نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج :عصر حاضر میں کوئی ایک نظریہ ادبی اظہار پر اس طرح حاوی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں تھا۔ آج کا ادیب پوری آزادی کے ساتھ اپنی انفرادیت، علاقائی و معاشرتی شناخت، ماحولیات، ڈیجیٹل زندگی اور نفسیاتی مسائل کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سراج اجملی ،شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سہ روزہ قومی سمینار ’’اردو ادب کا عصری منظرنامہ: اہمیت اور معنویت‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور ای کتابوں نے اردو ادب کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نوجوان بھی اردو سے وابستہ ہو رہے ہیں جن کا تہذیبی یا لسانی پس منظر اردو سے مضبوط نہیں رہا۔ ان کے مطابق تخلیقی صلاحیت سے مالا مال شاعر ہر تجربے کو بامعنی ادبی اظہار میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی عصری ادب کی سب سے بڑی قوت ہے۔اس سے قبل سمینار کے کنوینر پروفیسر احمد محفوظ نے مختصر تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگاران کو سمینار کے بنیادی موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی گفتگو کسی ایک مخصوص عہد تک محدود نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس طرح بحث کی معنویت متاثر ہوتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اردو ادب کی تفہیم کے لیے وسیع تاریخی اور فکری تناظر میں غور و فکر ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب میں اصل اہمیت فنکار کی ذات سے زیادہ اس کی تخلیقات کو حاصل ہوتی ہے، اس لیے میر، غالب اور سودا جیسے شعرا کا تخلیقی سرمایہ آج بھی زندہ اور بامعنی ہے۔ انھوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ادبی صورت حال پر اثرات کو بھی سمینار کی گفتگو کا اہم حصہ قرار دیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو، الہٰ آباد یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حقیقی تخلیق محض اطلاعات پر نہیں بلکہ گہرے تجربات اور مشاہدات پر قائم ہوتی ہے جبکہ آج کی بیشتر تخلیقات معلومات کی بنیاد پر لکھی جا رہی ہیں۔ انھوں نے فطرت کے اصول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی شے کی زیادتی اس کی کاٹ بھی لے آتی ہے جیسے حد سے زیادہ شور بہرے پن اور حد سے زیادہ روشنی اندھے پن میں بدل جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ معاصر اردو ادب میں خوابوں کے ٹوٹنے کا عمل تو نمایاں ہے، مگر خواب دیکھنے کی جرأت کم ہوتی جا رہی ہے حالانکہ خواب کے لیے مقصد حیات اور مقصد حیات کے لیے نظریۂ حیات ناگزیر ہے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت جناب مالک اشتر نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی۔سمینار کے دوسرے دن منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر غضنفر، پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی اور ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں مختلف علمی و فکری موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے جن میںاردو ناول کی عصری معنویت، جدید اردو افسانہ: موضوعات اور اسالیب، دکن میں اردو ادب کی عصری صورتحال، عصری اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر، اردو غزل کی عصری صورتحال، عالمی تناظر میں اردو ادب کی معنویت اور اردو نظم کا عصری تناظر شامل تھے۔اس اجلاس میں مقالہ نگاروں کے طور پر پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر فضل اللہ مکرم، جناب لئیق رضوی، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر آفتاب عالم اور ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر نہایت سنجیدگی اور فکری گہرائی کے ساتھ گفتگو ہوئی۔مقالات کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے سمینار میں پیش کیے گئے تمام مقالات کو فکری اعتبار سے پرمغز اور موضوعاتی لحاظ سے متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب محض واقعات کے بیان کا نام نہیں بلکہ تخیل کی آنچ سے نکھرتا ہے، ورنہ وہ صحافت یا تاریخ بن کر رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزل میں شگفتگی زبان کے حسن سے پیدا ہوتی ہے اور چونکہ زبان و فکر دونوں ارتقا پذیر ہیں، اس لیے ادب بھی تغیر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔












