واشنگٹن، (یو این آئی) امریکہ کے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق قوم سے خطاب کے ایک دن بعد جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کو مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ یہ تنازعہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔جنرل جارج کے علاوہ دو دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو بھی برطرف کیا گیا ہے۔ ان میں میجر جنرل ولیم گرین جونیئر اور جنرل ڈیوڈ ہوڈنے شامل ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام اس غیر مستحکم دور میں محکمہ دفاع کے ڈھانچے کو نئی شکل دینے کے وزیر دفاع کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔اگرچہ جنرل جارج کی مدتِ ملازمت میں ایک سال سے زیادہ وقت باقی تھا، لیکن وزارت جنگ نے جمعرات کے روز تصدیق کی کہ وہ فوج کے 41ویں چیف آف اسٹاف کے عہدے سے فوری طور پر ریٹائر ہو جائیں گے۔وزارت جنگ کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے سوشل میڈیا پر جنرل جارج کے جانے کی تصدیق کی اور ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر فوج کے 41 ویں چیف آف اسٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور قوم کے لیے ان کی خدمات پر محکمہ ان کا شکر گزار ہے۔جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بھی امریکی فوج میں جنرل جارج کی طویل خدمات پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1988 سے جنرل جارج اور ان کے خاندان نے عزت اور لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے۔












