اسلام آباد، (یو این ٓآئی) سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران مذاکرات کامقام ابھی طےنہیں ہوا۔
ایک اہم سفارتی زریعہ نے جیونیوز کو بتایا ہے کہ ابھی اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہفتے براہ راست مذاکرات ہوں گے۔ جیونیوز سے بات کرتے ہوئے سفارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی یہ بھی طے نہیں ہے کہ مذاکرات کا مقام کیا ہوگا تاہم یہ اسلام آباد میں بھی ممکن ہیں۔
اس سے پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے براہ راست مذاکرات کا امکان ہے اور یہ بھی کہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا دعوی تھا کہ ان مذاکرات میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف شریک ہوسکتے ہیں۔ غیرملکی سفارتی زرائع نے کہا کہ ابھی سرکاری طور پر کوئی بھی چیز حتمی نہیں ہے۔ ایران امریکہ جنگ رکوانے کیلئے سفارتی محاذ پر پاکستان صف اول میں ہے جو کہ فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پیر کو ٹیلےفونک گفتگو سے بھی واضح ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے 23 مارچ کو ٹیلےفون پر رابطہ کیا تھا اور اسی روز نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحق ڈارنے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلےفون پر بات کی تھی جس میں خطے میں امن کےقیام کیلیے مختلف امور پر بات کی گئی تھی۔
مختلف ممالک میں تعینات پاکستان کے سفارتکاروں نے یہ تو کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ معاملہ مذاکرات سے حل ہواور دفترخارجہ نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران چاہیں تو پاکستان ثالثی کیلئے تیار ہے۔ تاہم اس نمائندے نے پاکستانی کی ایک اہم شخصیت سے یہ پوچھا کہ بعض میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی اعلی شخصیات اس ہفتے اسلام آباد میں ملاقات کررہی ہیں تو پاکستان کی اس اہم شخصیت نے نامعلوم وجوہات کی بنا پراسکا جواب دینےہی سے گریز کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس سے پہلےعمان کی ثالثی میں مسقط میں بلواسطہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ بھی دونوں ممالک کے مذاکرات کیلئے اہم مقام رہا ہے جہاں نہ صرف ایٹمی پروگرام بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایشوز پر بھی بات چیت ہوچکی ہے۔ ایک اور اہم ملک اٹلی بھی ہے جہاں سلطنت عمان کے سفارتخانے میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں اسلام آباد کےساتھ ساتھ ترکیہ اور مصر کو بھی مذاکرات کیلئے اہم مقام قرار دیا جاچکا ہے۔
ایران کے ایک سفارت کار سے جیو نیوز کے نمایندے نے سوال کیا کہ آیا امریکی صدر کے مندوب اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہے؟ ایرانی سفارتکار نے دونوں رہنماوں کے درمیان براہ راست رابطوں کی تصدیق یا تردید تو نہیں کی تاہم کہا کہ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور ایک دوسرے سے سفارتی رابطے ہر حالت میں قائم رہتے ہیں۔
جیو نیوز کے نمائندے نے کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسی زادے کا بھی پچھلے ہفتے انٹرویو کیا تھا جس میں ان سے سوال کیا تھا کہ آپ کے نزدیک پاکستان اس وقت جنگ کی شدت کم کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتاہے؟ اکبرعیسیٰ زادے کا کہنا تھا کہ پاکستان اور خطے کے بعض دیگر ممالک نے ہم سے کہا تھا کہ ہم مذاکرات کی میز پر آئیں، ان کی بات کا لحاظ کرتے ہوئے ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے تھے،اب اگر مذاکرات کے درمیان امریکہ نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے تواسلامی ممالک کا فرض ہے کہ وہ جارح ملک کو بتائیں کہ وہ اس جارحیت سے ہاتھ کھینچے۔ اکبرعیسی زادے کا کہنا تھا کہ عالمی تنظیمیں اس وقت خاموش ہیں، انکی خاموشی کو دیکتھے ہوئے اسلامی ممالک ہماری مدد کریں کہ جارحیت روکی جائے۔
جارحیت کا سامنا کرنے والے ایران کی مدد کی جائے،اس ضمن میں عالمی تنظیموں میں قراردادیں منظور کرائی جاسکتی ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک اور قرارداد منظور کی جائے جس پر تہران نے بیجنگ اور ماسکو پر بھی زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کو باز رکھنے کیلئے آگے بڑھیں۔ اکبر عیسی زادے نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ جسے پورے خطے کیلئے خطرہ قرار دے رہا ہے وہ امن کیلئے خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرہ اسرائیل ہے جسکا اپنے پاؤں پھیلانا پورے خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس ہفتے ایران اورامریکہ کےبراہ راست مذاکرات اگر اسلام آباد میں ہوئے تو یہ کسی حد تک جاری عالمی جنگ کےدوران پاکستان کو عالمی سطح پر ابھارنے میں سنگ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔












