نئی دہلی،سماج نیوز سروس:اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلباء و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہر سال تعلیمی مقابلے منعقد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات کو انعام دیتی ہے اور بچوں کی ہمت افزائی کے لیے کنسولیشن انعام بھی دیتی ہے۔ ان مقابلوں میںتقریری ، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی ، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز( سوال و جواب) ، مضمون نویسی و خطوط نویسی، خوشخطی مقابلے اور امنگ پینٹنگ مقابلہ شامل ہیں۔ یہ تعلیمی مقابلے دہلی کے پرائمری تا سینئر سیکنڈری اردو اسکولوں کے طلباء و طالبات کے درمیان منعقد ہورہے ہیں ۔ آج غزل سرائی مقابلہ برائے مڈل زمرہ کاانعقاد کیا گیا جس میں جج کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد و شاعر ڈاکٹر واحد نظیر اور معروف شاعرہ ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے شرکت کی جب کہ نگراں کی حیثیت سے اکادمی کی گورننگ کونسل کی ڈاکٹر شبانہ نذیر شریک ہوئیں۔ آج کے مقابلے میں دہلی کے33 اسکولوں کے 54طلباو طالبات نے حصہ لیا۔اس موقع پر اکادمی کے سکریٹری محمد احسن عابد نے کہا وہ اساتذہ بھی قابلِ مبارکباد ہیں جو طلبا کو پروگرام میں شامل کرانے کے لیے تیار کرتے ہیں اور اسٹیج پر لے کر آتے ہیں ۔ انھوں نے تمام اساتذہ ، طلبا اور ان کے سرپرستوں کو مبارکباد اور کہا کہ مقابلوں میں شامل ہونے سے طلبا کا حوصلہ بڑھتا ہے اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے۔ ڈاکٹر واحد نظیر نے اپنے خطاب میں کہاکہ طلبا نے جو کچھ سیکھا اسے اعتماد کے ساتھ پیش کیا وہ اسٹیج کی سیڑھیوں سے لے کر اونچی سے اونچی منزل پر پہنچنے کے لیے ان کے لیے مددگار ہوگا۔ جن طلبا کی بنیاد کمزور ہوتی ہے وہ آخر تک کمزور ہی رہتی ہے اس لیے بنیاد مضبوط کریں اور آگے بڑھیں۔ غزل اور نظم کا فرق سمجھیں اور غزل سرائی میں ترنم اور نغمگی پر توجہ دیں۔پروگرام کی دوسری جج سلمیٰ شاہین نے کہا کہ غزل سرائی کے لیے انتخاب اچھا ہونا چاہئے اور تلفظ درست ہونا چاہیے بعض طلبا بہت اچھا پڑھتے ہیں لیکن ان کی پریکٹس نامکمل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مقابلے سے باہر ہوجاتے ہیں۔بچے جو کچھ پیش کریں اعتماد کے ساتھ پیش کریں۔ یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔آج کے اس مقابلے میں مدیحہ نجم بنت نجم الحق (ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد) پہلے انعام کے لیے منتخب کی گئی جب کہ دوسرے انعام کے لیے ولیہ خاتون بنت محمد سلیم (سروودیہ کنیا ودیالیہ، دیانند روڈ، دریا گنج، نئی دہلی) اور عرفات ولد عبدالمتین (اینگلوعربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ) کو منتخب کیا گیا اور تیسرے انعام کے انیسہ بنت محمد عارف (جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) مستحق قرار دی گئی۔












