تہران، (یو این آئی) ایران کی جانب سے امریکی ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے نکات موصول ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب ایران نے بھی امریکی ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کے نکات موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے اہلکار کا کہنا ہے ایران کو امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ایک پیغام ملا ہے۔ گزشتہ چند روز سے مختلف ممالک جنگ بندی اورثالثی کیلئے رابطے میں ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے جو مذاکرات کے لیے امریکی نکات موصول ہوئے ہیں، ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران نے اب تک مذاکرات ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات پاکستان، ترکیہ اور مصر کی سہولت کاری میں ہوئے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر تینوں ملک امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں۔ بارک روید نے مزید لکھا ہے کہ اسرائیلی حکام کہہ رہے ہیں کہ مصالحت کرانے والے ملک چاہتے ہیں کہ اس ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی اسلام آباد میں ایرانی اسپیکر غالیباف سمیت ایرانی وفد سے ملاقات کرائی جائے۔دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہےکہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدے داروں اور وٹکوف اور جیراڈ کشنر کے درمیان بیک چینلز رابطے کروا رہے ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے خواہاں ہے اور ایران جنگ رکوانے کے لیے اسلام آباد آئندہ ہفتے مذاکرات کی میزبانی کرسکتا ہے۔ ترک نیوز ایجنسی نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وفد ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک یا دو دن میں پاکستان پہنچ رہا ہے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے امکان ہے امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔ اس ٹیم میں ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران عدم اعتماد کی وجہ سے اب تک اس کیلیے تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے ایران کو مذاکرات پرآمادہ کرنے کیلیے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان، ترکیے اور مصرمشترکہ رہنمائی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سی این این سے گفتگو میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا اگر فریقین رضا مند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلیے ہر وقت تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے فروغ کیلیے کردار ادا کرنے کو تیار رہتا ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ مذاکرات کا انحصار متعلقہ فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو ٹیلی فونک بات چیت میں مغربی ایشیا کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت 23 مارچ کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ہوئی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا”انھوں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ نے خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا،” منگل کو رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خود کو دو متحارب فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے منگل کے روز کہا ہے کہ صدر پیزشکیان اور شہباز شریف نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور علاقائی اور عالمی سلامتی پر امریکہ اور اسرائیل کے غیر قانونی حملوں کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر پیزشکیان نے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی سرزمین یا وسائل کے استعمال کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر علاقائی ممالک جنگ کو جاری رکھنے سے نہیں روک سکتے تو انہیں کم از کم ایران کے خلاف مسلسل کارروائیوں میں سہولت کاری نہیں کرنی چاہیے۔ مسٹر شریف نے کشیدگی کو کم کرنے اور دیرپا امن و استحکام کی بحالی کے لیے علاقائی ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کا امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہنا ہے کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللّٰہ پر حملے جاری رکھیں گے۔












