ممبئی، پریس ریلیز،ہماراسماج:رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی عروس البلاد ممبئی کی فضا ذکر و تلاوت سے معطر ہو گئی ہے۔ شہر کے قدیم اور مذہبی اعتبار سے اہم علاقوں مینارہ مسجد، پائیدھونی، محمدعلی روڈ اور بھنڈی بازار — میں نمازِ تراویح کے لیے غیر معمولی اژدحام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سحر و افطار کے اوقات میں گلیاں آباد اور مساجد نور سے جگمگا اٹھتی ہیں، جب کہ قرآنِ کریم کی خوش الحان تلاوت دلوں کو گرما دیتی ہے۔ یہ روح پرور مناظر صرف جنوبی ممبئی تک محدود نہیں بلکہ مضافاتی علاقوں اور مسلم بستیوں میں بھی عبادت کا شوق دیدنی ہے۔رمضان کے ابتدائی ایام ہی سے مساجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پر نمازیوں کو صحن، برآمدوں اور اطراف کی گلیوں تک صفیں بچھانی پڑیں۔ مقامی مسجد کمیٹیوں اور سماجی تنظیموں نے نظم و نسق کے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ تراویح کے دوران سہولت اور امن و امان برقرار رہے۔ امسال بھی ملک کے مختلف حصوں خصوصاً شمالی ہند سے سینکڑوں حفاظِ کرام ممبئی پہنچے ہیں، جو یہاں کی مساجد میں قرآنِ مجید سنانے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔اسی روحانی فضا میں ایک نمایاں نام حافظ محمد سمیر نظام الدین کا ہے، جو اس وقت ممبئی کی گنجان آبادی دھاراوی کی ایک مسجد میں نائب امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور امسال خصوصی دس روزہ تراویح میں قرآن سنا رہے ہیں۔ ان کی پُرسوز آواز اور تجوید کی پابندی نے نمازیوں کو خاصا متاثر کیا ہے، اور ہر رات بڑی تعداد میں لوگ ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔حافظ سمیر کے آبا و اجداد کا تعلق اترپردیش کے تاریخی شہر متھرا سے ہے، اگرچہ ان کا خاندان برسوں سے ممبئی میں مقیم ہے۔ بچپن ہی سے قرآنِ کریم سے گہرا شغف رکھنے والے سمیر کو ان کے والد نظام الدین اور والدہ نے دینی تعلیم کی طرف راغب کیا۔ والدین کی خواہش تھی کہ بیٹا حافظِ قرآن بن کر دین کی خدمت کرے۔ اسی جذبے کے تحت انہیں نئی دہلی کے معروف ادارے دارالعلوم نو ہمدرد نگر میں داخل کرایا گیا، جہاں انہوں نے 2000 کی دہائی میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔بعد ازاں انہوں نے مختلف مدارس میں درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی اور فقہ، حدیث اور عربی ادب میں مہارت پیدا کی۔ ممبئی کے ممتاز دینی ادارے جامعہ قادریہ اشرفیہ چھوٹا سوناپور سے فضیلت کی سند حاصل کرنا ان کی علمی زندگی کا اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ دینی تعلیم کے ساتھ انہوں نے عصری تعلیم بھی جاری رکھی اور سیکنڈری سطح تک تعلیم حاصل کی، جس سے ان کی شخصیت میں اعتدال اور فکری وسعت پیدا ہوئی۔حافظ سمیر 2009 سے متھرا، آگرہ اور دہلی سمیت مختلف شہروں کی مساجد میں نمازِ تراویح پڑھاتے آ رہے ہیں۔ انہیں 2017 اور 2018 میں متھرا کی تاریخی شاہی مسجد عیدگاہ میں تراویح پڑھانے کا اعزاز حاصل ہوا، جو کسی بھی حافظ کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ سنہ 2018 میں دورانِ تراویح جب وہ شاہی مسجد عیدگاہ میں قرآن سنا رہے تھے، رمضان کے دوسرے عشرے میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کڑے امتحان کے باوجود انہوں نے صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری جاری رکھی۔ یہ واقعہ ان کے عزم، دینی وابستگی اور والدین کی تربیت کا روشن ثبوت سمجھا جاتا ہے۔دھاراوی میں نائب امام کی حیثیت سے ان کی خدمات محض امامت تک محدود نہیں بلکہ وہ نوجوانوں کی دینی رہنمائی، تجوید کی تعلیم اور اصلاحی بیانات کے ذریعے سماجی شعور بھی بیدار کرتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ان کی قرأت میں سوز و گداز اور سادگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو سامعین کے دلوں کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ ان کی آواز میں ٹھہراؤ اور معانی کی ادائیگی کا خاص اہتمام نمازیوں کو خشوع و خضوع کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ممبئی جیسے مصروف اور تیز رفتار شہر میں رمضان کا یہ روحانی منظر اس بات کا غماز ہے کہ عبادت اور دینی وابستگی آج بھی مسلمانوں کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ ہزاروں نوجوان عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی آراستہ ہو رہے ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ حافظ محمد سمیر نظام الدین انہی باصلاحیت نوجوانوں میں شامل ہیں، جو دین اور دنیا کے تقاضوں میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے نئی نسل کے لیے عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں۔رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں ان جیسے حفاظ کی موجودگی نہ صرف مساجد کی رونق میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ایمان و یقین کو تازگی بھی بخشتی ہے۔ ممبئی کی شبوں میں گونجتی قرآنِ کریم کی صدائیں اس بات کی شاہد ہیں کہ یہ شہر محض تجارتی سرگرمیوں کا مرکز نہیں بلکہ روحانیت اور دینی شعور کی ایک روشن علامت بھی ہے۔












