واشنگٹن(ہ س)۔ایک امریکی خاتون وفاقی جج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو فوری طور پر ہارورڈ یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبہ کے اندراج کے اختیارات ختم کرنے سے روکنے کے حکم میں توسیع کریں گی۔ اس اقدام کو مبصرین نے آئیوی لیگ” جامعات کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا، جو اس وقت امریکی انتظامیہ سے مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔بوسٹن کی ضلعی عدالت کی جج ایلیسن بورو نے اعلان کیا کہ وہ ایک عبوری عدالتی حکم نامہ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ موجودہ صورت حال برقرار رہے۔ چھ روز قبل انھوں نے ہارورڈ کو ایک عارضی حکم دیا تھا جس کے تحت انتظامیہ کو طلبہ کے اندراج کے اختیارات ختم کرنے سے روکا گیا۔اسی روز جب عدالت میں سماعت ہو رہی تھی، ہزاروں ہارورڈ طلبہ اپنی اسناد حاصل کر رہے تھے۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ملک کی قدیم اور امیر ترین یونیورسٹی پر دباؤ بڑھا دیا ہے … اور اربوں ڈالر کی گرانٹس منجمد کی گئی ہیں، ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں اور امتیازی سلوک کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔ہارورڈ نے موقف اختیار کیا کہ غیر ملکی طلبہ کے اندراج کے اختیارات واپس لینے سے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے کیوں کہ اس کے ایک چوتھائی طلبہ غیر ملکی ہیں، جب کہ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں 60 فی صد گریجویٹ طلبہ بیرون ملک سے آتے ہیں۔یہ اقدامات ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہیں جس کے تحت امریکی حکومت جامعات کو اپنی سیاسی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ اسی ضمن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ چینی طلبہ، خاص طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والوں اور حساس شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے ویزا منسوخ کیے جائیں گے۔ اس سے 275,000 چینی طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں جو امریکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔اس سے قبل حکومت کی تنقید کا ہدف زیادہ تر آئیوی لیگ کی جامعات تھیں، جن پر بائیں بازو کی طرف جھکاؤ اور سام دشمنی کا الزام تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مئی میں ہارورڈ کا غیر ملکی طلبہ سے متعلق لائسنس منسوخ کر دیا اور 30 دن کی مہلت دی تاکہ وہ اس فیصلے کو انتظامی طریقے سے چیلنج کر سکے۔محکمہ انصاف کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اب کسی عدالتی حکم کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہارورڈ کے پاس اپیل کا راستہ موجود ہے۔ تاہم جج بورو نے اس بات پر شک ظاہر کیا کہ اس عمل کا نتیجہ مختلف ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آخرکار وہیں واپس نہ آ جائیں جہاں ابھی ہیں؟












