امریکا:امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے عالمی منظر نامے کی تاریک تصویر کھینچی ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر صدر جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا ہیرس اقتدار میں رہے تو امریکا پر 11 ستمبر جیسے حملے ہو سکتے ہیں۔لنڈسے گراہم نے "فوکس نیوز سنڈے” پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں اسے قبل ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے حوالے سے اتنا فکر مند نہیں ہوا جتنا کہ اب ہوں۔ میں ایک بار پھر 11 ستمبر جیسے حملے ہونے کے حوالے سے اتنا زیادہ فکر مند نہیں تھا جتنا اب ہوں”۔انھوں نے مزید کہا کہ "افغانستان سے انخلا نے تمام دہشت گردوں کو سرگرم کر دیا ہے۔ مجھے نہیں یاد کہ ہمارے ملک میں اس وقت سے زیادہ دہشت گرد کبھی ہوں”۔گراہم کے مطابق ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کے لیے اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے ہمیں اس کو سراہنا چاہیے۔ گراہم نے خبردار کیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے تیزی دکھا سکتا ہے۔غیر سرکاری ادارے ‘دی فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ کا دعویٰ ہے کہ آئندہ جنوری میں نئے امریکی صدر کی حلف برداری سے قبل ایران جوہری بم بنا سکتا ہے۔گراہم نے بائیڈن انتظامیہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کو میزائل اور طیارے فراہم کرنے میں "سست روی” کا مظاہرہ کیا۔ گراہم کے مطابق بائیڈن کے پاس روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ نہیں ہے۔ میں زیلنسکی کو سنتا ہوں ، ان کے پاس ایک منصوبہ ہے جو تقریبا ایک ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔ اس وقت ہمیں ایک امریکی صدر کی ضرورت ہے جو پوتین اور زیلنسکی کو ایک کمرے میں اکٹھا کر سکے تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جا سکے۔بائیڈن نے گذشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر سے ملاقات کی تھی۔












