• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

حیدرآباد میں اردو صحافت کا جشن

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 1, 2022
0 0
A A
حیدرآباد میں اردو صحافت کا جشن
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹرمظفرحسین غزالی
9810371907

اردو کا پہلا اخبار”جام جہاں نما“ 27 مارچ 1822 کو کلکتہ سے نکلا تھا۔ اسے اردو صحافت کا نقطہ آغاز مانا جاتا ہے۔ اس کی نسبت سے ملک بھر میں اردو صحافت کی عظیم تاریخ کا جشن منایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پر فضا کیمپس میں منعقدہ سہ روزہ عالمی اردو صحافت کا جشن تھا جو”کاروانِ اردو صحافت“ کے عنوان سے 13، 14 اور 15 نومبر 2022 کو یونیورسٹی کے الگ الگ آڈیٹوریم میں جاری رہا۔ اس کی ابتداءکئی ماہ قبل یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے لوگو ڈیزائن مقابلہ سے کی تھی۔ اس موقع پر دو سو صحافیوں کے ویڈیو پیغام ریکارڈ کئے گئے۔ جو اردو صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل کی تاریخ کا دستاویز ہیں۔ کانفرنس کے دوران دکن میں اردو صحافت پر ایک شاندار ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ اردو ادب و صحافت کی اہم شخصیات پر یونیورسٹی طلبہ کے ذریعہ تیار کردہ مونولوگ اور ڈکومینٹریز شرکاءکی دلچسپی کا باعث تھیں۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر عین الحسن نے یونیورسٹی کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے طلبہ اور کم وقت میں اس کی کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ صرف اردو صحافت کی ابتداءکا ہی نہیں بلکہ فارسی صحافت کا سہرا بھی بھارت کے سر ہے۔ فارسی کا پہلا اخبار ایران کے بجائے بھارت سے شائع ہوا تھا۔
افتتاحی اجلاس میں مشہور صحافی، کالم نگار اور نغمہ نگار حسن کمال نے کہا کہ اردو صحافت کا ماضی شاندار، حال قدر خستہ مگر مستقبل تابناک ہے۔ ترسیل و ابلاغ کی نئی تکنیک نے بڑے امکانات روشن کئے ہیں۔ ڈیجیٹل سہولیات اردو زبان وادب اور صحافت کے فروغ کی ضمانت دے رہی ہیں۔ اب اخبار جاری کئے بغیر بھی صحافتی سرگرمیاں انجام دی جا سکتی ہیں۔ سینئر صحافی اور روزنامہ انقلاب ممبئی ایڈیشن کے مدیر شاہد لطیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اردو صحافت کی عظیم تاریخ کا جشن نہیں ہے بلکہ اردو زبان وادب، ملک کی آزادی کے لئے دی گئی قربانیوں، شجاعت اور اصلاح معاشرہ کی تاریخ کا بھی جشن ہے۔ روزنامہ انقلاب نارتھ انڈیا کے سابق مدیر شکیل حسن شمسی نے کہا اردو صحافت نے آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ پہلا صحافی جسے پھانسی دی گئی وہ دلی اردو اخبار کے مدیر مولوی محمد باقر تھے۔ انہوں نے صحافی کی ذمہ داری اور صحافت کا مقصد ان اشعار میں پیش کیا ؎
نہ تو دولت ہے نہ دینار و درہم رکھتے ہیں
ہم تو اتنے میں ہی خوش ہیں کہ قلم رکھتے ہیں
بس ان ہی لوگوں کے ہاتھوں میں قلم جچتا ہے
اپنے سینے میں جو انسانوں کا غم رکھتے ہیں
لے کے جاتا ہے قلم دارورسن تک اکثر
وہ قلم پھینک دیں جو حوصلہ کم رکھتے ہیں
اس موقع پر انڈین انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر جنرل سنجے دویدی، ڈاکٹر وائل شیخ حسن عواد، محمد حذیفہ وستانوی، کامنا پرساد، سوپن داس گپتا کے علاوہ کئی اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس می ”بچوں کے حقوق پر میڈیا ڈسکورس :کھیل اور صنف“ کے موضوع پر کویز اور پینل بحث رکھی گئی۔ اس میں محترمہ فرحت رضوی، پروفیسر امینہ تحسین، پنکج پچوری، سمیرا خان، راہل سری واستو، سونیا سرکار اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ اس اجلاس میں اردو اخبار و رسائل میں بچوں کے حقوق اور صنفی مساوات کے موضوع کو کتنی جگہ ملتی ہے، کھیل مساوی سلوک میں کس طرح معاون ہیں۔ لڑکیوں کی کامیابی کی کہانیوں پر اردو اخبار کتنی توجہ دیتے ہیں۔ صنفی امتیاز کی وجہ سے سماج میں کس طرح کی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ بچوں کے حقوق اور صنفی مساوات کے بغیر بہتر سماج کی تعمیر ممکن نہیں جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ مباحثہ کے دوران خواتین کے رسائل بند ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ محترمہ فرحت رضوی نے چائلڈ لائن اور خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کا ذکر کیا۔ سینئر صحافی پنکج پچوری نے کھیل، عدلیہ اور دیگر میدانوں میں لڑکیوں کی بہترین کارکردگی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اگر لڑکیوں کو خاندان کی حمایت اور سماج کی حوصلہ افزائی حاصل ہو تو انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سمیرا خان نے دقیانوسی سوچ کے لئے تعلیم اور معلومات کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پڑھا لکھا شخص ہی سماج اور ضرورت کے لحاظ سے خود کو بدلتا ہے۔ امینہ تحسین نے ڈویلپمنٹل اشوز پر لکھنے کے لئے صحافیوں کو تیار کرنے پر زور دیا۔ سونیا سرکار (کمیونیکیشن آفیسر یونیسیف انڈیا) نے کہا کہ میڈیا اگر بچوں کے حقوق اور صنفی مساوات کی بات کرے گا تو سماج کی سوچ میں تبدیلی ضرور آئے گی۔
یہ ایسا موقع تھا جب ہندی، انگریزی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے وہ صحافی اردو صحافیوں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر موجود تھے۔ جن کے مضامین اور باتیں ترجمہ کرکے اردو اخبارات اہتمام کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر پہلے دن کی شام کو اردو میڈیا کانکلیو میں دیکھنے کو ملا۔ پنکج پچوری اور سمیرا خان کی میزبانی میں”دنیا میں امن اور مکالمے کے فروغ میں میڈیا کا کر دار“کانکلیو کی ابتداءسری نواسن جین کی گفتگو سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا کام امن قائم کرنا نہیں بلکہ سچ اور حقائق کو سامنے لا کر اقتدار وقت کو آئینہ دکھانا اور بالواسطہ طور پر قیام امن میں شامل ہونا ہے۔ انہوں نے کوکھراجھار (آسام) کا ذکر کرتے ہوئے کہا وہاں مسجد میں آگ زنی کے واقعہ کو کور کرتے ہوئے کچھ ایسا دیکھنے کو ملا جس کی منظر کشی نہیں بلکہ پولیس کو اس کی اطلاع دی تاکہ حالات کو سنبھالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا میڈیا نفرت کا آتش فشاں بن چکا ہے۔ جاگرن کے اننت وجے نے کہا کہ میڈیا نفرت پھیلانے کے بجائے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے فرض منصبی ادا کرے تو نہ صرف صحافت اور ملک کی خدمت ہوگی بلکہ امن کے قیام میں بھی معاون ہوگا۔ مدھوکر اپادھیائے نے کہا کہ نفرت کا پرچار مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کیا جا رہا ہے۔ وہیں ستش جیکب کا کہنا تھا کہ یہ اسلامو فوبیا ہے جس کے تحت اوٹ پٹانگ خبریں اور اسٹوریز سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے اہل اقتدار بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ نفرت کی پشت پناہی وہاں سے بھی ہو رہی ہے بلکہ وزراءتک نفرت کی زبان بول رہے ہیں۔
راج دیپ سر دیسائی نے آن لائن کانکلیو میں حصہ لیا اور کہا کہ نفرت پھیلانے میں مخصوص آئی ٹی سیل بھی کافی سرگرم رہتا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد کے ایک ہاسٹل میں طلبہ کی آپسی مارپیٹ کا حوالہ دیا اور اس کی مزمت کی جسے ہندو مسلم کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مباحثہ میں امن کو لسانی سطح پر بھی نقصان پہنچانے کی بات سامنے آئی۔ سینئر صحافی وحید نقوی نے میڈیا کے کارپوریٹی کرن کا مدعا اٹھایا۔ تو راہل سری واستو نے گودی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ امن کو نقصان پہنچانے کی بات کہی۔ راہل دیو نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں کوئی بھی چیز دیر تک نہیں چلتی۔ انقلاب نارتھ انڈیا کے سابق مدیر شکیل حسن شمسی اور آعظم شاہد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں کانکلیو کے میزبان پنکج پچوری نے نفرت سے نبٹنے ویکسین عوام کی سمجھ کو بتایا۔ انہوں کہا کہ عوام ہی طے کرتے ہیں کہ اقتدار میں کون ہوگا اور کون نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر عوام سچ، سنویدنا (ہمدردی) سدبھاؤ (ہم آہنگی) ویکسین کا استعمال کریں تو سماج سے نفرت کی بیماری دور ہو سکتی ہے۔
سہ روزہ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر الگ الگ آڈیٹوریم میں گفتگو کی گئی۔ ان میں صحافت کو زوال سے بچانے کی تدابیر، اردو ذرائع ابلاغ میں اصلاحات، ڈیجیٹل دور میں اردو میڈیا، اردو میڈیا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے پروفیشنلزم، اردو میڈیا، اخبارات اور چینلز کو مالی بحران سے بچانے کی تدابیر، غلط خبر، اطلاعات کی جنگ میں بناوٹی خبر، چھوٹی خبر کی پہچان، اردو میڈیا، ورناکولر میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا، پریس، سیاست اور مذہب، اردو میڈیا اور نیشلزم، تقسیم کے بعد اردو میڈیا اور ورناکولر میڈیا کا بدلتا چہرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان مباحثوں میں سینئر صحافی کنگ سکھ ناگ، سدھارتھ وردراجن، نغمہ سحر، ارمیلیش، اطہر فاروقی، عارفہ خانم شیروانی، قربان علی، شمیم طارق، عزیز برنی، پروفیسر شافع قدوائی، یامین انصاری، عامر علی خان، سہیل انجم، سید فاضل پرویز، حسام صدیقی، سوما شیکھر مولوگو، اشرف بستوی، دارین شاہدی، محمد وجیہ الدین، سید اسدر علی، صلاح الدین زین، اسمعیل ظفر، امتیاز جلیل، سنجے کپور، سرفراز آرزو وغیرہ نے حصہ لیا۔ عام طور پر اردو صحافت کی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو جام جہاں نما سے شروع ہو کر مولوی باقر کی شہادت اور آزادی کی لڑائی میں اس کی قربانی اور خدمات کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے۔ جبکہ اردو صحافت زبان وادب کی ترقی، نئے الفاظ و اصطلاحات، ادب و زبان کے تجربات، سیاسی تبدیلیوں، سائنس کی ترقی، ایجادات، سماجی ٹکراؤ، تہذیبی و ثقافتی اقدار کا زوال، سنیما میں اردو کی گواہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس پہلو سے اردو صحافت کا مطالعہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist