نئی دہلی/واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی محکمہ تجارت نے ہندوستان، انڈونیشیا اور لاؤس سے سولر پینل کی درآمدات پر ابتدائی جوابی چنگی (کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد ان ممالک کی طرف سے اپنے پروڈیوسر کو فراہم کردہ سبسڈی کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ ابتدائی درآمداتی چنگی کی شرح ہندوستان کے لیے 125.87 فیصد، انڈونیشیا کے لیے 104.38 فیصد اور لاؤس کے لیے 80.67 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ یہ ڈیوٹی 17 جولائی 2025 کو گھریلو سولر پینل پروڈیوسر کی نمائندگی کرنے والےالائنس فار امریکن سولر مینوفیکچرنگ اینڈ ٹریڈ کی طرف سے دائر درخواست پر لگائی گئی ہے۔ درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا کہ ان تینوں ممالک سے درآمد کیے جانے والے کرسٹل لائن سلیکان فوٹوولٹک سیل امریکی بازار میں مناسب قیمت سے کم میں فروخت کیے جا رہے ہیں جس سے ملکی شمسی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ درخواستوں میں 21 جولائی سے 4 اگست 2025 کے درمیان جمع کرائی گئی معلومات کے ساتھ کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی کی درخواستیں شامل تھیں۔ یہ کارروائی اگست 2025 میں یو ایس انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن کی ان سفارشات کے بعد کی گئی ہے کہ ہندوستان، انڈونیشیا اور لاؤس سے درآمدات سے ملکی صنعت کو نقصان پہنچاہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے جائزے میں ہندوستان کے حالیہ مالی سال کے ڈیٹا اور کیلنڈر سال 2024 کے انڈونیشیا اور لاؤس کے درآمداتی ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہندوستان، انڈونیشیا اور لاؤس سے درآمدات پر ابتدائی ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد بدھ کے روز ہندوستانی شمسی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے گراوٹ درج ہوئی۔ مینوفیکچرر ابتدائی تجارت میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے، واری انرجیز اور پریمیئر انرجیز کے حصص میں تقریباً 15 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔












