لکھنؤ (یو این آئی) اتر پردیش حکومت نے بدھ کو ریاستی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے 9 لاکھ 12 ہزار 696 کروڑ روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا، جس میں انفرااسٹرکچر، زراعت اور مجموعی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔بجٹ خطاب کے دوران وزیر خزانہ سریش کھنہ نے کہا کہ یہ بجٹ ریاست کی ہمہ جہت، متوازن اور انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کی جانب سے جنوری 2026 میں جاری ایکسپورٹ پریپیرڈنیس انڈیکس 2024 میں اتر پردیش نے ملک کی لینڈ لاکڈ ریاستوں میں پہلا مقام حاصل کیا ہے، جو ریاست کی برآمدی صلاحیت اور صنعتی پیش رفت کا ثبوت ہے۔زراعت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اتر پردیش زرعی پیداوار میں ملک میں سر فہرست ہے۔ گندم، دھان، گنا، آلو، کیلا، آم، امرود، آملہ اور پودینہ کی قومی پیداوار میں ریاست کا سب سے بڑا حصہ ہے۔آبپاشی سہولیات میں توسیع پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جہاں 2016-17 میں قابلِ آبپاشی رقبہ 21.6 ملین ہیکٹیئر تھا، وہیں 2024-25 تک اس میں 6 ملین ہیکٹیر کا اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح فصلوں کی کثافت 2016-17 میں 162.7 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 193.7 فیصد ہو گئی ہے۔توانائی کے شعبے کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سریش کھنہ نے کہا کہ 2016-17 میں تھرمل پاور کی پیداواری صلاحیت 5,878 میگاواٹ تھی، جو مالی سال 2025-26 (دسمبر 2025 تک) میں بڑھ کر 9,120 میگاواٹ ہو گئی ہے، جو 55.16 فیصد اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت گرین اور صاف توانائی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اب تک 2,815 میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے نصب کیے جا چکے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ریاست کو خود کفیل، توانائی کے اعتبار سے مضبوط اور زرعی و صنعتی طور پر مستحکم بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے گزشتہ اور موجودہ ادوار میں ہمہ جہت ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔انہوں نے بتایا کہ امن و امان کی بہتری، انفراسٹرکچر کی توسیع، صنعتی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی ہنرمندی، کسانوں کی خوشحالی اور غربت کے خاتمے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔سریش کھنہ نے کہا کہ فوری تخمینوں کے مطابق 2024-25 میں ریاست کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار 30.25 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.4 فیصد اضافہ ہے۔ ریاست کی فی کس آمدنی کا تخمینہ 1,09,844 روپے کا ہے، جو 2016-17 کی 54,564 روپے کی فی کس آمدنی کے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں فی کس آمدنی 1,20,000 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت تقریباً 6 کروڑ افراد کو خط افلاس سےسے باہر نکالنے میں کامیاب رہی ہے اور بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 2.24 فیصد ہو گئی ہے۔












