• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, فروری 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

ڈیجیٹل عہد میں اردو ادب اپنی شناخت کے ساتھ زندہ اورنئی معنویت پیدا کررہا ہے: پروفیسر سراج اجملی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 15, 2026
0 0
A A
’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد
Share on FacebookShare on Twitter

نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج :عصر حاضر میں کوئی ایک نظریہ ادبی اظہار پر اس طرح حاوی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں تھا۔ آج کا ادیب پوری آزادی کے ساتھ اپنی انفرادیت، علاقائی و معاشرتی شناخت، ماحولیات، ڈیجیٹل زندگی اور نفسیاتی مسائل کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سراج اجملی ،شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سہ روزہ قومی سمینار ’’اردو ادب کا عصری منظرنامہ: اہمیت اور معنویت‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور ای کتابوں نے اردو ادب کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نوجوان بھی اردو سے وابستہ ہو رہے ہیں جن کا تہذیبی یا لسانی پس منظر اردو سے مضبوط نہیں رہا۔ ان کے مطابق تخلیقی صلاحیت سے مالا مال شاعر ہر تجربے کو بامعنی ادبی اظہار میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی عصری ادب کی سب سے بڑی قوت ہے۔اس سے قبل سمینار کے کنوینر پروفیسر احمد محفوظ نے مختصر تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگاران کو سمینار کے بنیادی موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی گفتگو کسی ایک مخصوص عہد تک محدود نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس طرح بحث کی معنویت متاثر ہوتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اردو ادب کی تفہیم کے لیے وسیع تاریخی اور فکری تناظر میں غور و فکر ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب میں اصل اہمیت فنکار کی ذات سے زیادہ اس کی تخلیقات کو حاصل ہوتی ہے، اس لیے میر، غالب اور سودا جیسے شعرا کا تخلیقی سرمایہ آج بھی زندہ اور بامعنی ہے۔ انھوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ادبی صورت حال پر اثرات کو بھی سمینار کی گفتگو کا اہم حصہ قرار دیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو، الہٰ آباد یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حقیقی تخلیق محض اطلاعات پر نہیں بلکہ گہرے تجربات اور مشاہدات پر قائم ہوتی ہے جبکہ آج کی بیشتر تخلیقات معلومات کی بنیاد پر لکھی جا رہی ہیں۔ انھوں نے فطرت کے اصول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی شے کی زیادتی اس کی کاٹ بھی لے آتی ہے جیسے حد سے زیادہ شور بہرے پن اور حد سے زیادہ روشنی اندھے پن میں بدل جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ معاصر اردو ادب میں خوابوں کے ٹوٹنے کا عمل تو نمایاں ہے، مگر خواب دیکھنے کی جرأت کم ہوتی جا رہی ہے حالانکہ خواب کے لیے مقصد حیات اور مقصد حیات کے لیے نظریۂ حیات ناگزیر ہے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت جناب مالک اشتر نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی۔سمینار کے دوسرے دن منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر غضنفر، پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی اور ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں مختلف علمی و فکری موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے جن میںاردو ناول کی عصری معنویت، جدید اردو افسانہ: موضوعات اور اسالیب، دکن میں اردو ادب کی عصری صورتحال، عصری اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر، اردو غزل کی عصری صورتحال، عالمی تناظر میں اردو ادب کی معنویت اور اردو نظم کا عصری تناظر شامل تھے۔اس اجلاس میں مقالہ نگاروں کے طور پر پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر فضل اللہ مکرم، جناب لئیق رضوی، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر آفتاب عالم اور ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر نہایت سنجیدگی اور فکری گہرائی کے ساتھ گفتگو ہوئی۔مقالات کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے سمینار میں پیش کیے گئے تمام مقالات کو فکری اعتبار سے پرمغز اور موضوعاتی لحاظ سے متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب محض واقعات کے بیان کا نام نہیں بلکہ تخیل کی آنچ سے نکھرتا ہے، ورنہ وہ صحافت یا تاریخ بن کر رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزل میں شگفتگی زبان کے حسن سے پیدا ہوتی ہے اور چونکہ زبان و فکر دونوں ارتقا پذیر ہیں، اس لیے ادب بھی تغیر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    مدینہ کا چارٹر: متنوع معاشرے میں مشترکہ شہریت کا اسلامی نمونہ

    مدینہ کا چارٹر: متنوع معاشرے میں مشترکہ شہریت کا اسلامی نمونہ

    فروری 15, 2026
    ’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

    ’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

    فروری 15, 2026
    وندے ماترم کی مخالفت کے پیچھے ووٹ بینک کی سیاست: اندریش کمار

    وندے ماترم کی مخالفت کے پیچھے ووٹ بینک کی سیاست: اندریش کمار

    فروری 15, 2026
    اسرائیلی آبادکاروں کے بڑے پیمانے پر حملے، 50 سے زائد فلسطینی زخمی

    اسرائیلی آبادکاروں کے بڑے پیمانے پر حملے، 50 سے زائد فلسطینی زخمی

    فروری 15, 2026
    مدینہ کا چارٹر: متنوع معاشرے میں مشترکہ شہریت کا اسلامی نمونہ

    مدینہ کا چارٹر: متنوع معاشرے میں مشترکہ شہریت کا اسلامی نمونہ

    فروری 15, 2026
    ’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

    ’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

    فروری 15, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist