• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 29, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اردو کا جنازہ ہے۔ذرا دھوم سے نکلے

گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 12, 2024
0 0
A A
Share on FacebookShare on Twitter

نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیک میں رکھ دی گئیں۔ ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا، اسلامیات اسلامک اسٹڈی بن گئی، انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی ، اسی طرح طبیعات ، فیزیکس میں اور معاشیات اکنامکس میں ، سماجی علوم سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے۔ پہلے طلبا پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنس اسٹڈی کرنے لگے، پہاڑے یادکرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگی، اساتذہ کیلئے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرزکیلئے ٹیبل اور چیئرز لگانے لگے، داخلوں کے بجائے ایڈمیشنز ہونے لگے، اول ، دوم اور سوم آنے والے طلبافرسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ آنے والے اسٹوڈنٹ بن گئے، پہلے اچھی کار کردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے، بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے، یہ سب کچھ سرکاری اسکولوں میں ہوا ہے، باقی رہے پرائویٹ اسکول تو ان کا پوچھئے ہی مت ان کاروباری مراکز تعلیم کیلئے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا: مکتب نہیں مکان ہے، بیوپار ہے مقصد یہاں علم نہیں، روزگا ہے۔ اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے ، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی جگہ ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔ زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہوگئے ، خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈروم کا نام دے دیا، باورچی خانہ کیچن بن گیااور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے، غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کرکے واش روم بن گیا، مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے، مکانوں میں پہلی منزل کو گرائونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسرے منزل کو فرسٹ فلور ۔ دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی، کمرے روم بن گئے، کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے، ابوجی یا ابا جان جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا اور ہر طرف ڈیڈی ، ڈیڈ ، پاپا، پپا، پاپے کی گردان لگ گئی ، حالانکہ پہلے تو پاپے (رس) صرف کھانے کیلئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں، اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ امی یا امی جان ممی یا مام میں تبدیل ہوگیا، سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔ چچا ، چچی ، تایا ، تائی ، ماموں ، ممانی ، پھوپھا ، پھوپھی ، خالوںاور خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سا لفظ انکل اور آنٹی میں تبدیل ہوگئے۔ بچوں کیلئے ریڈھی والے سے لیکر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے یعنی محمود ایاز سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ۔ ساری عورتیں آنٹیاں ، چچا زاد ، ماموں زاد، خالہ زاد، بہنیں اور بھائی سب کے سب کنزز میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی ، نہ جانے ایک نام تبدیلی کے غرض کیسے بچ گئے اور وہ نا م ہے گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھی اب بھی ماسی ہی ہیں۔ گھر اور اسکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگیریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔ دکانیں شاپس میں تبدیل ہوگئیںاور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے،آخر کیوںنہ ہوتا دکان دار بھی تو سیلزز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دی اور شوپنگ کرنے لگے، سڑکیں روڈ بن گئیں، کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنا دیا گیا، کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا، نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا ، یا ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے ، پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا، جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی ، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں، بابو کلرک اورچپراسی پیون بن گئے، پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا۔ سود جیسے قبیح فعل کو انٹریسٹ کہا جانے لگا، طوائفیں آرٹسٹ بن گئی اور محبت کو ’’لو‘‘کا نام دیکر محبت کی ساری چاسنی اور تقدسی چھین لیا گیا۔ صحافی رپورٹر بن گئے اورخبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے، کس کس کا اور کہا ں کہاں کا رونا رویا جائے ۔ اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں ، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنے خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہوکر کیسے بگاڑلیا ہے۔ وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہم کہاں سے کہاں آگئے اور کہاں جارہے ہیں؟ دوسروں کا کیا رونا روئیں ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں دوسرا کوئی نہیں ۔ بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کردیا ہے اور آج بھی مسلسل دفن کرتے جارہے ہیں اور روز بروز یہ عمل پیشتر ہوتا جارہا ہے۔
قارئین حضرات !روکئے ۔۔۔خدارا روکئے ، اردو کو مکمل زوال پذیر ہونے سے روکئے ، قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں، موجودہ زمانیں کا یہی سکہ پابندِ اصول ہے ، جاپان ،روس ،اٹلی، فرانس اور چین اس کی زندہ مثال ہے ۔ ملک کیلئے تعلیم کا میدان ہمیشہ بنیادی مسئلہ رہتا ہے کیوں کہ اس کی نوعیت اور معیاری سطح سے معاشرے کی ہمہ گیر تعمیر وترقی ، عوام کی خوشحالی وآسودگی کا رشتہ لازم وملزوم ہوتا ہے۔ اس کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ وہ بچوں اور بڑوں کو ان کی مادری یا قومی زبان میں دی جائے، اس بات کی تصدیق چین یا جاپان جیسے ممالک کی مثالوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اردو زبان کے ایک جاپانی پروفیسر نے ’’اخبار اردو‘‘کو انٹرویوں دیتے ہوئے کہا تھا کہ جاپان کی ترقی کا ایک راز یہ ہے کہ وہاں تعلیم اپنی زبان میں دی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ذریعہ تعلیم کا معاشرہ بہت درینہ ہے جو پیچیدہ بحث ومباحثہ کا شکار رہا۔ سوال یہ ہوتا تھا کہ بنیادی طور پر تعلیم قومی زبان اردو، علاقائی زبان یا انگریزی میں دی جانی چاہئے، اکثر اکثر محققین مختلف سرویز کی تجاویز اور آرا اس بات پر متفق نظر آتی تھیں کہ ذریعہ تعلیم بنیادی طور پر قومی زبان اردو اور علاقائی زبانوں پر مبنی ہونا چاہئے۔ اس موقف کیلئے کئی دلائل پیش کئے جاتے تھے۔ مثلاً یہ کہ بچے کو اردو پر عبور حاصل کرنے کیلئے انگریزی کے مقابلہ میں کم وقت درکار ہوگا اور وہ سیکھنے والے مضمون کو اپنی زبان میں بہتر طور پر اپنا لیگا۔ اس کے علاوہ ایک اور وزنی دلیل پیش کی جاتی تھی کہ قومی زبان ملک اور اس کے عوام کا ایک جیتا جاگتا تشخص ہے۔ قوم زندہ ہے اگر اس کی زبان زندہ ہے، اردو کے مفاد میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جو اردو رابطے کی زبان ادا کرتی ہے، علاقائی زبانوں سے ہر لحاظ سے قریب ہے، یعنی رسم الخط ایک ہے ذخیرہ الفاظ میں کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ عام طور پر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس دور میں زبا ن کیلئے انسان کا رویہ دو طرح سے ظاہر ہونے لگا ، ایک یہ کہ انسان کی اپنی مادری زبان کی طرف کشش فطری وجذباتی ہے جس کو وہ بچپن کے زمانے سے بولتا اور سنتا آیا اور جسے وہ دل وجان سے چاہتا ہے، اس لئے بعض لوگ اس کو دل کی زبان کہتے ہیں۔ ایک اور زبان کاروباری جو انسان کو روزگار فراہم کرکے ترقی کے راستے پر لے جاسکتی ہے اسے روٹی کی زبان کرسکتے ہیں، اگر آدمی کیلئے یہ دونوں پہلو ایک ہی زبان میں مل جائے تو اس زبان کی مقبولیت اور تعمیر وترقی کیلئے تمام راستے ہموار ہوجاتے ہیں۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    مارچ 29, 2026
    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح  کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    مارچ 29, 2026
    وزیر خارجہ جے شنکر کی فرانسیسی  صدر میکرون سے ملاقات

    وزیر خارجہ جے شنکر کی فرانسیسی صدر میکرون سے ملاقات

    مارچ 29, 2026
    ابھیشیک بنرجی کا انتخابی عمل کےتعلق سے انتظامیہ کی  سطح پرتبدیلیوں کے بعد بنگال میں خوف و ہراس اور خلل کا الزام

    ابھیشیک بنرجی کا انتخابی عمل کےتعلق سے انتظامیہ کی سطح پرتبدیلیوں کے بعد بنگال میں خوف و ہراس اور خلل کا الزام

    مارچ 29, 2026
    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    مارچ 29, 2026
    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح  کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    مارچ 29, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist