واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ یہ بات اتوار کے روز وائٹ ہاؤس کی طرف سے بتائی گئی ہے۔
وائٹ ہاوس کے بیان کے مطابق صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ 20 جنوری سے پہلے غزہ میں جنگ بندی معاہدہ ممکن بنایا جائے۔ یاد رہے اس سے پہلے نومنتخب امریکی صدر جو 20 جنوری سے اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ سنبھال رہے ہیں، انہوں نے حماس کو دھمکی دے رکھی ہے کہ 20 جنوری سے پہلے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دے۔امریکی صدر جوبائیڈن جو 20 جنوری سے منصب صدارت چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جوبائیڈن نے زور دیا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو فوری ممکن بنایا جائے اور انسانی بنیادوں پر جنگ روکی جائے۔
اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ جنگ میں اپنے سب سے اہم اور بڑے اتحادی ملک کے سربراہ کو جنگ بندی کے لیے تازہ ترین کوششوں سے اپ ڈیٹ کیا ۔
وائٹ ہاوس کے مطابق نیتن یاہو نے صدر جوبائیڈن کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی ٹیم کو مذاکرات کے لیے بھیج دیا ہے۔ تاکہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی ڈیل ممکن بنائی جائے۔دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر خطے میں آنے والی اہم تبدیلیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران لبنان کے ساتھ جاری جنگ بندی اور شام میں بشارالاسد کی رجیم کے خاتمے کے بعد کے حالات زیر بحث آئے۔ اس سلسلے میں ایران کے خطے میں کمزور ہوجانے کا معاملہ گفتگو کا موضوع بنا۔صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اس سے پہلے اتوار ہی کے روز ‘سی این این کے پروگرام ‘سٹیٹ آف دی یونین میں کہا ‘فریقین ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں لیکن پھر بھی اسے حتمی لکیر عبور کرنا نہیں کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر صدر جوبائیڈن کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں روزانہ اپ ڈیٹس ملنے کا بھی بتایا۔ جہاں جمعرات سے اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے کہنا شروع کیا ہے کہ اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔جیک سلیوان نے مزید کہا ‘ہم اب بھی اس کام کو انجام دینے کے لیے موجود ہیں اور بقیہ ایک ایک دن کو استعمال کرنے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔
اور ہم سمجھتے ہیں کہ جوبائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کا ایک موقع اب بھی موجود ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ حماس اس کے برعکس چلی جائے۔
جہاں بین الاقوامی حلقے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اور حماس اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ گھنٹوں کے دوران قیدیوں کے تبادلے میں ریکارڈ کی گئی ایک اہم پیش رفت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، وہیں فائل پر ایک نئی چیز سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے تصدیق کی کہ قیدیوں کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں؟۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہائی کے معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے اب "گہری” کوششیں جاری ہیں۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے القدس میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔اس کے برعکس حماس نے آج پیر کو اعلان کیا کہ وہ جلد ہی قیدیوں کی آزادی کی تاریخ طے کرے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹرچ نے اس پیش رفت پر تنقید کی، جب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ قطر میں غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کی واپسی کے لیے کام ہو رہا ہے۔اسرائیلی وزیر نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے ہتھیار ڈالنے” کا سودا سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جس معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے تباہی ہے۔












