اتر پردیش جو ان دنوں نریندر مودی ماڈل سیاست کا مرکز ہے ،اور ساری بی جے پی لابی چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ ریاست میں امن و امان کا راج ہے ۔اسی ریاست کی راجدھانی میں بدھ کے روز جس طرح کمرہ عدالت میں جج کے سامنے نامعلوم افراد نےملزم سنجیو مہیشوری کو گولیوں سے بھون دیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھگوا دھاری وزیر اعلی کی پولیس کتنی چاق و چوبند ہے ۔

واقعے کے دوران جج کے ساتھ ساتھ وکلا نے بھی میز کا سہارا لے کر اپنی جان بچائی ۔
لکھنؤ سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جی این شکلا عرف چاچو نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار لکھنؤ کی عدالت میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ جب پولیس کو معلوم تھا کہ وہ ایک بدنام زمانہ مجرم ہے تو اس کی
سیکیورٹی میں نرمی کیوں کی گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ اس گولی باری میں جج کا بچنا مشکل تھا، انہوں نے ڈیسک کا سہارا لے کر خود کو بچا لیا۔ اس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے گئے ۔چاچو کا کہنا ہے کہ جب وکیل اور جج بھی محفوظ نہیں ہیں تو عام لوگ کیسے محفوظ رہیں گے؟
لکھنؤ سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جی این شکلا نے سوال اٹھایا کہ مجرم کو آج بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنایا گیا جبکہ پہلے جب وہ عدالت میں پیش ہوتا تھا تو بلٹ پروف جیکٹ پہبتا تھے۔ اس واقعہ کو منصوبہ بند طریقے سے سازش رچنے کے بعد انجام دیا گیا۔ واقعے میں ایک چھوٹی بچی بھی زخمی ہوئی ہے ۔
لکھنؤ سنٹرل بار کے سابق صدر نے کہا کہ ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کیوں لاگو نہیں ہو رہا ہے؟ انہوں نے کمشنری نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔
اور کہا کہ جب سے کمشنریٹ بنا ہے وکلاء کی حالت ابتر ہے، ان سے ان کا کام چھین لیا گیا ہے۔ افسران کمشنر بن کر خود مختار ہو گئے۔
اور امن و امان کی حالت ابتر ہو گئی ہے۔عدالت کی سیکورٹی کے بارے میں ایڈوکیٹ جی این شکلا نے کہا کہ عدالت کے احاطے میں نصب تمام میٹل ڈیٹیکٹر کام نہیں کرتے۔ پولیس کا سیکورٹی سسٹم پوری طرح فیل ہے اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے، کیونکہ جن لوگوں نے اس واقعہ کو انجام دیا وہ جانتے تھے کہ میٹل ڈیٹیکٹر کام نہیں کرتا۔ انہیں یہ خبر تھی کہ آج مجرم عدالت میں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک پلان کے تحت ہوا ہےلکھنؤ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جی این شکلا نے کہا کہ پولیس گیٹ پر پہرہ دینے کے بجائے موبائل میں مصروف رہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے افسر وزیراعلیٰ کو اپنی یا اپنے سسٹم کی کوتاہیاں نہیں بتاتے۔ افسر طبقہ ان چیزوں کو چھپاتا ہے اور صرف اچھا کام ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تک پہنچایا جاتا ہے۔
جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔کل حادثے کے بعد جوائنٹ کمشنر آف پولیس لا اینڈ آرڈر لکھنؤ اوپیندر اگروال نے کہا کہ سنجیو مہیشوری جیوا ایس سی-ایس ٹی عدالت میں پیش ہونے کے لئے آیا تھا اس کی سماعت کا وقت 3.30 بجے کے بعد تھا۔ اس دوران جب جیوا سماعت کے لیے کورٹ روم میں جا رہا تھا تو پیچھے سے ایک حملہ آور آیا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے میں ہمارے دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ پولیس اہلکار خطرے سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خاتون بھی اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ موجود تھی جو زخمی ہوگئی۔ اس کی انگلی میں چوٹ لگی ہے۔ ساتھ ہی ایک بچی بھی زخمی ہوئی ہے جس کا علاج جاری ہے۔ حملہ آور کونسا ہتھیار لے کر آیا، سیکیورٹی میں کوتاہی کہاں تھی، یہ سب تحقیقات کا معاملہ ہے۔ تحقیقات کے بعد مزید باتیں سامنے آئیں گی ۔جہاں تک گینگسٹر سنجیو جیوا کی بات ہے تو وہ ایک بدنام زمانہ مجرم تھا اس کا پورا نام سنجیو مہیشوری تھا۔ وہ مغربی یوپی کے مظفر نگر کا باشندہ تھا۔ جرائم کا آغاز اس نے وہیں سے کیا۔اس نے کمپاؤنڈری کا کورس کیا تھا اور سب سے پہلے سنجیو جہاں کمپاؤنڈر تھا، اسی ڈسپنسری کے مالک کو اغوا کیا تھا۔ جس کے بعد تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
اس کے بعد دھیرے دھیرے سنجیو اغوا کرنے والوں کا بادشاہ بن گیا اور نام نہاد مافیا مختار انصاری کے ساتھ مل کر کام کرنے لگا ۔ سال 2021 میں سنجیو جیوا کی بیوی پائل نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط لکھ کر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے شوہر کی جان کو خطرہ ہے۔90 کی دہائی میں سنجیو جیوا نے کولکتہ کے ایک تاجر کے بیٹے کو اغوا کر لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے گینگ کو تیزی سے بڑھانا شروع کر دیا۔ اس اغوا کے بعد سنجیو جیوا کا تعلق ہریدوار کے ناظم گینگ سے تھا۔ اس کے بعد ستیندر برنالہ گینگ میں شامل ہو گیا۔سنجیو جیوا کا نام یوپی میں اس وقت سرخیوں میں آیا، جب اس نے بی جے پی کے بڑے لیڈر برہمدت دویدی کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد سنجیو جیوا کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ سنجیو جیوا منا بجرنگی اور پھر مختار انصاری کے رابطے میں آئے۔ مظفر نگر کے رہنے والے اور جدید ہتھیاروں کے دلدادہ سنجیو جیوا نے ہتھیاروں کی سپلائی بھی شروع کر دی تھی ۔
پولیس حراست میں سنجیو جیوا کے قتل کے معاملے میں سب انسپکٹر کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ سب انسپکٹر ادے پرتاپ سنگھ کی جانب سے ملزم وجے یادو کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لکھنؤ کے وزیر گنج پولیس اسٹیشن میں قتل، اقدام قتل، 7 سی ایل اے، عوامی خدمت کو چوٹ پہنچانے سمیت آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سنجیو جیوا قتل کیس میں ایس آئی ٹی کی ٹیم تفتیش کے لیے دیر رات پہنچی تھی، جس میں اے ڈی جی پروین کمار اور دیگر افسران شامل تھے۔ ٹیم کے افسران نے
گھنٹوں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کئی پہلوؤں پر رپورٹ تیار کی۔
سنجیو جیوا کے قتل کے بعد رات ہی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ جس کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سنجیو جیوا پر 6 گولیاں چلائی گئیں۔ چار سینے میں اور دو گولیاں سینے کے نیچے ہیں۔ ملزم نے پیشہ ور
شوٹر کی طرح واردات کو انجام دیا۔ سنجیو جیوا کو میگنم الفا ریوالور سے گولی ماری گئی جسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
بات صرف ایک بدنام زمانہ گنگسٹر کی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اتر پردیش میں ایک کے بعد ایک قتل کے واردات سامنے آ رہے ہیں لیکن پھر بھی مودی اور جوگی اپنی پیٹھ خود تھپتھپاتے ہوئے گھوم رہے ہیں کہ اتر پردیش امن و امان کا گہوارہ ہے ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اتر پردیش میں صرف ڈرے اور سہمے ہوئے ایک کمیونیٹی کے لئے ہی پوری پولیس فورس سخت ہے ۔باقی پورے اتر پردیش میں کہیں بھی قانون کا راج تو نظر نہیں آتا ؟لیکن ان سب کے باوجود وہاں کے شہری اس بے لگام سرکار کو اگر رام راج سے تشبیہ دیتے ہیں تو پھر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ رام راج کا مطلب کیا ہوتا ہے ۔












