نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے کہا کہ وزیر اعظم کی یہ خاموشی بھارت کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ امریکہ کئی مہینوں سے اس جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ نے ٹریڈ ڈیل کے ذریعے بھارت کو روس سے تیل نہ لینے کے لیے منا لیا۔ ایسے میں ملک کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا امریکہ نے وزیر اعظم کو گمراہ کیا یا پھر خود وزیر اعظم نے امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے بھارت کے مفادات سے سمجھوتہ کر لیا؟ عام آدمی پارٹی کے پنجاب انچارج منیش سسودیا نے کہا کہ آج ایک بھارتی ہونے کے ناطے ذہن میں چند نہایت سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ٹھیک ایک ماہ قبل وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے ساتھ ایک ٹریڈ ڈیل کرتے ہیں۔ اس معاہدے میں امریکہ کی ایک اہم شرط قبول کر لی جاتی ہے کہ بھارت روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔ حالانکہ بھارت اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل خود پیدا نہیں کرتا۔منیش سسودیا نے کہا کہ ہم روزمرہ استعمال ہونے والے تیل کا بڑا حصہ بیرون ملک سے خریدتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک یا دو ذرائع کو بند کر دینا محض ایک سفارتی فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ براہِ راست اس بات سے جڑا ہوتا ہے کہ ملک میں تیل کی سپلائی مستحکم رہے گی یا نہیں، قیمتیں قابو میں رہیں گی یا نہیں اور کسی بحران کے وقت ملک کے پاس متبادل راستے باقی رہیں گے یا نہیں۔ اسی کو توانائی کی سلامتی کہا جاتا ہے۔منیش سسودیا نے کہا کہ اس فیصلے کے صرف بیس دن بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ خود امریکہ کی حکومت کہہ رہی ہے کہ اس جنگ کی تیاری کئی مہینوں سے جاری تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ جنگ ہونے والی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔












