عامر سلیم خان
نئی دہلی : سماج نیوز سروس:ملکی تاریخ کے سانحات کو دوہراکر دو اقلیتوں میں دراڑ پیدا کرنے کاایک بڑا کھیل سامنے آنے والا ہے۔ مرکزی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ مغل دور اقتدار میں شہید کئے گئے سکھ طبقے کے گرو گوبند سنگھ جی کے دو صاحبزادوں کے یوم شہادت کو بطور ’ بال دیوس‘ منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں آج قومی اقلیتی کمیشن نے ایک میٹنگ طلب کرکے سکھ طبقے کے دانشوروں سے ’ بال دیوس‘ منائے جانے کیلئے تجاویز طلب کیں۔ میٹنگ میں قومی اقلیتی کمیشن چیئرمین اقبال سنگھ لالپورہ سمیت دیگراہم شرکاءمیں کمیشن کی رکن محترمہ رنچن لہمواور کمیشن کے دیگر سینئر عہدیداران موجود تھے۔ کمیشن چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ مغل دور میں شہید گرو گوبند جی کے دو صاحبزادگان صاحبزادہ زوراور سنگھ جی اور صاحبزادہ فتح سنگھ جی کی شہادت کے موقع پر 26 دسمبر کو ویر بال دیوس کے طور پر منایا جائے گا۔ 26 دسمبر 1704 کوقید کے دوران دیواروں میں زندہ چنوا کرکے سرہند میں شہید کیا گیا تھا۔ اس عظیم تقریب کو مزید بامقصد بنانے کےلئے اقلیتی کمیشن نے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور دانشوروں کو اپنی تجاویز پیش کرنے کےلئے مدعو کیا ہے ۔
قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب اقبال سنگھ لال پورہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 26 دسمبر کو ویر بال دیوس کے طور پر منانے کے فیصلے کی ستائش کی۔ پی ایم مودی جی کے تئیں اظہار تشکر کرتے ہوئے، این سی ایم چیئرمین نے کہاکہ”ہم 26 دسمبر کو ویر بال دیوس کے طور پر مناتے ہوئے گرو گوبند سنگھ جی کے چار صاحبزادوں کی عظیم قربانی کا اعتراف کرنے کےلئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا کہ ”صاحبزادوں کی شہادت کو 318 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ہم نے ابھی تک ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کسی ادارے کا نام ان کے نام سے منسوب نہیں کیا۔ ہمیں اس سمت میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ صاحبزادوں کے نام پر قومی بہادری ایوارڈ کا قیام بھی کیا جانا چاہئے۔ صاحبزادوں کی کہانی کوبھارت اور پوری دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔
قومی اقلیتی کمیشن کے پریس بیان کے مطابق اقلیتوں کے قومی کمیشن کو 26 دسمبر 2022 کو’ویر بال دیوس‘کے بامعنی منانے کےلئے مختلف تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ زیادہ تر تجاویز ملک بھر میں صاحبزادوں کی قربانیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، ادب اور ثقافت کا استعمال کرنے، اسکولوں کے نصاب میں صاحبزادوں کی کہانی کو شامل کرنے اور بھارت کی تمام زبانوں اور ریاستوں میں طلبہ کے درمیان مزاحیہ اور مختصر فلموں کے ذریعہ اس کی تشہیر کرنے پر مرکوز تھیں۔بہرحال اس طرح کے اور کئی سانحات تاریخ کے اوراق میں درج ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ سرکار نے اس وقت گروگوبند سنگھ جی کے سانحہ کو سامنے لانے کا فیصلہ کیوں کیا ہے؟۔ ایسے میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دیش کی آزادی کی پہلی جنگ میںسال 1857 میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے متعدد صاحبزادوں کو ان کے سامنے انگریزوں نے گولیوں سے بھون دیا تھا، لیکن آج تک اس پہلی جنگ آزادی کے ہیرو¿ں کی کوئی یادگار نہیں منائی گئی ہے۔












