حزب اختلاف کا اتحاد کبھی بھی معمولی نہیں غیر معمولی ہی ہوتا ہے ۔یہ کہنا کہ ان کے درمیان ہی اتحاد نہیں ہے، بے وقوفی ہے کیونکہ یہ الگ الگ پارٹیاں ہیں تو ان کے درمیان اختلاف تو ہوگا ہی۔لیکن یہ اختلاف مختلف ہونے کے معنی میں ہے ۔بی جے پی کے لوگ جب اس اتحاد کے خلاف زبان کھولتے ہیں تب مضحکہ خیز نظر آتے ہیں ،کیونکہ اس اپوزیشن اتحاد کی وجہ خود بی جے پی ہی ہے ۔اور اس اپوزیشن اتحاد کے لئے جو لیڈر خون پسینہ ایک کر رہے ہیں ان میں زیادہ تر لیڈر کبھی این ڈی اے کا حصہ رہے ہیں۔اب یہ بی جے پی کی خود سری ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس نے اپنے کنبے کو جوڑے نہیں رکھا اور ایک ایک کر کے زیادہ تر پارٹیاں اس سے الگ ہو گئیں اور اب بی جے پی کو یہ سبق سکھانے کے لئے تیار ہیں کہ ہم مختلف رنگوں کا جھنڈا استعمال کرنے کے باوجود ایک ہو سکتے ہیں ،لیکن بی جے پی ایک رنگ کے جھنڈے کی چھاؤں میں کبھی بھی جمہوری اقدار کی بات نہیں کر سکتی ۔نتیش کمار اور ان کے پارٹی لیڈر اس بات کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم ہیں کہ 23جون کی میٹنگ کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کی راہ میں کوئی الجھن رکاوٹ نہ بنے۔ این ڈی اے کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ کچھ دنوں تک جے ڈی یو کے کارکنان پارٹی کے تمام پروگراموں میں نعرے لگاتے نظر آئے کہ ملک کا وزیر اعظم کیسا ہو نتیش کمار جیسا ہو۔ ویسے نتیش کمار کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔ان کا واحد مقصد مشن 2024 کے لیے اپوزیشن کو متحد کرنا ہے۔ لیکن، این ڈی اے لیڈر نتیش کمار اور اپوزیشن پارٹی پروگراموں میں نعروں کا استعمال کرتے ہوئے اتحاد کی کوشش پر حملہ کر رہے ہیں۔لیکن اب جے ڈی یو نے اپنے کارکنوں کو خبردار کیا ہے کہ اس نعرے سے پرہیز کو یقین بنایا جائے۔پارٹی صدر للن سنگھ نے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یہ نعرہ نہ لگائیں، اس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ نتیش کمار وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔ پٹنہ میں 23 جون کو 18 اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میٹنگ کی اہمیت پر این ڈی اے نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ این ڈی اے سوالوں کے بہانے حملے کا راستہ اختیار کر رہی ہے، مثال کے طور پر جن پارٹیوں کے لیڈر اس میٹنگ میں شرکت کریں گے ان کے سپریمو خود وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار ہیں، اس کا جواب بھی جے ڈی یو-آر جے ڈی کی طرف سے لگاتار دیا جا رہا ہے۔12 جون کو ہونے والے اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد این ڈی اے لیڈروں کے حملے میں شدت آگئی تھی اور گرینڈ الائنس کے کارکنوں کا جوش ٹھنڈا ہوگیا تھا تاہم 23 جون کو اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان اور سرکردہ قائدین کی شرکت کی رضامندی سے ان کا جوش دوبالا ہو گیا ہے۔
دراصل نتیش کمار کی اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے کی دس ماہ پرانی مہم پہلے مرحلے کو عبور کر چکی ہے۔ اسی لیے گرینڈ الائنس کی جانب سے بھی صاف صاف کہا جا رہا ہے کہ لیڈر کا انتخاب اور سیٹوں کی تقسیم کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔ جس طرح ڈیڑھ درجن جماعتوں نے اکٹھے ہونے پر اتفاق کیا ہے، اسی طرح یہ دونوں معاملات بھی تمام جماعتوں کی رضامندی سے حل کر لئے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر 2024 میں این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔تاہم اس میٹنگ پر ملک کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کی نظریں ہیں جن میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ عظیم اتحاد 23 جون کی میٹنگ کو بہار کے لیے تاریخی قرار دے رہا ہے۔ سبھی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ اقتدار کے خلاف جدوجہد بہار سے ہی شروع ہونے کی روشن تاریخ ہے ۔
جے ڈی یو کے قومی صدر للن سنگھ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی سے پاک ہندوستان بنانے کا اعلان پاٹلی پترا کی تاریخی سرزمین سے ہوگا۔ ویسےبی جے پی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ 23 جون کو ہونے والی میٹنگ کا کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اپوزیشن اپنے تضادات کی وجہ سے متحد نہیں ہو سکتی۔ظاہر ہے اسے ایسا ہی کچھ کہنا بھی چاہئے کیونکہ یہ ساری مہم تو اسی کے خلاف ہے۔
(شعیب رضا فاطمی)












