واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ وینزویلا کی عبوری حکومت گزشتہ ہفتے کی کارروائی کے بعد، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا گیا، پابندیوں کے تحت آنے والا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تیل امریکہ کو منتقل کرے گی۔یہ تیل بازار کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس کی آمدنی امریکی حکومت کے کنٹرول میں رہے گی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹیز اعلیٰ معیار کا پابندیوں کے تحت آنے والا 3 سے 5 کروڑ بیرل تیل امریکہ کو منتقل کریں گی۔”ٹرمپ کے مطابق اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے وینزویلا اور امریکہ دونوں کے شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے لکھا کہ "یہ تیل اپنی مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس رقم کو میں، بطور صدرِ امریکی، کنٹرول کروں گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسے وینزویلا اور امریکہ کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکے۔”ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں توانائی کے وزیر کرس رائٹ کو ہدایت دی کہ اس منصوبے پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے۔ تیل کو ذخیرہ کرنے والے جہازوں کے ذریعہ براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔یہ اعلان اس کارروائی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی فوج نے ہفتہ (3 جنوری) کو "بڑے پیمانے پر کارروائی” کی اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتہ کی شام نیویارک لایا گیا اور وہ اس وقت بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں ہیں۔امریکی ضلع عدالت (سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک) میں دائر نئی فردِ جرم، جسے اٹارنی جنرل پام بونڈی نے شیئر کیا، میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مادورو نے "ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے گروہوں” کو چلایا اور ملک میں منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت فراہم کی۔کارروائی کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مسٹر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے بگڑتے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔انہوں نے مادورو حکومت کے تحت برسوں کی بدانتظامی کے نتیجے میں ملک کے پٹرولیم کے شعبے کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا ۔












