 63 اور مخالفت میں 23 ممبران نے ووٹ کیا۔ بل پر گفتگو کرتے ہوئے تمل ناڈو کے ایم ڈی ایم کے ممبر راجیہ سبھا وائیکو نے کہا کہ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پیش نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کے بعد کیرالہ کے آئی یو ایم ایل کے عبدالوہاب نے کہا کہ یہ بل ملک کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے بل کو واپس لینے کی مانگ کی۔ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے ایسا نظام بنایا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کو بلڈوز نہ کیا جا سکے۔ اس لحاظ سے کامن سول کوڈ کی بات صحیح نہیں ہے۔ اس لئے یہ بل واپس لے لینا چاہئے۔ کانگریس کے ایل ہنومنتا نے کہا کہ یہ بل ملک کی صحت مند جمہوریت کے لئے صحیح نہیں ہے۔ آر ایل ڈی کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا یہ بل ملک کے حق میں نہیں ہے یہ ہمیں اندھی کھائی میں لے جائے گا۔ ان کے علاوہ سی پی آئی، سی پی ایم، ٹی ایم سی وغیرہ کے ممبران پارلیمنٹ نے بل کی مخالفت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بل کو واپس لینے کی اپیل کی۔ جبکہ بیجو جنتا دل کے ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور ہاؤس سے واک آؤٹ کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پارلیمنٹ میں یکساں سول کوڈ کی بات اٹھی ہو۔ یہ پرانا مسئلہ ہے آئین ساز اسمبلی میں بھی یہ مدعا اٹھ چکا ہے۔ آئین کی دفعہ 44 میں کہا گیا ہے کہ ریاست شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس میں قانون کو نافذ کرنے کے لئے حالات کو سازگار بنانا بھی شامل ہے۔ یکساں سول کوڈ قانون خانگی معاملات جیسے شادی، بیاہ، طلاق، وراثت، وصیت، بچوں کا گود لینا وغیرہ کو سبھی شہریوں کے لئے یکساں بنانا چاہتا ہے۔ یہ خانگی معاملات اس وقت ہندو میرج ایکٹ، مسلم پرسنل لاءاور اسپیشل میرج ایکٹ کے ذریعہ طے کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی مسئلہ پر قانون کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت یا پھر رائج روایت (ٹریڈیشن) کے مطابق مسئلہ حل کیا جائے گا۔ بھارت ایک تکسیری ملک ہے شاید اس لئے قانون میں روایت کو جگہ دی گئی ہے۔ زمینی سطح دیکھیں تو ہر سماج اور علاقے میں شادی بیاہ، رہن سہن اور کھان پان الگ ہے۔ ہندو سماج میں شادی سنسکار ہے، جسے جنم جنم کا بندھن مانا جاتا ہے۔ جین، سکھ، بودھ اور آدی واسی (قبائل) میں شادی اور خانگی معاملات ہندو سماج سے مختلف ہیں۔ خود جنوب اور شمال ہندوؤں کے درمیان بھی شادی بیاہ کی روایات یکساں نہیں ہیں۔ کہیں کشتی کے ذریعہ شادی طے ہوتی ہے تو کہیں معاشقہ سے۔ کہیں پکڑیا بیاہ ہوتا ہے تو کہیں ایک ہی عورت کئی بھائیوں کی دلہن ہوتی ہے۔ کہیں شادی کے بغیر ہی ایک سے زیادہ عورتوں کو رکھنے کا چلن ہے۔ کہیں انگوٹھی پہنانے سے تو کہیں صرف چنری اڑھا دینے سے شادی ہو جاتی ہے۔ کئی قبائل ایسے بھی ہیں جہاں طلاق جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگر کسی کو اپنا پارٹنر پسند نہیں ہے تو وہ اپنی پسند کے پارٹنر کے پاس چلا جاتا ہے۔ حکومت نے شادی کی عمر مقرر کی ہے لیکن اب بھی کئی علاقوں اور طبقات میں جلدی شادی کرنے کا رواج ہے۔ سب کے پاس اپنی وجہ اور دلیلیں ہیں۔
مسلمانوں میں شادی ایک معاہدہ ہے۔ کوئی معاہدہ صلہ یا حاصل (Consideration) کے بغیر قابل قبول نہیں ہوتا۔ لہٰذا مہر معاہدہ کا لازمی حصہ ہے۔ مسلم لاء(مسلم پرسنل لاء) میں طلاق، وراثت وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں۔ مسلم پرسنل لاءمیں وصیت اور گود لینے کو منظوری نہیں ہے۔ اس میں شادی کی عمر تو طے نہیں مگر بالغ ہونے کی شرط شامل ہے۔ حکومت کے ذریعہ طے کی گئی شادی کی عمر میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مردوں کو مخصوص حالات میں چار شادیاں کرنے تک کا حق دیا گیا ہے۔ لیکن بغیر نکاح کے کسی عورت کو بیوی کی طرح رکھنے کا حق نہیں ہے۔ ڈاکٹر ابن فرید کی کتاب پالی گیمی اینڈ بائے گیمی (polygamy and bigamy) ان انڈیا کے مطابق غیر مسلموں میں اس کا زیادہ رواج ہے۔ خاص طور پر مالدار یا پھر غریب ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں ایک عورت کے کئی شوہر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن غیر مسلموں میں اس کی مثالیں اب بھی موجود ہیں۔ کئی غیر مسلم دوسری شادی کے لئے مسلم پرسنل لاءکا سہارا لیتے ہیں۔ برسراقتدار جماعت بی جے پی میں بھی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ عیسائی چرچ میں اور پارسی اپنی اگیاری میں شادی کرتے ہیں۔
ہندو دھرم کے نزدیک شادی ایک سنسکار اور جنم جنم کا بندھن ہے۔ شادی میں لڑکی کا دان کرنے کی روایت ہے۔ اس لئے ایکٹ میں طلاق، والدین اور شوہر کی جائداد میں حصہ کا التزام نہیں تھا۔ نئی ترمیم کے ذریعہ قانون میں طلاق اور وراثت میں حصہ کا التزام تو ہو گیا لیکن اسے حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لئے عدالت میں لمبی قانونی لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اس کے گواہ ہیں۔ ان میں مسلم خواتین کے مقابلہ ہندو خواتین کے مقدمات کئی گنا زیادہ ہیں۔ پارٹنر سے ان بن ہونا فطری ہے مگر اس سے علیحدگی کی راہ مشکل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں، خواتین کو بغیر طلاق کے چھوڑنا یا قتل کر دینا زیادہ آسان لگتا ہے۔ آنر کلنگ اور عصمت دری کے واقعات بھی ہندو سماج کے دوہرا پن کا نتیجہ ہیں۔ یکساں سول کوڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین کو آسانی سے ان کا حق ملے گا جس سے ان کی حالت بہتر ہوگی۔ دہلی ہائی کورٹ کا ماننا ہے کہ ایک قانون ہونے سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔ شاہ بانو کیس کے وقت سپریم کورٹ بھی اس کا مشورہ دے چکا ہے۔ اس نے گوا میں نافذ یکساں سول کوڈ کی بھی تعریف کی تھی۔ کئی دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کے قوانین نافذ ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قانون سے سماج میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اس کے لئے سوچ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ملک میں یکساں سول کوڈ کا مسئلہ سماجی بھلائی کے بجائے کچھ اس طرح اٹھایا جاتا ہے۔ مانو مسلمانوں کے خلاف اٹھایا گیا کوئی قدم ہو۔ بی جے پی اسے لمبے وقت سے اٹھاتی رہی ہے۔ 2019 کے انتخابی منشور میں بھی رام مندر بنانے، دفعہ 370 ہٹانے اور یکساں سول کوڈ لاگو کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بی جے پی حکومت والی اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، گجرات اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں اس کے لئے کمیٹاں بنائی گئی ہیں۔ ایسے میں پرائیویٹ ممبر بل کے پارلیمنٹ میں متعارف ہونے کو اہم مانا جا رہا ہے۔ گجرات الیکشن کے فوراً بعد اس مسئلہ کے اٹھنے سے لگتا ہے کہ 2024 کے الیکشن میں اس ایشو پر ووٹ پولرائز کئے جائیں گے۔ کہا جائے گا کہ اس سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے مسلمانوں پر پابندی لگے گی۔ طلاق شدہ خواتین کو سابق شوہر سے خرچہ دلایا جائے گا،وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ خواتین سے ہمدردی رکھنے والے التواءمیں پڑے خواتین ریزرویشن بل کو پاس کیوں نہیں کراتے؟ بغیر شادی کے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والوں یا پھر بغیر طلاق دیئے عورتوں کو بے سہارا چھوڑنے والوں کے خلاف قانون کیوں نہیں بناتے؟ دراصل ان کا مقصد ایک دیش ایک الیکشن، ایک دیش ایک ٹیکس کی طرح سب کے لئے ایک قانون (یکساں سول کوڈ) بنا کر ملک کی تکسیریت با الفاظ دیگر جمہوریت کو ختم کرنا ہے۔
بی جے پی چاہتی ہے کہ تین طلاق کے مسئلہ کی طرح مسلمان اس پر رد عمل ظاہر کریں۔ تاکہ وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا سکے۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ آئی پی سی، سی آر پی سی ملک کے تمام شہریوں پر نافذ ہے۔ یکساں سول کوڈ وراثت میں حصہ داری، وصیت، گود لینے، طلاق کی صورت میں نان نفقہ اور ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو متاثر کرے گا۔ بھارت کے مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والوں کی تعداد نا کے برابر ہے۔ وصیت اور گود لینا قانونی ہو جائے گا، ابھی وراثت میں لڑکیوں کا حصہ ایک تہائی ہے۔ وہ لڑکے اور لڑکیوں میں برابر ہو جائے گا۔ تو اس سے مسلم سماج پر کیا فرق پڑے گا؟ اس سے مسلمانوں کے مقابلہ ہندو سماج زیادہ متاثر ہوگا۔ بحث یہ بھی ہوگی کہ یکساں سول کوڈ کیا شادی بیاہ کے رائج طریقوں کو مسترد کر دے گا؟ اس کی کیا شکل ہوگی اور کیا ملک کے تمام لوگ اسے قبول کریں گے؟ رہا سوال پرائیویٹ ممبر بل کا تو پارلیمنٹ میں آج تک تین ممبر بل پاس ہو سکے ہیں۔ آخری بل 1971 میں پاس ہوا تھا۔ موجودہ بل کن مراحل سے گزرے گا اور اس کا کیا حشر ہوگا۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا، انتظار کیجئے یہ بھی صاف ہو جائے گا کہ حکومت کی منشاءکیا ہے۔












