حیدرآباد ،پریس ریلیز،ہماراسماج:طلبہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اپنے کیریئر کا انتخاب کریں۔ اردو یونیورسٹی میں تقریباً تمام طرح کے پروفیشنل کورسز انتہائی کم فیس میں دستیاب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن وائس چانسلر ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج ”اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں“ کے 29 ویں اور سیزن کے آخری پروگرام سے صدارتی خطاب کر رہے تھے۔ ڈین المنائی، مانو المنائی اسوسی ایشن اور پبلک ریلیشنز آفس کے اشتراک سے گذشتہ 6 ماہ سے ہر منگل کو مختلف اسکولوں اور کالجس کے طلبہ کو اردو یونیورسٹی کا تعلیمی دورہ کروایا جارہا تھا۔اردویونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کا آغاز 4 اگست 2025 کو کیا گیا تھا۔ پروفیسر سید عین الحسن کے مطابق اردو یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے ملک بھر سے طلبہ و ریسرچ اسکالرس آگے آرہے ہیں۔ لیکن تلنگانہ اور حیدرآباد کے مقامی طلبہ کی تعداد نہایت ہی کم ہے۔ ان کے مطابق مانو کو عالمی سطح کی QIS رینکنگ میں بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ یونیورسٹی کی معیاری تعلیم اور اعلیٰ انفراسٹرکچر کا ایک ثبوت ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کی فیس کا ڈھانچہ بہت معمولی ہے۔ ان ساری سہولیات کے باوجود مقامی طلبہ کا داخلوں کے لیے یونیورسٹی نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی طلبہ میں یونیورسٹی کے متعلق آگاہی میں کمی ہے اور اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کے آغاز کا اصل مقصد اردو یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی سہولیات کے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔ گذشتہ چھ مہینوں کے دوران اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام میں تقریباً 3,200 طلبہ نے شرکت کی۔ رواں تعلیمی سال کے دوران چلائی جانے والی اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں مہم کے پہلے مرحلے کے اختتام پر منعقد ہونے والے اس پروگرام میں پرانے شہر حیدرآباد کے مشہور سماجی جہدکار اظہر مخصوصی کے علاوہ یونیورسٹی کے المنائی انعم ظفر (آل انڈیا فرسٹ رینکر) اورموزمبیق میں برسرکار مانو کے سابق طالب علم شیخ اویس کو بھی تہنیت پیش کی گئی۔پروگرام کی ابتداءمیں پروفیسر سید نجم الحسن، کوآرڈینیٹر المنائی افیئرس نے طلبہ کو پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ مانو لاءاسکول کے پروفیسر عمران نے یونیورسٹی میں لاءاسکول کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 50 سال قانون کے طلبہ کے لیے بہترین ہونے والے ہیں۔ کیونکہ ہر شعبۂ حیات میں قانونی صلاح و مشورہ کی ضرورت پڑنے لگی ہے اور اس ضرورت کی تکمیل قانون کے طلبہ ہی کرسکتے ہیں۔پروفیسر احتشام احمد خان، صدر شعبۂ ایم سی جے نے جرنلزم کے طلبہ کو دستیاب مواقع کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کنٹنٹ رائٹرس، کیمرہ پرسن، ویڈیو ایڈیٹنگ، آڈیو ایڈیٹنگ ہر طرح کے ٹیکنیشین بہت زیادہ ضرورت ہے۔ جس کی وجہ سے اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو روزگار آسانی سے مل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرنلزم کے طلبہ کو محض نیوز چینلوں ہی نہیں بلکہ ہندی، تلگو، اردو ہر طرح کی فلموں، میں بھی مواقع ملنے لگے ہیں۔ پروفیسر سید خواجہ صفی الدین نے کہا کہ مینجمنٹ و کامرس کے اسکول کے طلبہ کو جہاں بڑے پیمانے پر نوکریاں ملتی ہیں وہیں وہ اپنا کاروبار یا کمپنی بھی شروع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اردو یونیورسٹی میں ایم بی اے ایچ آر، مارکٹنگ اور فینانس جیسے مضامین دستیاب ہیں۔ انٹرنیشنل اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) جیسے اداروں میں ان کورسز کی فیس لاکھوں روپیوں میں ہے۔ جبکہ مانو میں ایم بی اے کے طلبہ سے صرف چند ہزار ہی فیس کے طور پر لیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد شاہد نے سی ایس ای اکیڈیمی کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ یونیورسٹی میں سول سرویسز کوچنگ اکیڈیمی میں گریجویشن کامیاب طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ یہاں کے طلبہ نے گروپ I اور گروپ II کے مسابقتی امتحانات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری نے کارروائی چلائی۔ انہوں نے بتایا کہ وائس چانسلر کی سرپرستی میں یہ پروگرام بڑی کامیابی سے چلایا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد مقامی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ یونیورسٹی کے بارے میں آگاہ کرنا تاکہ مقامی طلبہ بھی حیدرآباد میں موجود اس جامعہ سے استفادہ کرسکیں۔ اس موقع پر ایم ایس اسکول کے ڈائرکٹر ڈاکٹر معظم حسین اور اساتذہ نے بھی خطاب کیا۔ جناب اعجاز قریشی ایڈوکیٹ، صدر مانو المنائی اسوسی ایشن نے شکریہ ادا کیا۔












