نیویارک:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو غزہ میں فائر بندی کے منصوبے کی حمایت پر مشتمل امریکی قرارداد منظور کرلی۔
امریکہ کا تیار کردہ مسودہ قرارداد، صفر کے مقابلے میں چودہ ووٹوں سے منظور کیا گیا جس میں غزہ میں جنگ بندی سمجھوتے کی حمایت کی گئی ہے۔ روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اسرائیل کے کٹر اتحادی امریکہ کو غزہ میں فائر بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی متعدد مجوزہ قراردادوں کو روکنے پر ماضی میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔حماس نے بھی پیر کے روز کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کرنے والی امریکی مسودہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کرتا ہے۔
امریکہ، حماس کو یہ تجویز قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ایک بھرپور سفارتی مہم کی قیادت کر رہا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں اپنے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کی علاقے سے مکمل واپسی کے مطالبات شامل ہیں، کہا کہ تحریک، سلامتی کونسل کی قرار داد کا خیر مقدم کرتی ہے اور ان اصولوں کے نفاذ کے لئے براہ راست مذاکرات میں داخل ہو نے کے واسطے برادر ثالثوں کے ساتھ تعاون پر اپنی رضا مندی کی پھر سے تصدیق کرنا چاہتی ہےحماس نے جنگ بندی کی حمایت میں سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔اپنے بیان میں حماس نے کہا کہ منصوبے کے اصولوں پر عمل درآمد کے لیے ثالثوں کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں۔
حماس اسرائیل جنگ بندی منصوبہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منظور کیا تھا۔ اسرائیلی یرغمالی رہائی آپریشن میں امریکی عارضی بندر گاہ استعمال نہیں ہوئی، پینٹاگون
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی ہے۔قرارداد میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی یہ قرارداد منظور کرلے، دونوں فریق بغیر کسی تاخیر کے قرارداد پر عمل کریں۔قرارداد کے مطابق دونوں متحارب فریق بات چیت کریں گے اور اس دوران جنگ بندی جاری رہے گی۔
امریکہ پر جو اسرائیل کا کٹر اتحادی ہے، غزہ میں جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی کئی قرار داوں کا راستہ روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ لیکن بائیڈن نے گزشتہ ماہ کے آخر میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے لئے ایک نئی امریکی کوشش کا آغاز کیا تھا۔اقوام متحدہ کے اجلاس کے بعد وہاںامریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ آج ہم نے امن کے لئے ووٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا آج اس کونسل نے حماس کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کر لو۔ اسرائیل پہلے ہی اس سمجھوتے پر رضا مند ہو چکا ، اور اگر حماس بھی یہ ہی کرے تو جنگ آج بند ہو سکتی ہے۔












