امریکا:امریکہ کی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک مباحثہ اے بی سی نیوز کی میزبانی میں ٹیلی وژن پر بدھ کو نشر ہوا۔مباحثے کے آغاز میں دونوں صدارتی امیدواروں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر ہاتھ ملائے، جب کہ مصافحے کے لیے پہلے ہاتھ ہیرس نے بڑھایا۔فلاڈیلفیا میں منعقد ہونے والے اس مباحثے میں ایک امیدوار کا مائیکرو فون بند، بغیر نوٹس اور براہ راست سامعین نہ ہونے سمیت سخت قوانین پر عمل کیا گیا ہے۔مباحثے میں معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، اسرائیل کے غزہ پر حملوں سمیت اہم داخلی اور خارجہ امور پر دونوں جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کئے۔ریپبلکن حریف پر تنقید کا آغاز کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا اور ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ’گریٹ ڈپریشن کے بعد بدترین بے روزگاری‘ کے ساتھ ساتھ ’صدی میں صحت عامہ کی بدترین وبا‘ اور ’خانہ جنگی کے بعد ہماری جمہوریت پر بدترین حملے‘ کو پیچھے چھوڑ کر گئے تھے۔ہیرس نے اپنے آپ کو ایک ایسی رہنما کے طور پر پیش کیا جس نے ٹرمپ کا پیچھے چھوڑا ہوا ’گند‘ صاف کیا۔تاہم ٹرمپ نے فوری طور پر جواب دیتے ہوئے ہیرس کے متعلق کہا کہ ان کی اپنی کوئی اصل معاشی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہیرس نے جو بائیڈن کا پلان نقل کیا ہے اور اسے ’چار جملوں‘ سے زیادہ نہیں قرار دیا تھا جس میں ٹیکس کم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔












