لکھنؤ، ( یو این آئی) اتر پردیش میں خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) 2026 کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رنوا نے آج حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس مہم کے دوران ریاست بھر میں ووٹر لسٹوں سے 2 کروڑ سے زائد غیر متعلقہ ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔نودیپ رنوا کے مطابق یہ مہم ملک بھر میں ایک ساتھ چلائی گئی۔یہ عمل ملک بھر میں بیک وقت انجام دیا گیا۔ ان کے مطابق گنتی کا مرحلہ 4 نومبر 2025 سے 26 دسمبر 2025 تک جاری رہا، جبکہ دعووں اور اعتراضات کے لیے 6 جنوری سے 6 مارچ 2026 تک کا وقت دیا گیا، اور 27 مارچ تک تمام درخواستوں کا ازالہ کر دیا گیا۔کے۔نودیپ رنوا کے مطابق اس مہم میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، بوتھ لیول ایجنٹس اور عوام نے بھرپور تعاون کیا، جبکہ میڈیا نے بھی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔166 دنوں تک جاری رہنے والی اس مہم میں ریاست کے تمام 75 اضلاع کے افسران سمیت ہزاروں انتخابی اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اعداد و شمار کے مطابق حتمی فہرست میں کل ووٹرز کی تعداد 13,39,84,792 ہے، جن میں مرد ووٹرز 54.54 فیصد(7,30,71,061) اور خواتین 45.46 فیصد (6,09,09,525) ہیں۔ مسودہ فہرست (6 جنوری 2026) میں 12,55,56,025 ووٹرز شامل تھے، جن میں مرد 54.83 فیصد (6,88,43,159)، خواتین 45.17 فیصد (5,67,08,747)اور 4,119 تیسری جنس کے ووٹرز شامل تھے۔ 18-19 سال کے نئے ووٹرز کی تعداد 3,33,981 رہی ۔ووٹرز کی تعداد میں اضافے کے لحاظ سے پریاگ راج، لکھنؤ، بریلی، غازی آباد اور جونپور سرفہرست رہے۔ جبکہ اسمبلی حلقوں میں صاحب آباد، لکھنؤ ویسٹ اور فیروز آباد میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ریاست کے تمام 75 اضلاع کے انتخابی افسران اور 403 رجسٹریشن افسران نے حصہ لیا۔1.77 لاکھ سے زائد بی ایل اوز اور 18 ہزار سے زائد سپروائزر اس مہم میں متحرک رہے۔تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور میڈیا نے بیداری پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس وسیع مہم کے دوران ریاست میں دو کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر نویدیپ رنوا نے بتایا کہ حتمی ووٹر لسٹ 10 اپریل 2026 کو جاری کر دی گئی ہے۔ یہ عمل پورے ملک میں بیک وقت انجام دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں گنتی کا مرحلہ 4 نومبر 2025 سے 26 دسمبر 2025 تک جاری رہا، جبکہ دعووں اور اعتراضات کے لیے 6 جنوری سے 6 مارچ 2026 تک کا وقت دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 27 مارچ تک تمام دعووں اور اعتراضات کا تصفیہ کر دیا گیا۔ رنوا نے کہا کہ کوئی بھی ووٹر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپنا نام چیک کر سکتا ہے۔ جن افراد کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے، وہ فارم-6 بھر کر دوبارہ رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، بوتھ لیول ایجنٹس اور عام عوام کا بھرپور تعاون حاصل ہوا۔ اس کے ساتھ ہی پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نے بھی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 166 دن تک جاری رہنے والی اس مہم کو کامیاب بنانے میں ریاست کے تمام 75 اضلاع کے ضلعی الیکشن افسران، 403 الیکٹورل رجسٹریشن افسران، 12,758 معاون افسران، 18,026 بی ایل او سپروائزرز اور 1,77,516 بی ایل اوز نے فعال کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ 5,82,877 بوتھ لیول ایجنٹس نے بھی تعاون فراہم کیا۔ رنوا کے مطابق حتمی ووٹر لسٹ میں کل ووٹروں کی تعداد 13,39,84,792 ہے، جن میں مرد ووٹرز 7,30,71,061 (54.54 فیصد) اور خواتین ووٹرز 6,09,09,525 (45.46 فیصد) ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 6 جنوری 2026 کو جاری کردہ مسودہ فہرست میں کل 12,55,56,025 ووٹرز شامل تھے، جن میں 6,88,43,159 مرد (54.83 فیصد)، 5,67,08,747 خواتین (45.17 فیصد) اور 4,119 خواجہ سرا ووٹرز شامل تھے۔ 18-19 سال کی عمر کے ووٹروں کی تعداد 3,33,981 رہی، جبکہ جینڈر ریشو 824 درج کیا گیا۔












