رشت/تہران، (یواین آئی ) ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اتوار کی صبح ایرانی صوبے گیلان کے ایک پرامن قصبے پر امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس وحشیانہ فضائی حملے میں اب تک 2 افراد کے مارے جانے اور 5 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حملہ ایک گنجان آباد رہائشی علاقے پر کیا گیا، جس کی وجہ سے کئی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔گیلان پر حملے کے ساتھ ساتھ ایران کے تاریخی شہر شیراز میں بھی دہشت پھیل گئی، جہاں یکے بعد دیگرے 4 زوردار دھماکے سنے گئے۔ ابھی تک شیراز میں ہونے والے دھماکوں کی نوعیت اور نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم مقامی انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایرانی فوجی حکام نے امریکہ کو "خلیجی مچھلیوں کی خوراک” بنانے کی دھمکی دی تھی اور شمالی کوریا نے اپنے نئے راکٹ انجن کا تجربہ کیا تھا۔ ایرانی حکومت نے اس حملے کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے میں 2 امریکی یا اسرائیلی یونیورسٹیوں کو ہدف بنانے کا اعلان کردیا۔ ایک بیان میں ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کا جواب دیں گے اور خطے میں 2 امریکی یا اسرائیلی یونیورسٹیوں کو ہدف بنائیں گے۔ ایرانی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 28 مارچ کے حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی کیے ہیں جبکہ جنوبی فارس میں 1 امریکی ایف16 طیارہ مار گرایا، طیارہ سعودی ایئربیس پہنچنے سے پہلے گر گیا۔ حکام نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین اور خطے میں امریکی و اسرائیلی صنعتوں پر شدید حملے کیے ہیں، آئندہ ایرانی صنعتوں پر حملہ ہوا تو نتیجہ سوچ سے برا ہوگا۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ حیفہ میں اسٹریٹجک الیکٹرونک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایاہے، بن گورین ایئربیس پر ایندھن کے ذخیروں پر بھی حملہ کیا۔ کویت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کا ڈرونز سے مبینہ حملہ کیا اور ریڈارسسٹم کونقصان پہنچا آگ بھڑک اٹھی۔ سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے۔ان کے مطابق خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔ایسے میں حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے. تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔نبیل خوری کے مطابق اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہازوں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے۔












