ماسکو، (اسپوتنک/یو این آئی) امریکہ، ایران اور ثالثی کررہے علاقائی فریق تنازع کو حل کرنے کے لیے دو مرحلوں کے منصوبے کے پہلے قدم کے طور پر ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں امریکی ویب سائٹ ایکسی اوس نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دیایکسی اوس نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں ایران کو کئی تجاویز پیش کی تھیں لیکن ایرانی حکام نے ابھی تک ان میں سے کسی کو قبول نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان آئندہ 48 گھنٹوں میں معاہدے کے امکانات بہت کم ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایرانی پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ایکسی اوس کی ایک رپورٹ کے مطابق، تنازعات کے خاتمے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل ایک معاہدہ فی الحال زیر بحث ہے۔ پہلے مرحلے میں 45 دن کی جنگ بندی شامل ہے جس کے دوران امن کی حتمی شرائط پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کو مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہے تو اس جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دینا شامل ہے۔ایکسی اوس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور انتہائی افزودہ یورینیم پر ایران کے قبضے جیسے مسائل کو حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ثالث امریکہ کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی کام کر رہے ہیں اور ایران کے کچھ مطالبات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تلاش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، مسٹر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور منگل تک کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوئے ہیں۔دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ نے براہ راست بات چیت سے انکار کیا ہے، لیکن کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کی طرف سے ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے متعدد اہداف پر حملے کیے تھے۔ جوابی کارروائی میں ایران اسرائیلی سرزمین کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔












